ناجائز قبضہ اور ظلم کا حکم
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 38
    حوالہ: 265

    سوال

    میں نے اپنی بھائی سید قمر کے ساتھ جھنجال گوٹھ میں ایک مکان شراکت داری یعنی نصف،نصف رقم کے ساتھ میں ساڑھے پانچ لاکھ کا خریدا تھا جسکو سید قمر نے گیارہ لاکھ میں فروخت کردیا ۔ یہ مکان خریدنے کے بعد یہ مکان چار ماہ تک کرایہ پر بھی رہا جس کا مکمل کرایہ سید قمر نے وصول کیا۔مجھے کل رقم سے حصہ نہیں دیا گیا بلکہ میری رقم جو میں نے لگائی تھی توڑ توڑ کر قسط وار اداکی ۔ میرے 2 لاکھ 75 ہزار ابھی باقی ہیں جسکو دینے سے وہ انکاری ہے۔ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں کہ اسکا یہ عمل جائز ہے یا ناجائز؟

    سائل:سید ابرار:کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر یہ معاملہ مبنی بر حقیقت ہےتو سید قمر کایہ فعل ناجائز و حرام ، جہنم میں لےجانے والا کام ہے۔کہ یہ اپنے قریبی عزیر کا ناحق مال کھانا ہے۔ اس پر لازم ہے کہ فورا سید ابرار کے حصے کی رقم واپس کرے ، وگرنہ شریعت مطہرہ کی رو سے دنیا و آخرت میں اللہ کی پکڑ اور عذاب کے لئے تیار ہوجائے ۔ سید قمر کا یہ عمل اگر کسی عام اجنبی مسلمان کے ساتھ ہوتا تو بھی مطلقا ناجائز تھا چہ جائیکہ اپنے سگے بھائی کے ساتھ ے ایسا عمل کرے یہ تو ایک اور الگ گناہ یعنی قریبی رشتہ دار سے بدسلوکی اور قطع تعلقی پر مبنی ہے ۔

    کسی کا مال ناحق کھانے اورکسی کا حق دبانے کے حوالے سےقرآن وحدیث میںشدید مذمت آئی ہے :چناچہ فرمان باری تعالٰی ہے: : یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)

    اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں ارشاد ربانی ہے: إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ وَيَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ترجمہ: مُواخَذہ تو انھیں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق سرکشی پھیلاتے ہیں اُن کے لیے دردناک عذاب ہے۔(الشورٰی:42)

    ایک اور مقام پر ارشاد ِربّانی ہے : وَالظَّالِمُونَ مَا لَهُمْ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍترجمہ: اور ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ مددگار ۔(الشورٰی:08)

    احادیث میں کسی مسلمان کا حصہ ناحق مال کھانے کی سخت وعیدیں آئی ہیں ،بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)

    بخاری میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ۔ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلدجلد 3ص130)

    چناچہ مسند ابی یعلی کی حدیث ہے: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)

    مسند امام احمد میں ہے:نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا خُسِفَ بِهِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ ترجمہ:جو ظلم کرتے ہوئے کسی کی زمین ہتھیا لیتا ہے ،اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا۔(مسند امام احمد،رقم:5740)

    مسلم شریف کی حدیث ہے: مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ا س کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)

    اور ایسے حق دبا کر حاصل ہونے والی حرام کمائی کے بارے میں حدیثِ پاک میں ہے: مسند امام احمد کی حدیث ہے،نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَيُنْفِقَ مِنْهُ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلَ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ ترجمہ:اور بندہ جو کوئی مال حرام کماتا ہے کہ وہ اس سے خرچ کرے اور اس کے لیے اس میں برکت ہو اور اس مال سے صدقہ کرتا ہے کہ وہ اس سے قبول ہو اور اپنے پیچھے جو(اس مال سے)چھوڑتا ہے وہ سب کا سب جہنم کی طرف اس کا زادِ راہ(توشہ) ہے۔ بے شک اللہ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہےبے شک خباثت (حرام مال)خباثت(گناہوں) کو نہیں مٹاتی۔(مسند امام احمد،رقم:3672)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اکراء:27جمادی الثانی 1442 ھ/09 فروری 2021 ء