طلاق طلاق طلاق بولنے کا حکم
    تاریخ: 26 نومبر، 2025
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 285

    سوال

    میرا نام مسرت ہے،میری دو بیٹیاں ہے۔ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے۔ اب وہ مجھ سے رجوع کرنا چاہتے ہیں اور میں بھی کرنا چاہتی ہوں، اس لئے کہ میری دو بیٹیاں ہیں۔طلاق کی وجہ یہ تھی کہ میرے شوہرپر میں شک کرتی تھی۔شک کی وجہ یہ ہے کہ ان کی میری دوست سے دوستی ہو گئی تھی۔آنا جانا بہت بڑھ گیا تھا اور مجھے اپنے شوہر کا اپنی دوست کے گھر آنا جانا پسند نہیں آتا تھا۔ایک دن ایسا ہوا کہ میرے شوہر اپنی بیٹی کو ٹیوشن لینے جا رہے تھے ۔ان کی چھینتائی ہو گئی اور ان کو لڑکوں نے بہت مارا اور پیسے موبائل وغیرہ بھی لے گئے۔پستول سے مارا اور سر بھی پھٹ گیا،بہت خون بھی نکلا ۔ پھر وہ گھر آئے تو میں ان کو ہسپتال لے کر گئی ان کا دماغ کام نہیں کر رہا تھا، 6 ٹانکے لگے۔ہسپتال سے گھر لے کر آئی تو میں بولی کہ آرام کر لیں۔ لیکن انہوں نے گھر پر آرام نہیں کیا بلکہ میری دوست کے گھر آرام کرنے چلے گئے ۔جب میں تھوڑی دیر بعد اپنی دوست کے گھر گئی تو وہ وہیں تھے اور وہ گھر میں بتا کر بھی نہیں گئے تھے۔ انہیں اپنی دوست کے گھر میں دیکھ کر مجھے بہت غصہ آیا۔پھر میں نے ان کو وہیں بہت الٹا سیدھا بولا۔ہم لوگ اپنے گھر آئے تو گھر پر بھی بہت بحث ہوئی۔اس لڑائی میں وہ ایک بار بولے ’’طلاق ‘‘ پھر کچھ دیر بعد دوبارہ بولے ’’طلاق‘‘ اتنے میں میری بڑی بہن نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا،اس کا ہاتھ ہٹا کر پھر بولے ’’طلاق ‘‘۔وہ اپنے ہوش میں نہیں تھے ۔ انہیں سر پر چوٹ لگی ہوئی تھی۔میں اپنی امی کے گھر آگئی ۔ سب نے عدّت میں بیٹھے کا کہا ۔میں عدّت میں بیٹھی اور عدّت پوری ہوگئی ہے ۔میرے سابقہ شوہر دوبارہ رجوع کرنا چاہ رہے ہیں۔ہماری دو بیٹیاں ہیں۔پانچ مہینے گزر گئے ہیں۔آپ سے گزارش یہ ہے کہ اس مسئلے کا کچھ حل نکالیں تاکہ میں اپنے سابقہ شوہر کے پاس جا سکوں کیونکہ دو بیٹیوں کا ساتھ ہے۔

    نوٹ:شوہر کے بیان کے مطابق بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا کہ مجھے طلاق دو،جس کے جواب میں مذکورہ جملے کہے گئے۔شوہر کے پاس اپنے دماغی خلل کے ثبوت کی رپورٹ نہیں۔پھر شوہر کا یہ بیانیہ دینا خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت ان کی دماغی حالت درست تھی۔

    سائل: بمعرفت مولانا معراج المدنی صاحب۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہاں تین طلاق مغلظہ واقع ہوکر عورت شوہر پر حرام ہو چکی ہے۔اور شوہر ایک مجلس میں تین طلاقیں دینے پر سخت گناہ گار اور حرام کےمرتکب ہوئےاس پراللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔اب بغیر تحلیلِ شرعی عورت ،شوہر کے لئے حلال نہیں ہو گی۔

