سوال
مکہ میں قصر نماز پڑھنے کا حکم بیان کریں۔ سائل:فرخ منظور،گلشن اقبال کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر مسافر دوران ِسفر کسی مقام پر پندرہ یا پندرہ سے زائد دن رکنے کی نیت سے قیام کرے تو وہشرعا ً مقیم کہلاتا ہے ،اس پر نمازوں میں قصر کرنا واجب ہوتی ہے۔لیکناس اقامت و نیتِ اقامت کے لیےچندشرائط کا تحقق ضروری ہے ،اگر ان شرائط میں سے کوئی ایک بھی مفقودتو اقامتدرست نہیں ہوتی۔شرائط در ج ذیل ہے:
1:۔چلنا موقوف کر دے۔پس اگرا قامت کی نیت کی اور برابر چلتا رہا تو نیت درست نہیں ہو گی ۔
2:۔جس جگہ ٹھہرنے کی نیت کرے وہ جگہ ٹھہرنے کے لائق ہو۔لہذا کسی جنگل ،جزیرے ،یا دریا وغیرہ میں ٹھہرنے کی نیت تو معتبر نہیں ہو گی ۔
3:۔کسی ایک جگہ ٹھہرنے کی نیت کرے ۔
4:۔پندرہ یا پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنےکی نیت ہو۔پندرہدن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے شرعی اقامت چابت نہیں ہو گی۔
5:۔نیت کرنے والے کا مستقل باالراء ہونا ۔
6:۔ اس کی حالت اس کے ارادہ کے منافی نہ ہو۔
بحر میں مجتیکے حوالے سے ہے : وَالنِّيَّةُ إنَّمَا تُؤَثِّرُ بِخَمْسِ شَرَائِطَ أَحَدُهَا تَرْكُ السَّيْرِ حَتَّى لَوْ نَوَى الْإِقَامَةَ، وَهُوَ يَسِيرُ لَمْ يَصِحَّ وَثَانِيهَا صَلَاحِيَةُ الْمَوْضِعِ حَتَّى لَوْ أَقَامَ فِي بَحْرٍ أَوْ جَزِيرَةٍ لَمْ تَصِحَّ وَاتِّحَادُ الْمَوْضِعِ وَالْمُدَّةِ وَالِاسْتِقْلَالُ بِالرَّأْيِ۔ترجمہ:اقامت کی نیت پانچ شرائط کے ساتھ مؤثر ہو گی :ان میں سے پہلی شرط (1)چلنا ترک کر دے یہاں تک کہ اگر اقامت کی نیت کی اور سفر جاری رکھا تو نیت درست نہیں ہو گی۔دوسری شرط (2)مقام کا (اقامت کے)لائق ہونا یہاں تک کہ اگرسمندر یا جزیرے میں قیام کیاتو درست نہیں ۔تیسری شرط(3)مقام کا متحد ہونا۔چوتھی شرط(4)مدت(کم از کم پندرہ دن)ہو۔پانچویں شرط(5)نیت کا مستقل ہونا ۔(البحرالرائق شرح کنز الدقائق،جلد 02صفحہ 142 دار الكتاب الإسلامي)
درج بالا شرائط میں سے اگرایک بھی شرط مفقود ہوتو اقامت درست نہیں ہو گی اور وہ شخص قصر کرے گا ۔چنانچہ مبحوثہ مسئلہ میں تیسری شرط(مقام کا متحدہونا)کی بنا پر مفتیانِ کرام کے مابین اختلافظاہر ہوا ہے،سو ہم اس تیسری شرطکی حیثیت اور اس کے دائرہ کارکا جائزہ فقہائے کرام کی اقوال کی روشنی میں لیں گے ۔
اگر مسافر نے کسی مقام پر پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی لیکن ان پندرہ دنوں میں اسے کسی اور جگہ بھی جاناہے۔تو اس کے حوالے سے یہاں پر تین احتمالات ہوں گے ۔(1)وہ جگہ شہر کے اندر ہو۔(2)شہر کے مضافات میں ہواور شہر کے تابع ہو۔ (3)یاپھردونوں(شہر یا مضافاتِ شہر) نہیں بلکہ الگ سےکوئی مستقل مقام ہے۔
پہلی صورت کا حکم :
