تین طلاق نیز سننا ضروری نہیں

    Teen Talaq Nez Sunna Zaroori Nahin

    تاریخ: 27 جولائی، 2026
    مشاہدات: 30
    حوالہ: 1669

    سوال

    رانا محمد اکرم بن رانا محمد اسلم سکنی قائد آباد جناب میری شادی مورخہ 22.02.2025 کو خاتون راؤ ثنا بنت راؤ فریاد سے ہوئی شادی کے کچھ عرصہ بعد میرے اور میری بیوی کے درمیان گھریلوں جھگڑے شروع ہوگئے ہم دونوں کے درمیان نہیں بنتی تھی ۔جس کی وجہ سے مورخہ 24-11-2025 کو ہم میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا ۔وہ اپنا سامان باندھ کر اپنے گھر جانا چاہتی تھی ۔اور میں اس کو روک رہا تھا ہمارے درمیان جھگڑا بڑھ گیا جس کی وجہ سے میں رانا محمد اکرم نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ کہہ دیے’’جا میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی ‘‘اس ٹائم میری بیوی اپنے گھر چلی گئی اور گھر جانے کے دو دن کے بعد میرے سے رابطہ کیا اور مجھے کہا کہ آپ نے طلاق دی ہے جو کہ میں نے سنی نہیں ہے اور اس طرح طلاق نہیں ہوتی ہے ۔اور اس کے گھر والے یہی بات کرتے ہیں ۔اور بیوی کلمہ شریف پڑھ کر قسم کھا کر یہی بات کہہ رہی ہے کہ طلاق نہیں ہوتی ہے ۔ جناب ان کے گھر والے یہ بات بھی کہتے ہیں کہ تین طلاق دینے سے ایک طلاق ہوتی ہے ؟اور یہ بات بھی کہتے ہیں کہ طلاق تحریر کے طور پر ہوتی ہے ۔ مجھے اس مسئلےپر فتوی چاہیے جناب کی مہربانی ہوگی ۔ سائل:رانا محمد اکرم

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے جب آپ نے ان الفاظ ’’ جا میں نے تجھے طلاق دی ،طلاق دی ،طلاق دی ‘‘ سے بیوی کو طلاق دی تو اس سے عورت (یعنی بیوی ) کو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔اوریہ حرمت مغلظہ کے ساتھ آپ پر حرام ہوچکی ہے ۔۔ جب سے آپ نے طلاق کے الفاظ کہے اس وقت سےبیوی کی عدت شروع ہو چکی ہے اور عدت ( اگر حیض والی ہے تو تین حیض ،اگر حمل ہوتو وضع حمل، اگر شوہر فوت ہوجائے تو چارمہینے دس دن ،اگر 9 برس سے کم عمر ہے کہ حیض نہیں آتا یا بڑی عمر ہے کہ حیض آنا بند ہوگیا تو تین مہینے عدت ہے) ۔

    بیوی کایہ کہنا کہ ’’میں نے سنا نہیں لہذااس سے طلاق واقع نہیں ہوتی ‘‘ جہالت پر مبنی ہے؛ کیونکہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے شوہر کاطلاق کے الفاظ کہہ دینا کافی ہے ؛ بیوی یا اس کےگھر والوں یا رشتے داروں کا موجود ہونا، انہیں طلاق کا علم ہونا یا الفاظ سننا ضروری نہیں ہے۔

    اور یہ بات کہنا کہ تحریر کے طور پرطلاق ہوتی ہے یہ بھی جہالت پر مبنی ہے ؛کیونکہ طلاق میں اصل شوہر کا الفاظ طلاق کہنا ہے تحریر کو اس کے قائم ومقام بنایا جاتا ہے لہذا چاہے تحریری طور پر ہو یا بول کر طلاق دی جائے دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔

    نیز یہ بھی یاد رہے قرآن مجیداور حدیث پاک کے مطابق اور اسی طرح مذاہب اربعہ کے ائمہ کے نزدیک ایک مجلس میں تین طلاق دینے سے تین طلاقیں ہی واقع ہوجاتی ہیں، چاہے ایک جملہ میں تین طلاق کا لفظ کہا مثلاً میں اپنی بیوی کو تین طلاق دیتا ہوں یا الگ الگ جملوں میں کہا مثلاً میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی، یا ایک مجلس یا ایک دن میں تین طلاق دی بہر صورت تمام طلاقیں واقع ہوجائیں گی۔ اور جو لوگ ایک مجلس دی جا نے والی تین طلاقوں کوایک سمجھتے وہ اجماع امت کی مخالفت کی وجہ سے گمراہ ہیں ۔اور جو لوگ انکے فتوے پر عمل کر کے رجوع یا نکاح کرتے ہیں وہ امت کے جمہور علماءاسلام کے مٔوقف کی مخالفت کر کے چند ہٹ دھرم قسم کے لوگوں کے موقف کو آڑ بناکر صرف خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے ہیں اور حرام کاری میں ملوث ہو کر کبیرہ گناہوں کے مرتکب بنتے ہیں۔ (فالعیاذ باللہ )

