walid ke makan mein bajazat tameerat ke baad warasat ka hukum
سوال
میری والدہ نے ایک مکان گراؤنڈ فلور خریدا جس میں کچھ رقم کم تھی،میں نے اس میں وہ رقم ملائی ۔ گراؤنڈ فلور خریدنے کے بعدفرسٹ فلور کی مکمل تعمیرات میں نے کی ۔اس میں کسی کا بھی ایک روپیہ بھی نہیں تھا۔اس کے بعد سب بہن بھائیوں سے والدہ نے کہہ دیا تھاکہ فرسٹ فلور چونکہ عاقل نے بنایا ہے اس لئے اس میں کسی اور کا کوئی حق نہیں ہے۔اب والدہ کا انتقال ہوگیا ہے، اب سوال یہ ہےکہ جب جائیداد کی تقسیم ہوگی تو فرسٹ فلور کو شامل کیا جائے گا یا نہیں ؟
سائل:محمد عاقل: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت اگر سچ پر مبنی ہے تو اس صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ فرسٹ فلور کے آپ تنہا مالک ہیں ، جب بھی وراثت تقسیم ہوگی فرسٹ فلور وراثت میں شامل نہیں ہوگا۔جیساکہ سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے مکان بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ محل اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ،جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
الاشباہ کے الفاظ یہ ہیں : كُلُّ مَنْ بَنَى فِي أَرْضِ غَيْرِهِ بِأَمْرِهِ فَالْبِنَاءُ لِمَالِكِهَا۔ترجمہ:جس نے غیر کی زمین میں اسکی اجازت سے تعمیرات کی تو تعمیرات مالک ِ زمین کی ہوگی۔
اسکے تحت حاشیہ حموی میں ہے:ھذا اذا اطلق او عینہ للمالک فلو عینہ لنفسہ فھو لہ۔ترجمہ:یہ اس وقت ہے جب اس نے تعمیرات مطلق رکھی یا مالک کے لئے انہیں متعین کردیا لیکن اگر اس نے اپنے لئے تعیین کردی تو وہ تعمیرات اسکی ہوگی۔(حاشیۃ الحموی علی الاشباہ ، ج 2 ص 100)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:27جمادی الثانی 1441 ھ/22فروری0 202 ء