اس صورت میں نیتِ اقامت کے درست ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔اس لیے کہ شہر کسی ایک گھر کا نام نہیں ،بلکہ وہ اپنے تمام اطراف و اکناف کے ساتھ ایک خطہ شمار ہوتاہے، اور اس کا اطلاق اپنے تماماجزاء پر ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہندیہ میں ہے: لِأَنَّ الْمِصْرَ مَعَ تَبَايُنِ أَطْرَافِهِ كَمَكَانٍ وَاحِدٍ حُكْمًا ترجمہ:کیوں کہ شہر اپنے تمام تراطراف کےتباین کے باوجود حکما ً مکانواحد ہے ۔( ا لفتاوى الهندية ،جلد 6صفحہ225 ، دار الفكر بیروت)
دوسری صورت کا حکم :
اس صورت میں بھی نیتِ اقامت درست ہے یعنی جب مسافر کو پندرہ دنوں میں شہر سے متصل کسی بستی میں جانا ہو جو کہ شہر کے تابع ہواس حال میں کہ وہاں کے رہنے والوں پر شہر میں آ کر جمعہ پڑھنا واجب ہو۔دوسری صورت میں شہر اور وہ بستی ایک ہی جگہ شمار ہوںگے،لہذا اس بستی میںرہنے سے نیتِ اقامت پر کوئی حرج نہیں آئے گا ۔
تحفۃ الفقہاء میں ہے:إِذا كَانَ أَحدهمَا تبعا للمصر حَتَّى تجب الْجُمُعَة على من سكن هُنَاكَ فَإِنَّهُ يصير مُقيما بنية إِقَامَة خَمْسَة عشر يَوْمًا فِي هذَيْن الْمَوْضِعَيْنِ لِأَنَّهُمَا فِي الحكم كموضع وَاحِد ترجمہ:جب دونوں جگہوں میں سے ایک شہرکے تابع ہو یہاں تک کہ جو لوگ وہاں رہتے ہیں ان پر جمعہ واجب ہے تو ان دو جگہوں میں پندرہ دن اقامت کی نیت سے وہ مقیم ہو جائے گا کیوں کہ یہ دونوں جگہیں حکما ًایک ہیں ۔( تحفة الفقهاء جلد 1صفحہ 151)
علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :اما اذا احدھما الآخر کقریۃ قریبۃ من المصر بحیث تجب الجمعۃ علی ساکنھا ،فانہ یصیر مقیما بدخول ایھما کان لاتحاد حکما ً ترجمہ:مگر جب ایک جگہ دوسری کے تابع ہو جیسے شہر کے قریب بستی کہ اس بستیکے رہنے والوں پر جمعہ واجب ہو ۔پس ان دونوں جگہوں میں سے جہاں بھی داخل ہومقیم ہو گا اس لیے کہ وہ حکماً متحد ہیں۔( رد المحتار على الدر المختار،جلد 02صفحہ126دار الفکر بیروت)
تیسری صورت کا حکم :
وہ جگہ مستقل بنفسہ ہو،شہر کے تابع نہ ہو تو ان دو جگہوں میں اقامت کی نیت سے مقیم نہ ہو گا ۔بلکہ قصر نماز پرھے گا ۔ مبسوطِ سرخسی میں ہے: لِأَنَّ نِيَّةَ الْإِقَامَةِ مَا يَكُونُ فِي مَوْضِعٍ وَاحِدٍ، فَإِنَّ الْإِقَامَةَ ضِدُّ السَّفَرِ، وَالِانْتِقَالُ مِنْ أَرْضٍ إلَى أَرْضٍ يَكُونُ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ، وَلَوْ جَوَّزْنَا نِيَّةَ الْإِقَامَةِ فِي مَوْضِعَيْنِ جَوَّزْنَا فِيمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ فَيُؤَدِّي إلَى الْقَوْلِ بِأَنَّ السَّفَرَ لَا يَتَحَقَّقُ۔ ترجمہ: کیوں کہ (اعتبار ) اس نیتِ اقامت کا ہے جو ایک جگہ میں ہو ۔اور اقامت سفر کی ضد ہے ،اور ایک زمین سے دوسری زمین کی طرف منتقل ہونا ،زمین میں سفر کرنا ہے، اقامت نہیں ۔اگر ہم دو جگہیوں میں نیتِ اقامت کو جائز قرار دیں تو ہمیں دو سے زیادہ جگہوں میں بھی اسے جائز قرار دینا ہو گا ۔پس یہ چیز کہنے پر مجبور کرے گی کہ سفر متحقق ہی نہیں ہوتا ۔(المبسوط للسرخسي جلد 1صفحہ 236)
