سوال
1:ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کا کیا حکم ہے؟
2:جو شخص ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دے اسکا کیا حکم ہے؟
3:اور جو حضرات اس طرح کا فتویٰ لینے میں زوجین کی معاونت کرے اسکا کیا حکم ہے ؟
4:ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بعد زوجین کا اس فتویٰ کو بنیاد بنا کر ازدواجی تعلقات قائم کرنا کیسا ہے؟
سائل: محمد ظہور احمد :کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:مذہب حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی چاروں ائمہ کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوتی ہیں، چاہے ایک جملہ میں تین طلاق کا لفظ کہا مثلاً میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں یا الگ الگ جملوں میں کہا مثلاً میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، یا ایک مجلس یا دن میں تین طلاق دی بہر صورت تمام طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔
جیساکہ ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا :اذاقال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً۔جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478، مطبوعہ: قدیمی کتب خانہ،کراچی]
محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا:ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاً۔ترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔[فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ: 3/469، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت، لبنان]
عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے ’’مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابو حنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع: ترجمہ:جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کے اصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔[عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]
اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:اذاقال لامرأتہ’’ انت طالق وطالق وطالق‘‘ ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا ’’تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ۔[فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت]
اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔
2:۔ اگر تو کوئی شخص ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک طلاق واقع ہونے کا فتویٰ دے،اور وہ مذاہب اربعہ میں سے کسی ایک کی طرف خود کو منسوب کرتا ہےاورپھر ایسا فتویٰ دیتا ہے تو ایسا شخص حرام کا ارتکاب کرنے والا اور خواہشات نفسانیہ کا پیروکار ہے:چناچہ محمدبن مفلح بن محمدبن مفرج،أبوعبدالله،شمس الدين المقدسي الرامينى ثم الصالحي الحنبلي المتوفى: 763ھ الآداب الشرعية والمنح المرعية ج 1ص 163 میں تحریر کرتے ہیں:قَالَ الشَّيْخُ تَقِيُّ الدِّينِ - رَحِمَهُ اللَّهُ - بَعْدَ أَنْ ذَكَرَ الْمَسْأَلَةَ الْأُولَى مِنْ كَلَامِ ابْنِ حَمْدَانَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - هَذَا يُرَادُ بِهِ شَيْئَانِ أَحَدُهُمَا أَنَّ مَنْ الْتَزَمَ مَذْهَبًا مُعَيَّنًا ثُمَّ فَعَلَ خِلَافَهُ مِنْ غَيْرِ تَقْلِيدٍ لِعَالِمٍ آخَرَ أَفْتَاهُ وَلَا اسْتِدْلَالَ بِدَلِيلٍ يَقْتَضِي خِلَافَ ذَلِكَ وَمِنْ غَيْرِ عُذْرٍ شَرْعِيٍّ يُبِيحُ لَهُ مَا فَعَلَهُ فَإِنَّهُ يَكُونُ مُتَّبِعًا لِهَوَاهُ عَامِلًا بِغَيْرِ اجْتِهَادٍ وَلَا تَقْلِيدٍ فَاعِلًا لَلْمُحَرَّمِ بِغَيْرِ عُذْرٍ شَرْعِيٍّ وَهَذَا مُنْكَرٌ.ترجمہ:شیخ تقی الدین امام احمد بن حنبل کے کلام سے اخذ کرکے پہلے مسئلے کو ذکرکرنے کے بعد کہتے ہیں کہ اس سے دو چیزیں مراد ہیں پہلی یہ کہ جس شخص نے کسی معین مذہب کو اختیار کیا پھر اس مذہب کے بر خلاف کسی دوسرے عالم کی تقلید کے بغیر اس طرح کافتویٰ صادرکرے ،اورنہ وہ کسی ایسی دلیل سے استدلال کرسکتا ہو جو اس مذہب کے خلاف کا تقاضا کرے،اور یہ کام ایسے عذر شرعی کے بغیر کرے جس کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہو تو یہ شخص اپنی خواہشات کا پیروکار ہے ،بغیر اجتہاد و تقلید کے عمل کرنے والا ہے بغیر عذر شرعی کے حرام کام کا ارتکاب کرنے والا ہے،لہذا ایسے شخص کو روکا جائے گا۔(الآداب الشرعية والمنح المرعية ج 1ص 163)
اور اگر ایسا شخص کسی مذہب معین کا پیروکار نہیں یا تقلید کا از سر منکر ہے تو ایسا شخص بھی حرام کا مرتکب ،گمراہ ،بد دین اور بدعتی ہے۔ کیونکہ وہ بھی نفسانی خواہشات کا متبع اور اللہ کے حرام کردہ کو تاویل فاسدہ کے ساتھ حلال کرنے والا ہے ۔
اور تاویل فاسدہ از خود باطل ہے کیونکہ وہ حکم کو بغیر دلیل کےمرجوح پر محمول کرناہے۔تيسير التحرير جلد 1 ص 143 میں ہے: وَأما التَّأْوِيل الْفَاسِد فَهُوَ حمله على الْمَرْجُوح بِلَا دَلِيل، أَو بِدَلِيل مَرْجُوح،
ترجمہ: تاویل فاسد وہ حکم کو احتمال مرجوح پر بغیر دلیل کے یا دلیل مرجوح کے ذریعے محمول کرنا ہے۔
3:۔اور جو حضرات اس طرح کے فتاویٰ حاصل کرنے میں زوجین کی معاونت کریں وہ در حقیقت گناہ کے کام پر معاونت کررہے ہیں ، جبکہ قرآن مجید میں فرمان باری تعالیٰ ہے:وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ۔ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو بے شک اللّٰہ کا عذاب سخت ہے ۔
4:۔ اور ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے کے بعد زوجین کا اس فتویٰ کو بنیاد بنا کر ازدواجی تعلقات قائم کرنا سخت حرام ہے ، لیکن یہ زنا نہیں ہے، کیونکہ بہرحال یہ اختلافی مسئلہ ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 17ربیع الاول 1442 ھ/04 نومبر 2020 ء