سوال
ایک ماہ پہلے ایک نکاح ہوا۔لڑکے سے پوچھا گیا کہ آپ درود ،فاتحہ ،بزرگ گان دین وغیرہ خصوصا ختم نبوت پر اعتقاد رکھتے ہیں ؟لڑکے نے اثبات میں جواب دیا ۔
اب لرکے کے کی طرف سے یہ انکشاف سامنے آیا کہ وہ ریاض گوہر شاہی کو امام مہدی مانتا ہے اور اپنے باطل عقیدے سے پیچھے ہٹنے کے لیے ہر گز تیار نہیں ۔کیا یہ رشتہ برقرار رکھا جا سکتا ہے یا علیحدگی ضروری ہے ؟رہنمائی فرمائیں!
سائل:افسر الدین،منگو پیر کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گوہرشاہی کو اس کے گمراہ کن ،زندقانہ عقائد و نظریات کی بنا علمائے اہلسنت نے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا ہے ۔اسی طرح اس کے متبعین و متعلقین بھی خارج از اسلامہیں بلکہ اس کے متبعین تو کفر میں اس سے بھی دو قدم آگے نکلے ہیں ۔لہذا ایک سنی صحیح العقیدہ لڑکی کا نکاح گوہری لڑکے سے ناجائز و حرام ہے ۔ پوچھی گئی صورت میںیہ نکاح اصلاً منعقد ہی نہیں ہوا ،لہذا شرعی لحاظ سے طلاق یا خلع کی بھی حاجت نہیں ۔
البتہ قانون چارہ جوئی کے پیش نظر کسی طرح سےطلاق یا خلع حاصل کر لیں تاکہ آگے نکاح کا اندراج کروانے میں مسائل نہ ہوں۔
ریاض احمد گوہر شاہی کے کفریات ملاحظہ ہوں:
1:۔نماز، روزہ ،زکوٰ ۃ اورحج کو اسلام کے وقتی رکن کہا گیا ہے کہ روزانہ پانچ ہزار مرتبہ عوام ،پچیس ہزار مرتبہ امام اور بہتر ہزار مرتبہ اولیاءکرام کو ذکر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ہر درجہ کے ذکر کے بغیر نماز بے فائدہ ہے اگرچہ سجدوں سے کمر کیوں نہ ٹیڑھی ہوجائے ۔(بحوالہ :کتاب :روشناس صفحہ نمبر 3)
2:۔ حضرت آدم علیہ السلام نفس کی شرارت سے اپنی ورا ثت یعنی جنت سے نکال کر عالم نا موت جو جنات کا عالم تھا پھینکے گئے ۔(معاذاللہ )(بحوالہ :کتاب :روشناس صفحہ 8 )
3:۔حضرت آدم علیہ السلام پر یوں بہتان باندھا ہے کہ آپ جب اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے نام کیساتھ لکھا دیکھا تو خیال ہوا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں ۔جواب آیا کہ تمہاری اولاد میں سے ہوں گے ۔نفس نے اُکسایا کہ یہ تیری اولا دمیں ہوکر تجھ سے بڑھ جائیں گے یہ ”بے انصافی “ہے اس خیال کے بعد آپ کو دوبارہ سزاد ی گئی۔(معاذ اللہ )(بحوالہ :کتاب :روشناس صفحہ نمبر 9)
4:۔ قادیانیوں اور مرزا ئیوں کو مسلمان کہا ہے البتہ جھوٹے نبی کو مان کر اصلی نبی کی شفاعت سے محروم کہا ہے ۔(بحوالہ :کتاب :روشناس صفحہ نمبر 10)
5:۔ اللہ تعالیٰ کا خیال ثابت کرکے اس کے علم کی نفی کی ہے ایک دن اللہ تعالیٰ کے دل میں خیال آیا کہ میں خود کو دیکھوں سامنے جو عکس پڑا تو ایک روح بن گئی اللہ اس پر عاشق اور وہ اللہ پر عاشق ہوگئی ۔(معاذاللہ )(بحوالہ :کتاب :روشناس صفحہ نمبر20)
6:۔ حضرت آدم علیہ السلام کی شدید ترین گستاخی اور اخیر میں ان پر شیطانی خور ہونے کا الزام لگایا ہے ۔(معاذاللہ )(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر 8 )
7:۔ ذکر کو نماز پر فضیلت دی ۔ذکر کا نیا طریقہ نکالا اور قرآنی آیت کے مفہوم کو بگاڑ کر اپنے باطل نظریہ پر استد لال کیا ہے ۔(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر17)
8:۔جب تک حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کسی کو نصیب نہ ہو اسکا امتّی ہونا ثابت نہیں ۔ (بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر24)
