ادھار پر اضافی رقم لینا کیسا
    تاریخ: 19 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 34
    حوالہ: 423

    سوال

    وراثت کی زمین تھی مگر تمام وارثین میں تقسیم کرنے کیلئے گورنمنٹ کے کچھ کاغذات کلیئر کروانے تھے جس میں 7 سے 8 لاکھ روپے کا خرچہ ہے۔ہمارے پاس پیسے موجود نہیں تھے تو ہم نے ایک شخص سے ادھار رقم لی لیکن اس نے ادھار سے زائد رقم کی شرط رکھی۔ہم نے وہ ادھار لے لیا ہے، سوال یہ ہے کہ اس ادھار پر اضافی پروفٹ دینا درست ہے؟

    سائل:حاجی ابو بکر،کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ادھار پر اضافی رقم دینا ناجائز و حرام ہے کہ یہ قرض پر نفع ہے جو بحکمِ حدیث سود ہے،لہذا جو ادھار لیا اتنا ہی واپس کیا جائے گا ،اضافی رقم دیناولینا دونوں ناجائز ہے۔

    قرض پرمشروط نفع سود ہوتا ہے۔حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"کل قرض جرمنفعة فھو ربا".ترجمہ:ہر وہ قرض، جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے ۔ (کنز العمال،16/238،رقم:15516،بیروت)

    اورسود کی حرمت کے بارے میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:لَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا.ترجمہ:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے،مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔(البقرۃ: 275)

    جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح دینا بھی حرام ہے،چنانچہ علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"ما حرم أخذه حرم إعطاؤه كالربا".ترجمہ:جس کا لینا حرام ہے، اس کا دینا بھی حرام ہےجیسے سود۔(الاشباہ والنظائر، الفن الاول، القاعدۃ الرابعۃ عشرۃ، 1/132، دار الکتب العلمیۃ بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے ایک سوال ہوا جس میں یہ الفاظ بھی موجود ہیں:”اس وقت زید سے بکر نے کہا کہ اگر اس وقت پندرہ سو روپے دو تو میں لے لوں اور تجارت میں لگادوں اور چار سال میں اگر روپیہ ادا ہوا تو منافع لوں گا“تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:”صورت مستفسرہ میں وہ منافع قطعی سود اور حرام ہیں حدیث میں ہے:”کل قرض جرمنفعۃ فھو ربا“ قرض سے جو نفع حاصل کیا جائے وہ سو دہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،19/561،رضا فاؤندیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:26 شوال المکرم 1445 ھ/6 مئی 2024ء