خلاصۃ الفتاوی میں ہے :ولو نوی الاقامۃ بموضعین خمسۃ عشر یومالایصیر مقیما ترجمہ:اگر مسافر دو جگہ پندرہ دن اقامت کی نیت کرے تو مقیم نہیں ہو گا۔(خلاصۃ الفتاوی ،باب صلاۃ المسافر جلد01،صفحہ 199)
درج بالا فقہائے کرام کی عبارت سے واضح ہوا کہ پہلی دونوں صورتوں میں نیتِ اقامت متحقق ہو گی جبکہ تیسری صورت میں بالاتفاق نیت درست نہیں ہو گی۔ تینوں صورتوں کے احکام واضح ہو جانے کے بعد مانحنفیہ مسئلہ کی تنقیح ملاحظہ ہو :
منیٰ حدودِ حرم کا حصہ ہے جو کہ مکہ مکرمہ کے مشرق میں 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 20 مربع کلومیٹر ہے۔جو کہ حدودِ حرم میں شامل اور مکہ سے خارج ہے،سید عالم ِ صلی اللہ علیہ وسلم کےدورِ پاک سے ابتک الگ الگ مستقل مقام ہیں۔۔اور اسی اصل(مکہ سے خارج ہے) پر فقہائے کرام نے(متون ،شروح ،فتاوی )میں احکام متفرع فرمائیں کہ جو شخص مکہ میں داخل ہوا اور پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت کی لیکن اس کو ان پندرہ دنوں میں مناسکِ حج کے لیے منی و عرفاتجانا ہو گا جو کہ مکہ میں شامل ہیں نہ اس کے توابع سے ہیں بلکہ فی نفسہ مستقل مقام ہیں تو ایسی صورت میں جب وہاں بھی جانا ہو گا تو مکہ میں اس کی نیتِ اقامت معتبر نہیں ہو گی۔
محرر مذہبِ نعمانی امام محمد بن حسن شیبانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :قلت:ارائیت الرجل ازا خرج من الکوفۃ الیمکۃ ومنی وھو یرید ان یقیم بمکۃ ومنی خمسۃ عشر یوما ایکمل الصلاۃ حین یدخل مکۃ؟ قال:لا ،قلت لم؟ لانہ یرید ان یقیم بمکۃ وحدھا خمسہ عشر یوماً،قلت ولا تعد بمکۃ ومنی مصرا واحدا ؟ قال:لا ترجمہ:میں نے کہا :مجھے بتائیے کہ ایک شخصکوفہ سے مکہ اور منی کی طرف نکلا اس حال میں کہ اس کا ارادہ ہے کہ وہ مکہ میں پندرہ دن قیام کرے گا۔ جب وہ مکہ میں داخل ہو گا کیا مکمل نماز پڑھے گا؟فرمایا: نہیں۔میں نے کہا: کیوں؟کہنے لگے:اس لیے کہ اس کا ارادہ صرف مکہ میں پندرہ دن کا ارادہ نہیں ۔مین نے عرض کی:کیا مکہ اور منی ایک شہر نہیں؟فرمانے لگے :نہیں۔(کتاب الاصل ،المبسوط ،باب صلاۃ المسافر جلد 01 صفحہ 248 تا 249)