    دلائل و جزئیات :

    تین طلاقوں کے بعد عورت مرد پہ حرام ہو جاتی ہے اس بارے اللہ عزّ و جل ّ کا فرمان مقدس ہے ’’فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَه " ترجمہ کنز الایمان : پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تواب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔ (البقرہ:۲۳۰)۔

    ایک دفعہ تین اکٹھی طلاقیں دینے ساتھ گناہ گا رہوتا ہے ’’ ’’(وأما البدعي) فنوعان بدعي لمعنى يعود إلى العدد وبدعي لمعنى يعود إلى الوقت (فالذي) يعود إلى العدد أن يطلقها ثلاثًا في طهر واحد أو بكلمات متفرقة أو يجمع بين التطليقتين في طهر واحد بكلمة واحدة أو بكلمتين متفرقتين فإذا فعل ذلك وقع الطلاق وكان عاصيًا. ترجمہ: بدعی طلاق دو قسم کی ہوتی ہے: ایک وہ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، اور دوسری وہ جو وقت کی وجہ سے بدعی ہو۔ جو عدد کی وجہ سے بدعی ہو، وہ یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں تین طلاقیں دے، چاہے وہ ایک ہی کلمہ میں ہوں یا مختلف کلمات میں، یا دو طلاقیں ایک ہی طہر میں دے، چاہے وہ ایک کلمہ میں ہوں یا دو مختلف کلمات میں۔ اگر کوئی شخص ایسا کرے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور وہ گناہ گار ہو گا۔(فتاوی ہندیہ ،کتاب الطلاق، الطلاق البدعی، جلد:1، صفحۃ:349، مکتبہ رشيدية)

    طلاق کا واقع ہو نا عورت کے معلوم ہونے پر موقوف نہیں اس کے متعلق محیط برھانی میں ہے : ان الزوج ينفرد بايقاع الطلاق الثلاث و لا يتوقف ذالك على علم المرأة ترجمہ : شوہر تین طلاقیں واقع کرنے میں منفرد ہیں اور طلاق کا واقع ہونا عورت کے معلوم ہونے پر موقوف نہیں ۔ (المحیط البرهانی، جلد 5، صفحہ 366، مطبوعہ : کراچی)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” طلاق میں شوہر مستقل ہے ، عورت کی موجودگی یا علم ضرور نہیں (بہار شریعت ، جلد 2 ، حصہ11، صفحہ 790 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)

    فتاوی رضویہ میں ہے : شوہر نے جب اتنی آواز سے طلاق کے الفاظ کہے جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے ، تو طلاق واقع ہو جائے گی خواہ عورت نے الفاظ نہ سنے ہوں۔ اس کے متعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ”طلاق کے لئے زوجہ خواہ کسی دوسرے کا سننا ضروری نہیں، جبکہ شوہر نے اپنی زبان سے الفاظ طلاق ایسی آواز سے کہے جو اس کے کان تک پہنچنے کے قابل تھے اگرچہ کسی ، شور و غل یا ثقل سماعت کے سبب نہ پہنچی عنداللہ طلاق ہو گئی( فتاوی رضویہ، جلد 12 ، صفحہ 362، رضا فاؤنڈیشن، لا ہور)

    تین طلاقیں تین ہونے پر قرآن پاک سے دلیل:

    اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر تحلیل شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ: ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ :آیت 229)

    دوسری جگہ پر ارشاد باری ہے:فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ ۔ترجمہ:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔(البقرۃ ،آیت:230)

    ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا: فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص۔ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے ۔(المحلی بالآثار: 3/394، مطبوعہ: دار الفکر بیروت، لبنان)۔

    تین طلاق تین ہونے پراحادیث سے دلائل :

    1:امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ۔ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ ﷺ غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔(سنن النسائی، کتاب الطلاق، حدیث نمبر 3401: 6/142، مطبوعہ: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

    اگرتین طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اتنا سخت اظہار ناراضگی کیوں فرمایا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے اس شخص کے اس جرم کی وجہ سے اسکو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔

