ticket kharid kar ki jane wali qurah andazi lottery ka shari hukm
سوال
تقریباً آٹھ سو (800) افراد نے ایک قرعہ اندازی میں حصہ لیا۔ ہر بندے نے ایک ٹکٹ 200 روپے کا خریدا کسی نے پانچ کسی نے دس ٹکٹ خریدے۔قرعہ اندازی میں ایک موٹر سائیکل، دو عدد موبائل فون، سمارٹ واچ، واشنگ مشین اور اس کے علاوہ دیگر انعامات ہوتے ہیں۔یہ انعامات بعض افراد کو ملتے ہیں اور دیگر اکثر لوگ محروم رہ جاتے ہیں، انہیں کچھ نہیں ملتا۔معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا یہ قرعہ اندازی شریعت کے مطابق درست ہے یا نہیں؟کیا ملنے والا انعام لینا درست ہے یا ناجائز؟اگر انعام نکل آئے تو اب اس کا کیا کرے؟
سائل: عبد القادر لطیف۔بمعرفت مفتی احمد امین نوری صاحب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ایسی قرعہ اندازی شرعاً ناجائز و حرام ہے کہ یہ صریح قمار (جوا ) اور غرر پر مشتمل ہے جس میں ٹکٹ کے نام پر پیسے لئے جاتے ہیں اور نام نہ نکلنے پر وہ رقم ڈوب جاتی ہے اور واپس نہیں کی جاتی۔مسلمانوں کو ان قرعہ اندازیوں سے بچنا لازم ہے۔ اس طور پر ملنے والا انعام لینا بھی حلال نہیں ۔ اگر کسی کو ایسا انعام مل جائے تو اصل مالکان کو لوٹانے کے لئے اس قرعہ اندازی کے منتظم کو سپرد کرے اور تمام شرکاء کو اس کی اطلاع کردے۔
شریعت مطہرہ میں قمار (جوے) سے مراد مال کو خطرِ عدم (رقم ڈوبنے اور بدلے میں کچھ نہ ملنے) پر پیش کرنا ہے؛ جیسے یہ کہنا کہ گیند پتھر پر لگی تو بیس ہزار ملیں گے ورنہ تمہارے دس ہزار میرے ہوئے۔ اس کے برعکس عام تجارت میں رقم کے عوض مبیع (چیز) حاصل ہو جاتی ہے جس سے سرمایہ ضائع نہیں ہوتا۔ اور قمار کی حرمت پر نص قرآنی وارد ہے۔
چنانچہ؛اللہ عزوجل ارشادفرماتاہے : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. ترجمہ:اے ایمان والو!شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں ، شیطانی کام، تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔(المائدۃ:90)
احادیث مبارکہ میں بھی جوئے کی سخت مذمت بیان ہوئی، المعجم الکبیر میں ہے: "من لعب بالمیسر، ثم قام یصلی فمثلہ کمثل الذی یتوضأ بالقیح ودم الخنزیر ، فتقول اللہ یقبل لہ صلاۃ ".ترجمہ: جو جوا کھیلے ، پھر نماز کے لئے کھڑا ہو ، تو اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے ، جو پیپ اور خنزیر کے خون سے وضو کرتا ہے ، تو تُو یہ کہے گا کہ اللہ عزجل اس بندے کی نماز قبول فرمائے گا ۔(یعنی جس طرح دوسرے بندے کی نماز قبول نہیں ، اسی طرح جوا کھیلنے والے کی بھی قبول نہیں )۔ (المعجم الکبیرللطبرانی،مسند من یعرف بالکنی،22/292، القاهرۃ)
السنن الکبری للبیہقی کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "إن اللہ حرم علیکم الخمر والمیسر والکوبۃ وقال کل مسکر حرام ".ترجمہ:اﷲتعالیٰ نے شراب اور جوا اور کوبہ (ڈھول)حرام کیا ہے اور فرمایا:ہر نشے والی چیز حرام ہے۔ (السنن الکبری للبیهقی،10/360،دار الکتب العلمیۃ)
احمد بن علی ابو بکر الرازی الجصاص الحنفی (المتوفی:370ھ) فرماتے ہیں: "ولا خلاف بین اھل العلم فی تحریم القمار".ترجمہ:قمار(یعنی جوئے )کے حرام ہونے میں اہل علم کاکوئی اختلاف نہیں ہے ۔
(احکام القرآن للجصاص،2/11،داراحیاء التراث العربی بیروت)
قمار (جوے) کے معنی میں علامہ میر سید علی بن محمد الشريف الجرجانی (المتوفى: 816ھ) فرماتے ہیں: " كل لعب يشترط فيه غالبًا من المتغالبين شيئًا من المغلوب".ترجمہ: ہر وہ کھیل جس میں یہ شر ط ہو کہ مغلوب (یعنی ناکام ہونے والے)کی کوئی چیز غالب(یعنی کامیاب ہونے والے )کو دی جائے گی یہ قمار (یعنی جُوا) ہے۔ (التعریفات،باب القاف،1/179،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) فرماتے ہیں: "القمارمشتق من القمر الذی یزداد وینقص سمی القمار قماراً لا ن کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذهب مالہ الی صاحبہ ویستفیدمال صاحبہ فیزداد مال کل واحد منهما مرۃ وینتقص اخری فاذا کان المال مشروطاً من الجانبین کان قماراً والقمار حرام ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر وانہ لا یجوز".ترجمہ:قمارقمر سےمشتق(نکلا)ہے۔قمر وہ ہوتا ہے، جو بڑھتا اور گھٹتا رہتا ہے۔ اسے قمار اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ مقامرین (جواکھیلنےوالوں)میں سے ہر ایک کوشش کرتا ہے کہ اپنے صاحب کا مال لے جائے اور دوسرے کے مال سے فائدہ حاصل کرے ، پس ان میں سے ہرایک کا کبھی مال بڑھ جاتاہے اور کبھی کم ہو جاتا ہے ،پس جب مال جانبین سے مشروط ہو، تو اسے قمار کہا جاتا ہے اور قمارحرام ہے اور اس لئے کہ اس میں مال کو حاصل کرنے میں خطرے پر معلق کرنا پایا جاتا ہے اور یہ ناجائز ہے۔(المحیط البرهانی فی الفقہ النعمانی ،5/323،دارالکتب العلمیۃ)
اسی طرح علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: " الْقِمَارَ هُوَ الَّذِی یسْتَوِی فِیهِ الْجَانِبَانِ فِی احْتِمَالِ الْغَرَامَةِ".ترجمہ: قمار وہ معاملہ ہے جس میں دونوں فریقین کو نقصان پہنچنے کا احتمال برابر ہو۔ (رد المحتار،کتاب الحظر والباحۃ، 6/ 403،دار الفکر)
مزید آپ ہی فرماتے ہیں: "وحاصله أنه تمليك على سبيل المخاطرة". ترجمہ: اور اس (قمار) کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کسی چیز کو خطرے کی بنیاد پر دوسرے کی ملکیت میں دینا ہے۔ (رد المحتار ، کتاب الحظر والاباحۃ، 5/257، دار الفکر، بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’اس میں جہالت قدر ثمن لازم آئندہ اورخاصہ قمار ہے کہ بائع مشتری کے لئے ایک آئندہ نامعلوم صورت میں کہ خدا جانے کس طرح واقع ہوگی ہارجیت بدی (بدل)گئی ہے اور قمار بنص قطعی قرآن حرام ہے ‘‘۔(فتاویٰ رضویہ، 17/161، رضا فاؤنڈیشن، لاہور) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:5 صفر المظفر 1448ھ/21 جولائی 2026ء