9:۔قرآن مجید کی آیت کا جھوٹا حوالہ دیا گیا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے باربار ”دع نفسک و تعالیٰ “فرمایا ہے حالانکہ پورے قرآن مجید میں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان وارد نہیں ہوا۔ (معاذاللہ )(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر29)
10:۔ علماءکی شان میں شدید ترین گستاخیاں کی گئی ہیں ایک آیت کہ جو کہ یہود سے متعلق ہے علماءو مشائخ پر چسپاں کیا ہے ۔ (بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر30,31) عقیدہ :حضرت خضر علیہ السلام اور ان کے علم کی تو ہین کی گئی ہے ۔(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر35)
11:۔انبیاءکرام علیہم السلام دیدار الہٰی کو تر ستے ہیں اور یہ (اولیاءاُمّت )دیدار میں رہتے ہیں ولی نبی کا نعم البدل ہے ۔(معاذاللہ )(بحوالہ :کتاب :مینارہ نو ر صفحہ نمبر39)
12:۔ گوہر شاہی اپنی کتاب روحانی سفر کے صفحہ نمبر 49 تا 50 پر رقم طراز ہے : عبارت :اتنے میں اس نے سگریٹ سلگایا اور چرس کی بو اطراف میں پھیل گئی اور مجھے اس نفرت ہونے لگی ۔رات کو الہا می صورت پیدا ہوئی یہ شخص (یعنی چرسی )ان ہزاروں عابدوں ،زاہدوں اور عالموں سے بہتر ہے جو ہر نشے سے پر ہیز کر کے عبادت میں ہوشیار ہیں لیکن بخل ،حسد اور تکبّر انکا شعار ہے اور (چرس کا )نشہ اسکی عبادت ہے ۔(معاذ اللہ !بالکل ہی واضح طور پر نشہ کو صرف حلا ل ہی نہیں بلکہ عبادت ٹہرایا جا رہا ہے ۔)
13:۔ : میں دن کو کبھی کبھی اس عورت کے پاس چلا جاتا وہ بھی عجیب و غریب فقر کے قصّے سناتی اور کبھی کھانا بھی کھلا دیتی ۔(بحوالہ :روحانی سفر ص 34) عبارت :کہنے لگی آج رات کیسے آگئے ۔میں نے کہا پتہ نہیں اس نے سمجھا شاید آج کی اداو ¿ں سے مجھ پر قربان ہوگیا ہے اور میرے قریب ہو کر لیٹ گئی اور پھر سینے سے چمٹ گئی ۔(بحوالہ :کتاب : روحانی سفر ص 32)
اللہ تعالی کا فرمان ہے:لَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَتّٰى یُؤْمِنُوْاؕ-وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكُمْؕ-اُولٰٓىٕكَ یَدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ۚۖ-وَ اللّٰهُ یَدْعُوْۤا اِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِاِذْنِهٖۚ-وَ یُبَیِّنُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : و اور مشرکو ں کے نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیںاور بےشک مسلمان غلام مشرک سے اچھا اگرچہ وہ تمہیں بھاتاہو وہ دوزخ کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے اپنے حکم سے اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔(البقرۃ:221)
البحر الرائق میں شرح الوجیز کے حوالے سے ہے : وکل مذہب یکفر بہ معتقدہ فہو یحرم النکاح۔ترجمہ :اور ہر وہ مذہب جس کے معتقد کی تکفیر کی گئی ہو تو یہ (حکمِ تکفیر ان سے )نکاح کو حرام قرار دیتی ہے۔(البحر الرائق جلد03 صفحہ 110/، دار الكتاب الإسلامي)۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے : ولایجوز نکاح المجوسیات والوثنیات وکل مذہب یکفر بہ معتقدہ کذا فی فتح القدیر۔ترجمہ :مجوسیوں ،بت پرستوںاور ہرایسا مذہبجس کے معتقدین کی (اس مذہب کے باطل نظریات کی وجہ سے)تکفیر کی گئی ہو سے نکاح جائز نہیں ۔ (فتاویٰ ہندیہ،جلد 01صفحہ ، دار الفكر 281)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13رمضان المبارک 1443 ھ/15 اپریل 2022ء