سوال
میرے والد غلام محمد تقریباً 35 سال پہلے فوت ہوئے اس کے بعدمیرے ( شیخ محمد )کے چچا یار محمد نے غلام محمد کی بیوی یعنی میری والدہ سے شادی کی اس کے بعد یار محمد کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئی بیٹوں کے نام ، محمد جعفر ،محمد عاصم بیٹیوں کے نام ،حمیدہ، فوزیہ، ان دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کی پرورش میں نے کی ،اور شادی بھی میں نے کروائی ، میرا اپنا کاروبار ہے ان کی والد کی وراثت نہیں ہے تو اب میرے چچا زاد محمد جعفر ،عاصم ،اور ان کی دو بہنیں میرے اپنے کاروبار سے حصہ طلب کر رہے ہیں۔
1۔ آیا ان چاروں کا حق اس کاروبار میں ہے یا نہیں ،اور میں نے ان چار کی پرور ش کی شادی کرائی تو ان کا جتنا خرچہ آیا کیا میں ان سے لے سکتا ہوں (شادی کے وقت کوئی بھی نیت نہیں بلکہ بطور احسان کے دیا )،میرا کاروبار اپنا ہے ان کے والد یا دادا سے یہ کاروبار وراثت میں نہیں ملی ؟
2۔کاروبا ر کے لیے ان چچا زاد کو دوبار نقد رقم دی کہا یہ کاروبار کرویہ رقم مجھے دے دینا،دس ہزار ڈالر دیے اس وقت کی مالیت ان کی 14 لاکھ روپے تھی اور پا نچ لاکھ روپے قرض دیا ،پھر کسی دوسرے سے قرض لے کر دیا جو میں نے ادا کیا اس کی رقم 25000لاکھ تھی آدھے میں نے بھرے اور آدھے اس نے بھرے جس سے کاروبار کے لیے لیےتھے یہ قرض کیرقم بھی واپس نہیں دے رہے ؟
3۔میں نے ماں کو سونا لے کرہبہ کر د(بطور امانت کے نہ دیا)یا تھا دس تولے (ماں نے اس پہ قبضہ بھی کر لیا ) پھر ماں فوت ہوگئی اس سے مجھے کچھ نہ دیا ،ان تمام سوالات کے بارے میں میری شرعی رہنمائی فرمائیں؟
سائل:شیخ محمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے تومذکورہ بالا سوالات کے جوابات مندرجہ ذیل ہیں ۔
1۔ چچا زاد بہن بھائیوں کا شیخ محمد کےذاتیکاروبار میں حصے کا تقاضا کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ اس میں چچا زاد بہن بھائیوں کی ملکیت نہیں ہے نہ اختیاری طور پر اور نہ ہی اضطراری طور پر۔اسکی تفصیل یہ ہے کہ ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے،جیسے بیع(خرید وفروخت)،ھبہ (گفٹ)اور وصیت کے ذریعے ۔دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اور اختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے وراثت کے ذریعے،لہذا مذکورہ صورت میں ملکیت کا ثبوت کسی طرح نہیں ہے نہ اختیاری طور پر نہ اضطراری طور پر تو اس میںحصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
آپ نے اپنے چچا زاد بہن وبھائیوں کی پرورش اور شادی کے اخراجات اٹھائے، اور اس پر آپ کی نیت نہ تو ان سے اخراجات کے بقدر رقم واپس لینے کی تھی اور نہ ہی اس طرح سے کوئی معاہدہ ہوا تھا۔ آپ نے یہ سب اپنی ماں کی اولاد سمجھ کر، بطور بھائی، نیکی اور احسان کے طور پر کیا تھا۔ اس لیے اب آپ ان کی پرورش اور شادی کے اخراجات واپس نہیں لے سکتے۔
2۔ آپ نے محمد جعفر اور محمد عاصم کو دس ہزار ڈالر ، جس کی قیمت اس وقت چودہ لاکھ تھی، اور پانچ لاکھ اور ساڑھے بارہ لاکھ روپےتو کل ساٹھے سترہ لاکھ اور دس ہزار ڈالر بطور قرض کے دیے۔ تو ساڑھے سترہ لاکھ اور دس ہزار ڈالر (اگرچہ ڈالر کی قیمت فی زمانہ بڑھ گئی تو دس ہزار ڈالر ہی کا واپس کرنا) ان چچا زاد پر واجب ہے۔ اگر قرض ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود اپنے وعدے پر قرض ادا نہ کریں اور ٹال مٹول سے کام لیں تو یہ ظلم اور بہت بڑا گناہ ہے۔ اس پر احادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ حدیث پاک میں یہاں تک آیا ہے کہ ایسا شخص جب تک قرض ادا نہ کرے، اس کے لیے ہر دن اور ہر رات گناہ لکھا جاتا ہے۔
