قرض خواہ کو زکوۃ دینا
    تاریخ: 23 فروری، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 843

    سوال

    محترم قبلہ السلام علیکم

    میں نے بینک سے سود پر انتہائی مجبوری میں قرض لیا تھا ، لیکن اسے ادا نہیں کر پا رہاہوں س، بینک والے بہت تنگ کرتے ہیں۔میرے اتنے وسائل نہیں ہیں کہ میں قرض ادا کرسکوں میں بہت پریشان ہوں ، اور اپنے اس گناہ پر شرمندہ بھی ہوں۔اگر کوئی شخص اپنی زکوۃ سے صرف اور صرف میرا یہ قرضہ ادا کرنے کے لیے راضی ہوجائے تو کیا میں قرض یہ قرض اتار سکتا ہوں ۔ برائے مہربانی میری راہنما ئی فرمادیں ۔

    سائل: تشکیر محمد خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اللہ تعالیٰ نے مصارف زکوۃ یعنی جن لوگوں کو زکوۃ دی جاسکتی ہے ان کا بیان قرآن مجید میں فرمادیا ہے،جس میں قرضدار بھی شامل ہے ۔

    ارشاد باری تعالیٰ ہے :اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِیۡنِ وَ الْعٰمِلِیۡنَ عَلَیۡہَا وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِیۡنَ وَفِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ؕ فَرِیۡضَۃً مِّنَ اللہِ ؕ وَاللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ :ترجمہ: زکوٰۃ تو انہیں لوگوں کے لئے ہے جو محتاج اور نرے نادار اور جو اسے تحصیل کرکے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللّٰہ کی راہ میں اور مسافر کو یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللّٰہ کا اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے ۔

    تنویر الابصار کتاب الزکوۃ باب المصرف جلد 3 ص 289 میں ہے:وَمَدْيُونٌ لَا يَمْلِكُ نِصَابًا فَاضِلًا عَنْ دَيْنِهِ وَفِي الظَّهِيرِيَّةِ: الدَّفْعُ لِلْمَدْيُونِ أَوْلَى مِنْهُ لِلْفَقِيرِ.ترجمہ:اور (زکوۃ کاایک مصرف ) قرض دار ہے یعنی اس پر اتنا قرض ہو کہ وہ قرض نکالنے کے بعد وہ نصاب کا مالک نہ رہے ، اور ظہیریہ میں ہے کہ فقیر کو زکوۃ دینے سے بہتر ہے کہ قرضدار کو زکوۃ دے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کے معاملات ایسے ہی ہیں جیسا سوال میں مذکور ہوا تو آپ زکوۃ لے سکتے ہیں ۔ اور ایسا بھی ممکن ہے کہ کوئی شخص آپ کی اجازت سے آپ کی طرف سے زکوۃ ،قرض کی ادائیگی کی مد میں ادا کردے ۔جیسا کہ تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الزکوۃ باب المصرف ج3ص 291،292میں ہے:أَمَّا دَيْنُ الْحَيِّ الْفَقِيرِ فَيَجُوزُ لَوْ بِأَمْرِهِ، وَلَوْ أَذِنَ فَمَاتَ فَإِطْلَاقُ الْكِتَابِ يُفِيدُ عَدَمَ الْجَوَازِ وَهُوَ الْوَجْهُ:ترجمہ:۔حاجت مند شخص کا قرض اسکی اجازت کے ساتھ ادا کرنا جائز ہے،اور اگر وہ اجازت دے دے پھر مر جائے تو کتاب کا اطلاق اس کے عدم جواز کا فائدہ کرتا ہے اور یہی درست ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ آپ خود زکوۃ کی رقم لے کر یا پھر کوئی شخص زکوۃ سے آپکی اجازت و حکم سے آپکی طرف سے آپکا قرض ادا کرسکتے ہیں،

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی