سوال
میں نے جذبات میں آکر قرآن کی قسم کھالی ہے، جس کے لئے قسم کھائی تھی اس کو بولا کہ آج کے بعد میں کبھی سامنے نہیں آؤں گا، لیکن مجھے اس قسم کا کفارہ بتادیں۔مجھے یہ قسم اتارنی ہے۔برائے مہربانی مجھے اس کا حل بتائیں۔
سائلہ: شاداب ناصر۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی قسم کیلئے ضروری ہے کہ وہ الفاظ ِقسم کے ساتھ ہو،جیسے واللہ یا اللہ کی قسم یا قرآن کی قسم میں یہ کام نہیں کرونگا/کرونگی،ورنہ شرعی قسم نہیں ہوگی۔پھرکفارہ قسم ٹوٹنے پر واجب ہوتا ہے اس سے پہلے نہیں۔لہذا اگر آپ نے شرعی قسم اٹھائی لیکن اسے توڑ کر کفارہ دینا چاہتے ہیں تو 10مسکینوں کو 2 وقت پیٹ بھر کھانا کھلادیں یا 10مسکینوں کو کپڑا پہنادیں اور اگر ان میں سے کسی کی بھی طاقت نہیں رکھتے تو مسلسل 3روزے رکھیں، آپ کا کفارہ ادا ہوجائے گا۔یاد رہے بلا ضرورت سچی قسم بھی اٹھانے سے بچنا چاہیے ، اور اگر جھوٹی قسم اٹھائی تو جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھانا سخت گناہ کا کام ہے اس کی شدید مذمت احادیثِ مبارکہ میں بیان ہوئی ہے۔
قسم کے کفارے کے متعلق علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"و کفارتہ تحریر رقبۃاو اطعام عشرۃ مساکین کما فی الظھار او کسو تھم بما یصلح للا و سط و ینفع بہ فوق ثلثۃ اشھرو یستر عا مۃ البدن فان عجز عنھا کلھا وقت الاداء صام ثلثۃ ایام ".ترجمہ: اس کا کفارہ یہ ہے کہ گردن(غلام) آزاد کرے ،یا دس مسکینوں کو کھانا دے جیسا کہ ظہار میں ہوتا ہے، یا دس مسکینوں کو درمیانہ لباس دے جو بدن کو ڈھانپ لے اور کم از کم تین ماہ تک وہ لباس کام دے اور اگر ان امور کی ادائیگی سے عاجز ہو تو مسلسل تین دن روزے رکھے۔(الدر المختار ،کتاب الایمان،1/ 282-283 ملتقطا،دار الکتب العلمیة)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:”قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو نوں وقت بھر پیٹ کھانا کھلائے یا دس مسکینوں کو کپڑا پہنائے اور اگر ان میں سے کسی ایک کی (بھی) استطاعت نہ ہو تو بحالتِ مجبوری پے در پے تین روزے رکھے‘‘۔(فتاوی فیض الرسول، 2،/111، اکبر بک سیلرز لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14ذو القعدہ 1445 ھ/23مئی 2024ء