سوال
مسمی امین صاحب کا انتقال سن 2025ء میں ہوا۔ مرحوم نے اپنے ترکہ میں ایک گھر چھوڑا ہے۔ مرحوم کے ورثاء میں تین بیٹیاں (عظمت، ثنا اور شگفتہ)، تین بھائی (نذیر، سہیل اور انیس) اور ایک بہن (زینت) باحیات ہیں۔بیوی اور والدین کا انتقال امین صاحب کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا۔اسی طرح ایک بیٹی (بینا) کا انتقال بھی امین صاحب کی زندگی میں ہو چکا تھا۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ امین صاحب کے ترکہ کو شرعی اصولوں کے مطابق ورثاء میں کس طرح تقسیم کیا جائے گا؟
سائل: عبدالرزاق
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 63 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو علیحدہ 14 حصے، ہر ایک بھائی کو علیحدہ 6، اور بہن کو 3حصے تقسیم ہونگے۔
نیز ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 63 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔
یاد رہے کہ ترکہ کے وہی وارثین مستحق ہوتے ہیں جو میت کے انتقال کے وقت حیات ہوں یعنی اگر کوئی وارث میت سے پہلے انتقال کرتا ہے تو نہ وہ ترکہ سے حصہ پائے گا نہ ہی اس کے اپنے ورثاء۔مزید یہ کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
3×21=63
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
3 بیٹیاں (عظمت، ثنا اور شگفتہ) 3بھائی(نذیر، سہیل اور انیس) 1بہن(زینت)
ثـــلثــــان عصـــــــــــــــــــــــبہ
2×21 1×21=21
42/14 18/6 3
دلائل و جزئیات:
السراجی فی المیراث میں ہے : "تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ : الاول یبدا بتکفینہ وتجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ، ثم تنفذ وصایا ہ من ثلث ما بقی بعد الدین ، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ".ترجمہ:میت کے ترکہ کے ساتھ ترتیب وار چار حقوق متعلق ہیں: مناسب تجہیز و تکفین سے ابتدا کی جائے گی ، پھر بقیہ مال سے اس کے قرضے ادا کئے جائیں گے ، قرضوں کی ادائیگی کےبعد بقیہ مال کے ثلث سے وصیت کو نافذ کیا جائے گا ،پھر باقی ترکہ ورثاء کےدرمیان تقسیم کیا جائے گا۔( السراجیۃ مع القمریۃ،ص:11/12،مکتبۃ المدینہ العلمیہ کراچی)
بیٹیوں کے حصے کے متعلق ارشاد ہوا: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ. ترجمہ:پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔(النساء :11)
بہن بھائیوں کے حصے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ.ترجمہ: اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر۔(النساء: 176)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال". ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
وراثت صرف ان میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث کے وصال کے وقت زندہ ہوں،چنانچہ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه. ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موت سے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے،(لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔(الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب المفقود ،2/424،دار احیاء التراث العربی)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:"وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت أي وقت الحكم بالموت".ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب المفقود،7/367،دار الکتب العلمیۃ)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27 جمادی الآخری 1447ھ/19 دسمبر 2025ء