budh ke din hijama lagwana kaisa
سوال
سوال:کیا حجامہ بدھ کے دن لگانا منع ہے ؟اگر اسلامی تاریخ بدھ کو آجائے تو حجامہ لگوانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جن دنوں میں حجامہ لگوانے کی ممانعت وارد ہوئی ہے وہ سب ضعیف روایات ہیں کسی بھی دن حجامہ لگوایاجاسکتا ہے البتہ قمری مہینے کے تین دنوں میں یعنی قمری مہینے کی ۱۷، ۱۹اور ۲۱تاریخ میں حجامہ کرانا صحیح حدیث سے ثابت ہے حجامہ لگوانا بہتر و افضل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نہار منہ حجامہ لگوانا زیادہ مفید ہے اس سے عقل میں اضافہ اورحافظہ تیز ہوتا ہے اور اچھی یاداشت والے کی یاداشت بھی زیادہ ہوجاتی ہے.جس نے حجامہ لگواناہو وہ اللہ کا نام لے کر جمعرات کو لگوائے ۔بدھ والے دن بھی سینگی لگوانے سے بچو،کیونکہ ایوب علیہ السلام کو اسی دن آزمائش آئی تھی ۔جذام اور برص صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ظاہر ہوتا ہے ۔(سنن ابن ماجہ :۳۴۸۸،)
اور قمری مہینے کی ۱۷، ۱۹اور ۲۱تاریخ میں حجامہ کرانا صحیح حدیث سے ثابت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان تاریخوں میں حجامہ کرانے کو پسند فرماتے تھے، بضرورت کسی بھی تاریخ میں حجامہ کا عمل کرایا جاسکتا ہے لیکن مذکورہ تاریخوں میں افضل ہے البتہ بعض مرسل روایتوں میں یہ آیا ہے کہ ”اگر کسی نے بدھ یا سنیچر کے دن حجامہ کرایا اور پھر اس کو سفید داغ کا مرض ہوگیا تو وہ خود کو ملامت کرے“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بدھ اور سنیچر کو حجامہ نہ کرانا بہتر ہے۔
لہذااگر عام دن ہوں تو بدھ کے دن حجامہ نہ کرائے البتہ اگر بدھ کے دن وہ اسلامی تاریخ آجائے جس کا حدیث پاک میں ذکر آیا تو منع نہیں ہے، کیونکہ حدیث پاک میں اس کی تخصیص موجود ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی