سوال
ہمارے ہاں شادی وغیرہ کی رتقریبات میں حلال مشروبات جن بوتلوں اور گلاسوں میں دیے جاتے ہیں ان جیسی بوتلیں اور گلاس عموما شراب خانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔کیا ایسی بوتلیں اور گلاسوں کا استعمال جائز ہو گا کہ نہیں ؟جبکہ ان میں مشابہت کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔برائے کرم جواب عنایت فرمائیں!
سائل:عثمان، انگلینڈ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مسلمانوں کو کفار و فساق کی مشابہت سے بچنے کا حکم ہے،اسی طرحایسے افعال کی مشابہتسے بچنے کا حکم ہے ،جو فساق کے ساتھ خاص ہیں۔ البتہ جن بوتلوں اور گلاسوں کی بابت پوچھا گیا ہے،یہ چیزیں بغیر کسی تخصیص کے تقریبات میں عام استعمال ہوتی ہیں،شراباور شراب خانوں کے ساتھ ہی خاص نہیں۔لہذا عدم مشابہت(جو حرمت کے لیے ضروری ہوتی ہے) کی بناء پر ان کے استعمال میں حرج نہیں ۔البتہ کوئی شخص بر بنائے تقویبچنا چاہے تو بہتر ہے۔
درر الحکام شرر غرر الحکام میں ہے:(وَالِانْتِبَاذُ) أَيْ حَلَّ اتِّخَاذُ النَّبِيذِ (فِي الدُّبَّاءِ) وَهُوَ الْقَرْعُ (وَالْخَتْم) وَهُوَ الْجُرَّةُ الْخَضْرَاءُ (وَالْمُزَفَّت) وَهُوَ الظَّرْفُ الْمَطْلِيُّ بِالزِّفْتِ (وَالنَّقِير) وَهُوَ ظَرْفٌ يَكُونُ مِنْ الْخَشَبِ الْمَنْقُورِ فَإِنَّ هَذِهِ الظُّرُوفَ كَانَتْ مُخْتَصَّةً بِالْخَمْرِ فَلَمَّا حُرِّمَتْ حَرَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتِعْمَالَ هَذِهِ الظُّرُوفِ إمَّا لِأَنَّ فِيهِ تَشَبُّهًا بِشُرْبِ الْخَمْرِ وَإِمَّا لِأَنَّ فِيهَا أَثَرَ الْخَمْرِ فَلَمَّا مَضَى مُدَّةٌ أَبَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتِعْمَالَهَا ۔ترجمہ:نبیذ بنانا( دباءمیں)یہ کدو ہے۔ اور(ختم میں) یہ مٹی کاسبز گھڑاہے۔(اور مزفت میں ) یعنی تار کول چڑھا ہوا برتن ۔(اور نقیر میں )وہ برتن جو لکڑ ی کی کھڈائی کرکے بنایا جاتاہے،(ان میں نبیذ بنانا )جائز ہے۔کیوں کہ یہ ظروف شراب کے ساتھ خاص تھے ،پس جب شراب کی حرمت آئی تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ان برتنوں کے استعمال کو بھی حرام قرار دے دیا۔ (بہرحال اس حرمت کے دو سبب ہو سکتے ہیں۔)یا تو(1) اس میں شراب کے ساتھ مشابہت ہے۔(2)یا پھر حرمت کی وجہ اس میں شراب کے اثر کا پایا جانا ہے۔پس جب کچھ مدت گزر گئی تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ان برتنوں کو دوبارہ مباح فرمادیا۔(درر الحکام شرح غرر الحکام جلد 02صفحہ88 ،دار إحياء الكتب العربية)
مجمع الانھر میں ہے:حُرِّمَ اسْتِعْمَالُ هَذِهِ الظُّرُوفِ تَشْدِيدًا فِي تَحْرِيمِ الْخَمْرِ لِيَتْرُكَهُ النَّاسُ فَلَمَّا مَضَتْ الْأَيَّامُ أُبِيحَ اسْتِعْمَالُهَا لِاسْتِقْرَارِ الْأَمْرِ بِالتَّمَامِ ترجمہ: شراب کی حرمت میں شدت پیدا کرتے ہوئے (شراب کے)ان برتنوں کو بھی حرام کر دیا گیا تاکہ لوگ اس کو ترک کر دیں،پھر جب کچھ مدت گزر گئی تو انکا استعمال مباح کر دیا گیا کیوں کہ حکم(شراب کی نہی کا)مکمل طور پر قرار پکڑ چکا تھا ۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، جلد 2صفحہ 573 دار إحياء التراث العربي)واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدنيٓ
تاريخ اجراء: 26ربیع الثانی 1443 ھ/2 دسمبر2021ء