علامہ عبد الرحمن شيخی زاده( مجمع الانھر میں) رقم طراز ہیں :(وَلَوْ نَوَاهَا) أَيْ الْإِقَامَةَ (بِمَوْضِعَيْنِ كَمَكَّةَ وَمِنًى لَا يَصِيرُ مُقِيمًا إلَّا أَنْ يَبِيتَ بِأَحَدِهِمَا) لِأَنَّ إقَامَةَ الْمَرْءِ تُضَافُ إلَى مَبِيتِهِ هَذَا إذَا كَانَ كُلٌّ مِنْ الْمَوْضِعَيْنِ أَصْلًا بِنَفْسِهِ وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا تَبَعًا لِآخَرَ قَرِيبًا مِنْ الْمِصْرِ بِحَيْثُ تَجِبُ الْجُمُعَةُ عَلَى سَاكِنِهِ فَإِنَّهُ يَصِيرُ مُقِيمًا فِيهِمَا بِدُخُولِ أَحَدِهِمَا أَيَّهُمَا كَانَ لِأَنَّهُمَا فِي الْحُكْمِ كَمَوْطِنٍ وَاحِدٍ كَمَا فِي التَّبْيِينِ.ترجمہ:اور اگر کوئی شخص دو جگہوں میں اقامت کی نیت کرے جیسے مکہ اور منی تو وہ مقیم نہیں ہو گا مگر جب دونوں میں سے ایک جگہ رات گزارے۔کیوں آدمی کی اقامت اس کے رات بسر کرنے والے مقام کی طرف منسوب ہوتی ہے۔اور یہ اس وقت ہے کہ جب دونوں میں سےہر ایک مستقل مقام ہو۔اور اگر ان میں ایک دوسرے کے تابع ہو اور شہر کے قریب ہو یوں کہ اس کے رہنے والوں پر جمعہ واجب ہو تو ان میں سے جس میں بھی داخل ہو گا مقیم ہو جائے گا کیوں کہ وہ دونوں حکماً وطن واحد کی طرح ہیں ۔ ( مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،جلد01 صفحہ 162)
فتاوی سراجیہ میں ہے :رَجُلٌ قَدِمَ مَكَّةَ حَاجًّا فِي عَشْرِ الْأَضْحَى وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُقِيمَ بِهَا سَنَةً فَإِنَّهُ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ مِنًى لِأَنَّ نِيَّةَ الْإِقَامَةِ لِلْحَالِ لَا مُعْتَبَرَ بِهَا لِأَنَّهُ يَحْتَاجُ إلَى أَنْ يَخْرُجَ إلَى مِنًى لِقَضَاءِ الْمَنَاسِكِ فَصَارَ بِمَنْزِلَةِ نِيَّةِ الْإِقَامَةِ فِي غَيْرِ مَوْضِعِهَا وَإِذَا خَرَجَ إلَى مِنًى يُصَلِّي أَرْبَعًا إلَّا إذَا كَانَ لَاحِقًا۔ترجمہ:ایک شخص مکہ میں قربانی کے دس دنوں میں حاجی بن کر آیا اور وہ ارادہ رکھتا ہے کہ مکہ میں ایک سال مقیم رہے گا تو وہ رکعتیں پڑھے گا یہاں تک کہ منی سے لوٹ آئے ۔کیوں کہ اقامت کی نیت فی الحال معتبر نہیں،کیوں کہ مناسک کی ادائیگی کے لیے اسے منی کی طرف جانے کی حاجت پیش آئے گی ،تو یہ موضع غیرِ اقامت میں اقامت کی نیت کی طرح ہو گیا ۔
در مختار میں ہے: لودخل الحاج مکۃ ایام العشر لم تصح نیتہ لانہ یخرج الٰی منٰی وعرفۃ فصارکنیۃ الاقامۃ فی غیرموضعھا وبعد عودہ من منی تصح کما لونوی مبیتہ باحدھما ترجمہ:اگر کوئی حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت ( برائے اقامت) درست نہیں کیو نکہ اس نے منٰی او رعرفات کی طرف انہی دنوں میں جانا ہے اس نیتِ اقامت کی طرح ہی ہے جو مقام اقامت نہ ہو اور منٰی سے لوٹ کرنیت کرنا درست ہے جیساکہ ان دونوں میں سے ایک میں رات بسر کرنے کی نیت کرے ۔( الدرالمختار باب صلوۃ المسافر جلد2صفحہ 126 دارالفکر بیروت )
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :جس نے اقامت کی نیت کی مگر اس کی حالت بتاتی ہے کہ پندرہ دن نہ ٹھہرے گا تو نیت صحیح نہیں، مثلاً حج کرنے گیا اور شروع ذی الحجہ میں پندرہ دن مکۂ معظمہ میں ٹھہرنے کا ارادہ کیا تو یہ نیت بیکار ہے کہ جب حج کا ارادہ ہے تو عرفات و منیٰ کو ضرور جائے گا پھر اتنے دنوں مکۂ معظمہ میں کیونکر ٹھہر سکتا ہے اور منیٰ سے واپس ہو کر نیت کرے تو صحیح ہے۔(بہار شریعت،حصہ 04 صفحہ747 مکتبۃ المدینہ)
