سوال
زید نے دو شادیاں کی ہوئی ہیں ۔ انھوں نے اپنی ایک بیوی کو ایک طلاق 2015-04-06 کو دی
دوسری طلاق 2015-05-05 کو دی ۔ جبکہ تیسری طلاق اس نے 2015-06-05 کو گواہوں کی موجودگی میں تحریراً دی اورساتھ پیپر پر دستخط بھی کر دیے ۔اور اپنے پاس پاس رکھ لیےکہ جب موقع آیا تو ہم اس کو بھیج دیں گے، گواہوں میں اسکا بڑا بھائی اور ماموں کا بیٹا شامل ہیں۔
سوال یہ ہے کہ :
کیا تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں یا نہیں ؟
سائلہ: نورین عا کفہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
دو امور ملحوظِ خاطر رہیں کہ : 1:۔اگر شوہر طلاق نامہ بنوا کر اس پر دستخظ کر دے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔
2:۔طلاق کے لیے بیوی کامحلِ نکاح میں ہونا ضروری ہے ۔
حکم شرعی ملاحظہ فرمائیں :اگر شوہر نے تیسری طلاق عدت کی اندر دی تو تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی ہے ورنہ نہیں ۔اس لیے کہ عدت گزر جانے کے بعد خاتون تیسری طلاق کا محل نہیں رہتی ۔
عدت کی تفصیل یہ ہے کہ :اگر مذکورہ عورت کواس دوران حیض آتا تھا (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ آتا تھا )تو اس کی عدت تین حیض تھی ۔اگر شوہر نے پہلی طلاق پاکی کی حالت میں دی تو ایامِ طہارت کے بعد پہلا حیض ،دوسرا حیض اور پھر جب تیسرا حیض آ کر ختم ہو گیا تو عدت بھی مکمل ہو گئی ۔
اور اگر خاتون حمل سے تھی تو عدت وضعِ حمل(بچہ پیدا ہونے تک )ہوتی ہے ۔اور جسے حیض نہ آتا ہو اس کی عدت کامل تین ماہ ہوتے ہیں ۔
مطلقہ کی عدت کے حوالے سے ارشاد ربانی ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوۡٓءٍ ؕ وَلَا یَحِلُّ لَہُنَّ اَنۡ یَّکْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللہُ فِیۡٓ اَرْحَامِہِنَّ اِنۡ کُنَّ یُؤْمِنَّ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں اور اُنھیں یہ حلال نہیں کہ جو کچھ خدا نے ان کے پیٹوں میں پیدا کیا اُسے چھپائیں، اگر وہ اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہوں۔(البقرۃ: 228)
ارشادِ باری تعالی ہے:وَ الِّٰٓیۡٔۡ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیۡضِ مِنۡ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ ۙ وَّ الِّٰٓیۡٔۡ لَمْ یَحِضْنَ ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنۡ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق: 04)
رد المحتار میں ہے :والرجعي لا يزيل الملك إلا بعد مضي العدة ۔ترجمہ: طلاقِ رجعی ملکیت کو عدت گزرنے کے بعد ہی ختم کر سکتی ہے۔ (رد المحتارباب الرجعۃ جلد 3 صفحہ ،400دار الفکر بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے :فلا يصح الطلاق إلا في الملك أو في علقة من علائق الملك وهي عدة الطلاق أو مضافا إلى الملك۔ترجمہ:طلاق درست نہیں ہوتی مگر ملکیت یا ملکیت کے کسی علاقہ میں (اور ملکیت کے علاقے سے مراد طلاق کی عدت ہے )یا پھر ملکیت کی طرف طلاق کی اضافت ہو۔(بدائع الصنائع فصل فی شرائط رکن الطلاق،جلد 3صفحہ 126، دار الكتب العلمية) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21محرم الحرام 1444 ھ/10اگست2023 ھ