سوال
وراثت کی تقسیم کے متعلق عرض گزار ہوں میرے پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں جبکہ زوجہ کا انتقال ہو چکا ہے۔۔۔میری خود کی عمر ستر برس سے اوپر ہو چکی ہے۔۔میرے چار مکان اور ایک پلاٹ ہے ۔جس کی تفصیل درج ذیل ہے :
دو مکانوںمیں سے ہر ایک کی قیمت سوا کروڑ روپے بنتی ہے ۔ تیسرے اور چوتھے مکان کی قیمت 25 سے 30 لاکھ روپے بنتی ہیں۔
پہلا مکان جو سوا کروڑ والا ہے اس میں تین بچے رہائش پذیر ہیں اور دوسرے سواکروڑ والے مکان میں ایک بچہ رہائش پذیر ہے۔تیسرا مکان جس کی مارکیٹ ویلیو 25 سے تین لاکھ ہے وہ کاروبار کے لیے وقف ہےیعنی ہمارا کاروبار(چپس کا ) اسی میں ہوتا تھا ۔پانچویں بیٹے کو اس کی ماں کی موجودگی میں میں نے ایک مکان (جو 25 سے 30 لاکھ والا ہے )دے دیا تھا۔ یہ تمام چیزیں اسی کاروبار سے بنائی تھیں۔
میرے پانچوں لڑکے اور دونوں لڑکیاں شادی شدہ ہیں۔اس کاروبار پر صرف دو لڑکوں کا کنٹرولہے۔اب مجھے کاروبار کے متعلق کوئی بھی معلومات حاصل نہیں کہ کیا آمدنی ہے اور کیا اخراجات ہیں؟
دو بچوں کے علاوہ(جن کے کنٹرول میں کاروبار تھا ) کوئی بھی بیٹا بیٹی استقسیم پر خوش نہیں۔آپ سے التماس ہے کہ شرعی اعتبار سے تقسیم کاری کر کے بتائیں کہ کس کو کتنا ملے گا ؟میں اپنی زندگی میں قرآن وسنت کے مطابق ان میں تقسیم کر کے سرخ رو ہونا چاہتا ہوں ۔
نوٹ:سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ قبضہ حقیقی صرف ایک بچے کے حق میں پایا گیا ۔
سائل: سید بشارت علی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں سوائے ایک بیٹے (جسے ماں کی موجودگی میں ایک مکان دے دیا گیا )اس کے علاوہ کسی کے حق میں ہبہ تام نہیںہوا یعنی اس ایک مکان کے علاوہ باقی تمام مکانات اور پلاٹ پر صرف اور صرف آپ کی ملکیت ہے ۔
آپ اگر تمام بچوں کو اور بچیوں کے مابین تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ :
جو جو مال آپ کی ملکیت میں ہے اس سارے کی مارکیٹ ویلیو لگا کر سب بچوں بچیوں میں برابر برابر تقسیم کر دیں کہ یہ (برابر) تقسیم کرنا افضل ہے ورنہ میراثکی تقسیم (یعنی بیٹیوں کو بیٹوں کے مقابلے میں نصف دینا )کے طور پر تقسیم کر دیں کہ یہ بھی جائز ہے ۔اور اس میں جس بیتے کوپہلے مکان دے دیا تقسیم کرتے وقت اس کے حصے سے مکان کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے لحاظ سے جو رقم بنتی ہے اس کو منہا (مائنس) کر دیا جائے مثلاً اس کا حصہ پچاس لاکھ بنےاور اس کے مکان کی مارکیٹ ویلیو 30 لاکھ ہو تو اس کو بیسلاکھ دے دیں ۔
حاشیہ طحطاوی میں ہے : الافضل فی ہبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختارترجمہ:بیٹی اور بیٹے کو ہبہ دینے میں تین حصے میراث کے طورپر افضل ہے۔ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی کے نزدیک نصف نصف دینا افضل ہے اور یہی مختار ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارجلد3صفحہ400 کتاب الھبۃ دارلمعرفۃ بیروت)
چناچہ امام اہلسنتامام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولٰی تسویہ(برابری ہے)، ہاں اگر بعض اولاد فضلِ دینی میں بعض سے زائد ہو تو اس کی ترجیح میں اصلا باک نہیں۔ علامہ طحطاوی نے فرمایا: ’’ یکرہ ذٰلک عند تساویہم فی الدرجۃ کما فی المنح والنہدیۃ اما عند عدم التساوی کما اذا کان احدھم مشتغلا بالعلم لابالکسب لاباس ان یفضلہ علی غیرہ کما فی الملتقط ای ولایکرہ وفی المنح روی عن الامام انہ لاباس بہ اذا کان التفضیل لزیادۃ فضل لہ فی الدین‘‘ ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں مکروہ ہے (جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے)اور اگر مساوی نہ ہوں مثلاً ایک علم دین میں مشغول ہے اور کماتا نہیں تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے( جیسا کہ ملتقط میں ہے) یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 19صفحہ 231رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 15جمادی الاولی4144 ھ/10دسمبر2022 ء