فائدہ:
ایک صورت ایسی ہے کہ جس میں مسافر دو مختلف جگہوں پر اقامت کی نیت کرے تب بھی مقیم ہوجائے گا ۔مسافر دو جگہوں پر رہنے کا ارادہ رکھتا ہو تو پہلے اس مقام پر جائے جہاں رات گزارنی ہے ،تو اس مقام پر پہلے جا کر رات گزارنے کی وجہ سے مقیم ہو جائے گا ،اگرچہ اس کے بعد دوسری جگہ میں بھی جائے ۔ خلاصۃ الفتاوی میں تیسری صورت کا استثنابیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :الا ان ینویان یقیم لیالیھا فی اھڈھما وایامھا فی اخری ،فانہ یصیر مقیما اذا دخل قریۃ التی نوی الاقامۃ فیھا خمسۃ عشر لیلۃ ولا یصیر مقیما بدخولہ اولا فی القریۃ ا لاخری ترجمہ:مگر یہ کہ ان دو میں سے ایک جگہ دن میں ٹھرنے اور دوسری جگہ دن گزارنے کی نیت کرے ،تو جب اس قریہ میں داخل ہوا جہاں پندرہ راتیں گزارنےکی نیت کی تو مقیم ہو جائے گا،اور اگر پہلے دوسری بستی میں داخل ہوا تو مقیم نہیں ہو گا ۔(خلاصۃ الفتاوی جلد 01 صفحہ 199)
کیوں کہ ہر شخص کا مقام ِ اقامت وہی کہلاتا ہے جہاں وہ رات بسر کرتا ہے مجمع الانھر میں ہے:لان اقامۃ المرء تضاف الی مبیتہ ترجمہ آدمی کی اقامت اسکے رات گزارنے کی طرف منسوب ہوتی ہے ۔(مجمع الانھرشرح ملتقی الابحر جلد 01صفحہ 162)
لیکن مسافر حاجی کے لیے اس صورت پر عمل کرنا انتہائی دشور ،اور اگر کوئی مشقت برداشت کرتے ہوئے عمل کرے تومناسکِ حج میں کئی سنتوں کاترک لازم آئے گا ۔جس کی شرعا اجازت نہیں دی جا سکتی ۔
بعض علمائےعصر کا اشکال:
بعض مفتیان کرام فرماتے ہیں کہ اب منی الگ سے،مستقل مقام نہیں رہا بلکہمکہ کی توسیع در توسیع ہونے کی وجہ سے منی حدود ِمکہ میں شامل اور اس کے تابع ہو گیا ہے۔ اس لیے منی تیسری صورت سے نکل کر دوسری صورت میں شامل ہو گیا ہے ۔سو اگر مسافر مکہ میں پندرہ دن ، قیام کے دوران مناسک ِ حج کیادائیگی کے لیے منی وغیرہ بھی جائے تو اس کی نیتِاقامت پرکوئی فرق نہیں پڑے گا ،اور وہ مقیم کی سی نماز پڑھے گا۔
حلِ اشکال:
اگر بر سبیلِ تنزل یہ بات مان بھی لی جائے کہ منیحدود ِمکہ میں داخل ہے پھر بھییہ ناکافی ہو گا ۔اس لیے کہ حدود مکہ میں داخل ہونے کے ساتھ ساتھ تابعیت ضروری ہے اور تابعیت کا معیار یہ ہے کہ اس بستی کے رہنے والوں پر شہر میں جا کر جمعہ پڑھنا واجب ہو۔جبکہ بعض فقہائے کرام نے تو اس میں ایک اور شرط کا اضافہ کیا ہے کہ بستی کے باثیوں کو شہر کی آزان کی آواز سنائی دے۔
واللہ تعالٰی اَعلمُ بالصَّوابِ
کتبـــــــــــــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:14صفر المظفر 1443 ھ/22ستمبر 2021ء