3۔ والدہ کو جو سونا دیا اور والدہ نے اس پر قبضہ بھی کر لیا تو یہ والدہ کی ملکیت ہو گیا۔ بوقت انتقال والدہ کے، جو ورثاء ہیں، شیخ محمد، جعفر، عاصم، حمیدہ، فوزیہ، ان کے مابین یہ تقسیم ہو گا۔ تقسیم کا شرعی طریقہ کچھ اس طرح ہو گا کہامور متقد مہ علی الارث (مرحومہ کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے )کے بعد اس سونے کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق قیمت لگائی جائے گی، پھر ان تین بیٹوں (شیخ محمد، جعفر، عاصم) میں سے ہر ایک کو 2 حصص اور دو بیٹیوں (حمیدہ، فوزیہ) میں سے ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ 1 حصہ ملے گا۔ شیخ محمد کے ماں شریک بہن، بھائیوں پہ لازم ہے کہ شیخ محمد کا اس سونے میں جو حصہ ہے وہ اس کو دیں وگرنہ گناہ گار اور مستحق عذاب ہو نگے ۔
مسئلہ :10
المیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی
2 2 2 2 1 1
دلائل و جزئیات :
بندہ کی ملکیت کب ثابت ہوتی ہے اس بارے البنایہ شرح ہدایہ میں ہے "وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء۔ترجمہ : ملکیت کے اسباب ،ھبہ ،و صیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ كتاب البيوع،فصل في بيان ما يكره في باب البيوع،البيع عند أذان الجمعة،جلد ۸ص۲۱۶،دار الکتب العلمیة)
اسی بارےابن نجیم المصری فرماتے ہیں "فَالْأَسْبَابُ ثَلَاثَةٌ مُثْبِتٌ لِلْمِلْكِ وَهُوَ الِاسْتِيلَاءُ وَنَاقِلٌ لِلْمِلْكِ وَهُوَ الْبَيْعُ وَنَحْوُهُ وَخِلَافَةٌ وَهُوَ الْمِيرَاثُ وَالْوَصِيَّةُ ۔ ترجمہ : ملکیت کے اسباب تین ہیں: پہلا، ملکیت کو ثابت کرنے کا سبب، جو کہ قبضہ ہے؛ دوسرا، ملکیت کو منتقِل کرنے کا سبب، جو کہ خرید و فروخت اس کی مثل اور چیزیں، تیسرا، ملکیت کے منتقِل ہونے کا سبب، جو کہ وراثت، وصیت قبول کرنا ہے ۔( البحر الرائق شرح كنز الدقائق،کتاب البیوع،جلد:۵۔صفحة:۲۷۸،دار الکتب السلامی)
بندہ جب صدقہ کر دے تو واپس نہ لے "عَنْ سَالِمٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ تَصَدَّقَ بِفَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، فَقَالَ : ” لَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ ". فَبِذَلِكَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَا يَتْرُكُ أَنْ يَبْتَاعَ شَيْئًا تَصَدَّقَ بِهِ إِلَّا جَعَلَهُ صَدَقَةً"ترجمہ :حضرت سالم سے روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ بیان کرتے تھے کہ حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا صدقہ کیا تھا۔ پھر اسے بازار میں فروخت ہوتا ہوا پایا اور اس کو خریدنا چاہا۔ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس بارے میں مشورہ کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اپنے صدقہ میں واپس نہ لوٹ۔"پس اسی وجہ سے حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جب بھی کسی چیز کو صدقہ کیا تو اسے واپس خریدنے سے اجتناب کیا اور اسے صدقہ ہی رہنے دیا۔
رشتہ داروں پہ تصدق کرنے کے بارے مشکوة المصابیح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مقدس ہے "وعن سلمان بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان: صدقة وصلة ".حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنا صرف صدقہ ہے، جبکہ رشتہ دار پر صدقہ کرنا دو چیزیں ہیں: صدقہ اور صلہ رحمی۔( كتاب الزكاة، باب أفضل الصدقة، الفصل الثاني،ج:۱،ص:۶۰۴،المکتب الاسلامی بیروت)
