طلاق، طلاق، طلاق کہنے کا حکم
    تاریخ: 27 نومبر، 2025
    مشاہدات: 29
    حوالہ: 293

    سوال

    میری بیٹی کو داماد نے یہ کہہ کر طلاق دی کہ تیرےاور تیری ماں کے کہنے پرمیں نے یہ الفاظ کہے کہ میرا دل تو نہیں تھا چھوڑنے کا اب آپ بتائیں کہ داماد نے یہ کہا طلاق طلاق طلاق اللہ حافظ۔۔

    فون پر یہ الفاظ کہے بتائیے کہ بیٹی کو طلاق ہو گئی ۔

    سائلہ:کرن/کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں شوہر کےاس جملہ " طلاق طلاق طلاق"سےآپ کی بیٹی کو تین مغلظ طلاقوں کے ساتھ شوہر پر حرام ہو چکی ہے۔خاتون پر لازم ہے کہ شوہر سے ہرقسم کا ازدواجی تعلق ختم کر دے اور اپنی عدت مکمل کرے ۔

    اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق دینے کے لیےبیوی کی طرف طلاق کی اضافت کرنا شرط ہے خواہ یہ اضافت لفظوں میں ہو یانیت میں ۔لفظوں میں اضافت کی تین صورتیں ہیں ۔

    (1) اضافت صراحت کے ساتھ لفظوں میں موجود جیسے میں نےتجھے طلاق دی۔

    (2)طلاق کے الفاظ جس کلام کے جواب میں واقع ہوئے اس کلام میں اضافت موجود تھی تو وہ اضافت جواب میں بھی متحقق ہوگی کیوں کہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے۔جسے بیوی شوہر سے کہے کہ مجھے طلاق دے دو تو جواب میں شوہر کہے دے دی ۔ تاہم اس میں یہ ضرور ہے کہ الفاظ طلاق سے پہلے اجنبی چیز کا ذکر نہ ہو نا ہی ایسا فعل سر زد ہو جوالفاظ طلاق کوجواب کی بجائے رد پر محمول کر دے ۔

    (3)عرف میں الفاظِ طلاق کے ساتھ اضافت مختص سمجھی جاتی ہو کہ شوہرجب بھی وہ الفاظ بولے تو ان سے بیوی کو طلاق دینا ہی سمجھا جاتا ہوجیسے عربی لفظ علی الطلاق ترجمہ :مجھ پر طلاق لازم ہے۔

    ان تینوں قسموں میں شوہر سے نیت پوچھے بغیر طلاق کا حکم دیا جائے گا کہ ان میں نیت متعین ہے ۔

    سوال میں مذکورہ صورت(طلاق،طلاق،طلاق) کا تعلق آخری قسم سے ہے کہ فی زمانہ یہ جملہ بیوی کو طلاق دینے کے واسطے ہی بولا جاتا ہے لہذا عرفا ً نسبت و اضافت اس جملہ کے خاص ہو گئی ۔اور جہاں نسبت واضافتکا وجود عرفاً معتبر مان لیا جائے وہاں پر شوہر سے نیت نہیں پوچھی جاتی کہ اس جملہ سے تم نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی یا نہیں بلکہ بغیر نیت پوچھے طلاق کا حکم دیا جائے گا اس لیے کہ المعروف کالملفوظ۔معروف ملفوظ کی طرح ہے۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ الشریف نے اضافت ونسبت پر اپنی معرکۃ الآراء بحث میں عرفی اضافت کی بابت فرماتے ہیں: الثالث ان لایشتمل کلامہ علی الاضافۃ ولایکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصّہ العرف بتطلیق امرأۃ فحیث یطلق یفھم منہ ایقاع الطلاق علی المرأۃ کقولھم الطلاق یلزمنی والحرام یلزمنی وعلی الطلاق وعلی الحرام فانہ کما قال فی ردالمحتار صارفاشیا فی العرف فی استعمالہ فی الطلاق لایعرفون من صیغ الطلاق غیرہ ولایحلف بہ الا الرجل فھھناوان لم تذکر الاضافۃ لفظا لکنھا ثابتۃ عرفا والمعھود عرفا کالموجود لفظا فمن ھٰھنا وجدت الاضافۃ فی اللفظ وحکم بالوقوع من دون نیۃ ۔ترجمہ:لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ شوہر کا کلام اضافت پر مشتمل نہ ہو نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر واقع ہوا ہوالبتہ عرف نے وہ لفظ بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا ہو کہ جب شوہر (اس لفظ کے ذریعے) طلاق دے تو اس سے عورت کو طلاق دینا ہی سمجھا جائے ۔ مثلاً کوئی کہے''طلاق مجھ پرلازم ہوگی''یا ''حرام مجھ پر لازم ہوگا'' یا ''مجھ پر طلاق ہے'' یا ''مجھ پر حرام ہے'' جیسا کہ علامہ شامی نےردالمحتار میں فرمایاکہ ان الفاظ کا عرفا بیوی کو طلاق میں استعمال ہونا مشہور ہوچکا ہے یہاں تک کہ لوگ (ان )طلاق کے صیغوں سے طلاق کےعلاوہ (کوئی دوسرا مفہوم )نہیں سمجھتے اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں۔پس یہاں پر اگرچہ اضافت لفظوں میں مذکور نہیں، لیکن عرفاً اضافت ثابت ہے، اورجو چیز عرفاً معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے پس ایسے مقامات پر (گویا)اضافت لفظوں میں پائی گئی لہذا وقوع ِطلاق کا حکم نیت کے بغیر دیا جائے گا۔(فتاوی رضویہ جلد 12،صفحہ 350فتوی نمبر 121،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اشکا ل اور اس کا جواب

    امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے تو طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا ہے ؟آپ علیہ الرحمہ نے اپنے دور کے لحاظ سے نسبت و اضافت کی نیت کو ضروری قرار دیا تھا کہ اس زمانہ میں اس طرح کے جملہ میں اضافت عرفاً نہیں سمجھی جاتی تھی جبکہ ہمارے زمانہ میں سمجھی جاتی ہےلہذا بغیر نیت کے طلاق ہو گی ۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 29صفرالمظفر 1444 ھ/16ستمبر 2023 ھ