    تحلیل ِ شرعی کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر ماہواری آتی ہے تو تین ماہواری آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو پھر اس کی عدت وضعِ حمل یعنی بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے وغیرہ کی وجہ سے ماہواری نہیں آتی تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونے کے بعدوہ اس کو طلاق دے اورپھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے ۔

    تفصیل:

    طلاق دینے کیلئے بیوی کی طرف طلاق کی اضافت کرنا شرط ہے خواہ اضافت لفظوں میں ہو یا نیت میں۔

    لفظوں میں اضافت کی تین صورتیں ہیں :

    (۱)اضافتصراحت کے ساتھ لفظوں میں موجود ہو۔جیسے میں نےتجھے طلاق دی۔

    (۲)طلاق کے الفاظ جس کلام کے جواب میں واقع ہوئےاس کلام میں اضافت موجود تھی، تو وہ اضافتجواب میں بھی متحقق ہوگی کیوں کہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے۔جیسے بیوی شوہر سے کہے کہ مجھے طلاق دے دو تو جواب میں شوہر کہے دے دی ۔یہ ضرور ہے کہ الفاظِ طلاق سے پہلے اجنبی چیز کا ذکر نہ ہو ،نہ ہی ایسا فعل سر زد ہو جوالفاظِ طلاق کو جواب کی بجائے رَد پر محمول کر دے ۔

    (۳)عرف میں الفاظِ طلاق کے ساتھ اضافت مختص سمجھی جاتی ہو کہ شوہرجب بھی وہ الفاظ بولے تو ان سے بیوی کو طلاق دینا ہی سمجھا جاتا ہو۔جیسے عربی لفظ ’’علی الطلاق ‘‘ یعنی مجھ پر طلاق لازم ہے۔

    ان تینوں اقسام میں شوہر سے نیت پوچھے بغیر طلاق کا حکم دیا جائے گا کہ ان میں نیت متعینہے۔

    سوال میں مذکورہ صورتکا تعلق دوسری قسم سے ہے کہ بیوی کے سوال پر شوہر نے الفاظِ طلاق کا تلفظ کیا ۔یہاں شوہر سے نیت نہیں پوچھی جائے گی کہ اس سے تم نے بیوی کو طلاق دینے کی نیت کی یا نہیں بلکہ بغیر نیت پوچھے طلاق کا حکم دیا جائے گا،لان السوال معاد في الجواب کہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے۔

    بر سبیل تنزل:

    سوال میں تیسری صورت بھی متحقق ہے کہ فی زمانہ یہ جملہبیوی کو طلاق دینے کیلئے ہی بولا جاتا ہے۔لہذا عرفا ً نسبت و اضافت اس جملہ کے خاص ہو گئی ۔لہذا اس صورت میں بھی نیت پوچھے بغیر طلاق کا حکم دیا جائے گا،اس لئے کہ المعروف کالملفوظ یعنی معروف ملفوظ کی طرح ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ.ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے‘‘۔(البقرۃ: 230)

    اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔ ( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) تحلیل شرعی کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’حلالہ کے یہ معنی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے... وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،12/84،رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان نور اللہ مرقدہ الشریف نے اضافت ونسبت پر اپنی معرکۃ الآراء بحث میں فرماتے ہیں:’’اماوجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول علی ثلثۃ انحاء، الاوّل (۱)تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذاالذی ذکرالحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق او طلقتک او ھذہ او زینب اوبنت زید او ام عمرو اواخت بکر او امرأتی طالق. الثانی(۲)تحققھا فیہ لاجل کونہ جوابا کلام تحققت فیہ فتحقق فی الجواب ایضالان السوال معاد فی الجواب وھذامافی الہندیۃ عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست تو است، مراطلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکررثلثا طلقت ثلثا.ترجمہ:یا لفظوں میں اضافت کا موجود ہونا فاقول (تو میں کہتا ہوں) یہ تین طرح ہوتی ہے ، اول یہ کہ خاوند کی کلام میں صراحتا پائی جائے وہ یہ ہے جس کی مثالیں علامہ حلبی اور طحاوی نے ذکر کی ہیں، مثلاً تو طلاق والی ہے، میں نے تجھے طلاق دی،(بیوی کواشارہ کرتے ہوئے) اس کو، نام لےکر، زینب کو، زید کیی بیٹی کو، عمرو کی ماں، بکر کی بہن کو، میری بیوی کو، طلاق۔دوسری صورت یہ کہ طلاق کے الفاظ کسی ایسی کلام کے جواب میں ذکر کئے جائیں جس میں اضافت مذکورتھی تو اس وجہ سے وہ اضافت جواباً طلاق کے الفاظ میں بھی متحقق ہوگی، کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے، اس کی مثالیں ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہیں، مثلاً بیوی کہے’’طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے‘‘۔ تو جواب میں خاوند کہے’’میں نے طلاق دی‘‘ تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقین بیوی کو پڑیں گی۔(فتاوی رضویہ ،12/344،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    آپ علیہ الرحمہ عرفی اضافت کی بابت فرماتے ہیں: الثالث ان لایشتمل کلامہ علی الاضافۃ ولایکون خرج مخرج الجواب لکن یکون اللفظ خصّہ العرف بتطلیق امرأۃ فحیث یطلق یفھم منہ ایقاع الطلاق علی المرأۃ کقولھم الطلاق یلزمنی والحرام یلزمنی وعلی الطلاق وعلی الحرام فانہ کما قال فی ردالمحتار صارفاشیا فی العرف فی استعمالہ فی الطلاق لایعرفون من صیغ الطلاق غیرہ ولایحلف بہ الا الرجل فھھناوان لم تذکر الاضافۃ لفظا لکنھا ثابتۃ عرفا والمعھود عرفا کالموجود لفظا فمن ھٰھنا وجدت الاضافۃ فی اللفظ وحکم بالوقوع من دون نیۃ.ترجمہ:لفظی اضافت کی تیسری صورت یہ ہے کہ شوہر کا کلام اضافت پر مشتمل نہ ہو نہ ہی اس کا کلام جواب کے طور پر واقع ہوا ہوالبتہ عرف نے وہ لفظ بیوی کو طلاق دینے کے لئے مختص کردیا ہو کہ جب شوہر (اس لفظ کے ذریعے) طلاق دے تو اس سے عورت کو طلاق دینا ہی سمجھا جائے ۔ مثلاً کوئی کہے’’طلاق مجھ پرلازم ہوگی‘‘ یا ’’حرام مجھ پر لازم ہوگا‘‘ یا ’’مجھ پر طلاق ہے‘‘ یا ’’مجھ پر حرام ہے‘‘ جیسا کہ علامہ شامی نےردالمحتار میںفرمایاکہ ان الفاظ کا عرفا بیوی کو طلاق میں استعمال ہونا مشہور ہوچکا ہے یہاں تک کہ لوگ (ان )طلاق کے صیغوں سے طلاق کےعلاوہ (کوئی دوسرا مفہوم )نہیں سمجھتے اور ان الفاظ کو صرف مرد ہی طلاق کی قسم کے لئے استعمال کرتے ہیں۔پس یہاں پر اگرچہ اضافت لفظوں میں مذکور نہیں، لیکن عرفاً اضافت ثابت ہے، اورجو چیز عرفاً معلوم ہو وہ ایسے ہی معتبر ہے جیسے لفظوں میں مذکور چیز ہوتی ہے پس ایسے مقامات پر (گویا)اضافت لفظوں میں پائی گئی لہذا وقوع ِطلاق کا حکم نیت کے بغیر دیا جائے گا۔(فتاوی رضویہ ،12/350،رضافاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اشکا ل اور اس کا جواب :

    امام اہلسنت علیہ الرحمہ نے تو طلاق طلاق طلاق میں شوہر کی نیت کا اعتبار کیا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ آپ علیہ الرحمہ نےاپنے دور کے لحاظ سے نسبت و اضافت کینیت کو ضروری قرار دیا تھا کہ اس زمانہمیں اس طرح کے جملہ میں اضافت عرفاً نہیں سمجھی جاتی تھیجبکہ ہمارے زمانہ میں سمجھی جاتی ہےلہذا بغیر نیت کے طلاق ہو گی۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21ذو القعدہ 1445 ھ/30 مئی 2024ء