قرض کی ادئیگی میں قصدا تاخیر کرنے والے کے بارے شعب الایمان میں ہے" ولا غريم يلوي غريمه وهو يقدر إلا كتب اللہ عليه في كل يوم وليلة إثما ۔‘ یعنی کوئی مقروض نہیں جو قدرت کے باوجود اپنے قرض دينے والے کو ٹالے،مگر یہ کہ اللہ عزوجل ہر دن اور رات میں اس پر گناہ لکھتا ہے۔(شعب الایمان،جلد13، صفحہ523،)
ایک روایت میں ہے:’’التسویف شعارالشیطان یلقیہ فی قلوب ا لمؤمنین۔ترجمہ :قرض میں ٹال مٹول کرنا شیطان کا شعار ہے، جو وہ مومنین کے دل میں ڈالتا ہے ۔(جامع الصغیر ،جلد 3،صفحہ373،مطبوعہ بیروت)
امام اہلسنت رحمہ اللہ تعالی سے سوال ہوا:’’ ایک شخص قدرت کے باوجود اپنے وعدے پر قرض ادا نہیں کرتااور مختلف حیلے بہانے کرتا ہے اس کے بارے میں کیا شرعی حکم ہے ؟(ملخصا)‘‘ تو جوابا آپ علیہ الرحمۃ نے فر مایا :’’ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:’’لیّ الواجد یحل عرضہ ومطل الغنی ظلم‘‘ہاتھ پہنچتے ہوئے کا ادائے دین سے سرتابی کرنا اس کی آبرو کوحلال کردیتاہے، یعنی اسے براکہنا اس پر طعن وتشنیع کرنا،جائز ہوجاتا ہے اورغنی کادیرلگاناظلم ہے۔الاشباہ والنظائرمیں ہے :’’ خلف الوعد حرام‘‘وعدہ جھوٹاکرنا حرام ہے۔۔۔صورت مستفسرہ میں زیدفاسق وفاجر، مرتکب کبائر، ظالم، کذّاب، مستحق عذاب ہے۔ اس سے زیادہ اورکیا القاب اپنے لیے چاہتاہے، اگراس حالت میں مرگیا اوردین لوگوں کا اس پرباقی رہا اس کی نیکیاں ان کے مطالبہ میں دی جائیں گی اور کیونکردی جائیں گی تقریباً تین پیسہ دین کے عوض سات سو نمازیں باجماعت کما فی الدرالمختار وغیرہ من معتمدات الاسفار والعیاذباللہ العزیز الغفار(جیساکہ درمختار وغیرہ معتمد کتب میں ہے۔ اﷲ عزیز غفارکی پناہ۔ت) جب اس کے پاس نیکیاں نہ رہیں گی ،ان کے گناہ ان کے سرپر رکھے جائیں گے ویلقی فی النّار اور آگ میں پھینک دیاجائے گا، یہ حکم عدل ہے، اور اﷲ تعالی حقوق العباد معاف نہیں کرتا، جب تک بندے خود معاف نہ کریں، اورسلف صالحین کے احوال طیّبہ کو اپنے ان مظالم کی سندقراردینا اورزیادہ وقاحت اوردین متین پرجرأت ہے، اس پرفرض ہے کہ اپنے حال پر رحم کرے اوردیون سے پاک ہو، موت کودورنہ جانے، آگ کا عذاب سَہانہ جائے گا۔ اﷲتعالی توفیق دے۔(ملتقطا)‘‘(فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ68،69،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
ہبہ قبضہ سے تام ہوتا ہے اس بارے مجلۃ الاحکام میں ہے " فإذا وهب أحد شيئا إلى آخر لا تتم الهبة قبل القبض " ترجمہ : جب ایک شخصکسی دوسرے کی طرف کوئی چیز ہبہ کرتا ہے تو قبضہ سے نا ہے تو قبضہ سے پہلے ہبہ نام نہ ہو گا۔ (مجلة الاحكام المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، صفحة: ۲۲، نور محمد آرام باغ کراچی)۔
جو کسی کے حق میراث پر قبضہ کرلے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک " وعن أنس قال: قال رسول الله صلىالله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة، رواه ابن ماجه - ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے اپنے وارث کی میراث کائی تو روز قیامت اللہ تعالی اس کی جنت کی میراث کاٹ دے گا۔ (مشکاۃ المصابیح، باب الوصايا، الفصل الثالث ، جلد : اصفحه : ۲۵۲) والله تعالى اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 02صفر المظفر 1446 ھ/08اگست 2024ء