    2:امام المحدثین ابو عبد اللہ امام بخاری کے استادِ محترم عظیم محدث امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا: عَنْ دَاوُدَ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: طَلَّقَ جَدِّی امْرَاَۃً لَہُ اَلْفَ تَطْلِیقَۃٍ، فَانْطَلَقَ اَبِی اِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اما اتَّقَی اللَّہَ جَدُّک، اَمَّا ثَلَاثٌ فَلَہُ، وَاَمَّا تِسْعُ مِاءَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَاءَ اللَّہُ تَعَالَی عَذَّبَہُ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ :ترجمہ: داود کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں تو میرے والد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرا دادا اللہ سے نہیں ڈرتا؟ تین طلاق کا ان کو حق تھا ( وہ واقع ہوگئیں)اور نو سو ستانوے طلاق انکی طرف سے ظلم وزیادتی ہے ، اللہ تعالی کی مرضی چاہے تو اسے عذاب دے یاچاہے تو اسے بخش دے ۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، حدیث نمبر11339: 6/393، مطبوعہ: المکتب الاسلامی، بیروت)

    3:صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے : عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ:’’قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: حَدِّثِینِی عَنْ طَلَاقِکِ، قَالَتْ: طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلَاثًا وَھُوَ خَارِجٌ اِلَی الْیَمَنِ، فاَجَازَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘۔ترجمہ: حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بیان کیجئے ، انہوں نے جواب دیا مجھے میرے شوہرنے یمن جاتے وقت تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد، حدیث نمبر 2024: 1/652، مطبوعہ:احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)

    حدیث میں یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی گئیں تھیں جبھی تو حضرت فاطمہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ طلاقیں نافذ فرمادیں۔ اگر الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کا ان طلاقوں کو نافذ کرنے کا کیا معنی ہے ؟ اسی لئے امام ابن ماجہ نے اس حدیث کیلئے جو باب باندھا وہ من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد ہے یعنی جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ۔

    4:امام المحدثین ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ لعان ذکر کرنے کے بعد نقل فرماتے ہیں: فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یارسول اللہ ان ا مسکتھا فطلقھا ثلاثاً۔ترجمہ: جب دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ ﷺ اگر میں اسکو روکے رکھوں تو یہ میرا اسٍپر جھوٹ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عویمر نے (اسی وقت ) تین طلاقیں دے دیں۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر5308: 7/53، دار طوق النجاۃ، بیروت)

    5:اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابی داود میں یہ الفاظ منقول ہیں: فَطَلَّقَھَا ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَنْفَذَہُ رَسُولُ اللّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘‘رجمہ: حضرت عویمر عجلانی نے رسول اللہ ﷺ کے روبرو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرما دیا‘‘۔( سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر 2250: 2/274، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

    6:امام دار الہجرت عظیم مجتہد ومحدث امام مالک نے حدیث کی عظیم الشان کتاب موطا امام مالک میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا:’’اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّی طَلَّقْتُ امْرَاَتِی مِاءَۃَ تَطْلِیقَۃٍ، فَمَاذَا تَری عَلَیَّ؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلاَثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللہِ ھُزُواً‘‘ترجمہ: ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔(مؤطا امام مالک، کتاب الطلاق، حدیث نمبر2021: 4/789، مطبوعہ: مؤسسہ زاید بن سلطان، ابو ظہبی)

    ائمہ اربعہ اور جمیع علماء کی نظر میں تین طلاقوں کا حکم :

    ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً‘‘۔ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478: قدیمی کتب خانہ، کراچی]

    محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا: ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاًترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔[فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ: 3/469، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت، لبنان]

    عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے جَمَاهِير الْعلمَاء من التَّابِعين وَمن بعدهمْ مِنْهُم: الْأَوْزَاعِيّ وَالنَّخَعِيّ وَالثَّوْري وَأَبُو حنيفَة وَأَصْحَابه وَمَالك وَأَصْحَابه وَمَالك وَأَصْحَابه وَالشَّافِعِيّ وَأَصْحَابه وَأحمد وَأَصْحَابه، وَإِسْحَاق وَأَبُو ثَوْر وَأَبُو عبيد وَآخَرُونَ كَثِيرُونَ، عل أَن من طلق امْرَأَته ثَلَاثًا وقعن، وَلكنه يَأْثَم، وَقَالُوا: من خَالف فِيهِ فَهُوَ شَاذ مُخَالف لأهل السّنة، وَإِنَّمَا تعلق بِهِ أهل الْبدع وَمن لَا يلْتَفت إِلَيْهِ لشذوذه عَن الْجَمَاعَة الَّتِي لَا يجوز عَلَيْهِم التواطؤ على تَحْرِيف الْكتاب وَالسّنة. ۔ترجمہ: جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کےاصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔[ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]

    فقہاء احناف کی نظر میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حکم:

    اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:اذاقال لامرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ‘‘۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)

    اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19 رجب المرجب 1447ھ/09جنوری 2026