حلال اور پاک میں فرق

    halal aur pak mein farq

    تاریخ: 13 جون، 2026
    مشاہدات: 47
    حوالہ: 1450

    سوال

    پاک اور حلال میں کیا فرق ہے ؟ ایک تو کھانے کی چیزوں میں استعمال ہوتا ہے مثلاً یہ چیز حلال ہے، یا یہ چیز حلال نہیں ہے۔ اور دوسرالفظ پاک ہے یہ لفظ اکثر مقدس جگہوں یا مقدس چیزوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مثلاً قرآن پاک، کعبہ پاک وغیرہ۔یوں ہی چیزوں کے لئے بھی بولتے ہیں مور پاک ہے وغیرہ۔

    سائل:شہزاد احمد : کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ان دونوں الفاظ کے معانی قریب قریب ہیں۔ لیکن ان کے مفہوم میں ہلکا سا فرق ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ حلال عربی لفظ ہےاور اس سے مراد وہ چیز ہے کہ جس کی حرمت کی گرہ کھل گئی ہو ۔شرع میں جس کااستعمال یا کھاناماموربہ ہے۔ جبکہ پاک کو عربی میں طیب کہتے ہیں ، جس کا معنٰی ہے وہ چیز جو حلال ذرائع سے حاصل کی گئی ہو۔ بعض علماء نے یہ بھی فرمایا طیب وہ چیز ہے جس کے کھانے سے کی طبیعت سلیمہ راغب ہو اور اسے کھانے سے کراہت محسوس نہ کرے۔

    اسکے علاوہ طیب کے کچھ اور اطلاقات بھی ہیں مثلاً طیب ہر وہ چیز ہےجو ایسی عمدہ، صاف ستھری اور خوشگوار کہ دیکھنے سے دل خوش ہو جائے۔ اور اسکی تعظیم کو ضروری سمجھا جائے جیسے قرآن پاک، کعبہ پاک وغیرہ ۔ جو ظاہری نجاستوں سے مکمل پاک صاف ہو۔سو اس اعتبار سے اشیائے مقدسہ یا اماکنِ (جگہیں ) مقدسہ بھی پاک ہیں ۔

    قرآنِ عظیم میں پاک یا پاکیزہ(معنی طیب) لفظ متعدد جگہ استعمال ہوا ہے۔مثلاً نجاست سے پاک مٹی (النسا ۴:۵) پاکیزہ ہوا (کشتی کے لیے نرم اور موافق ہوا) (یونس ۱۰:۲۲) پاکیزہ کلمہ، پاکیزہ درخت (ابراہیم ۱۴:۲۴) پاکیزہ زندگی (شرک، نفاق اور فِسق سے پاک) (النحل ۱۶:۹۷) سلام ….. بابرکت پاکیزہ تحفہ (النور ۲۴:۱۶) پاکیزہ شہر (صاف ستھرا، فرحت بخش) (سبا: ۱۵) جنت کے پاکیزہ مکانات (صف: ۱۲) اپنے پاس سے پاکیزہ اَولاد (آلِ عمران ۳:۳۸)

    یوں ہی اگر ہم کھانے پینے کی چیزوں کے لیے طیب کا مفہوم اخذ کرنا چاہیں، تو کچھ اِس طرح بنتا ہے کہ طیب کھانا ایسا ہے جو دیکھنے میں صاف ستھرا ہو، اس کی بُو ٹھیک ہو، ذائقہ بھی درست ہو، صحت کے لیے موافق ہو، صحت کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہ ہو اور جس برتن میں کھانا ہو وہ برتن بھی صاف ستھرا ہو۔

    لسان العرب میں ہے: وفي الصحاح: الطيب خلاف الخبيث؛ قال ابن بري: الأمر كما ذكر، إلا أنه قد تتسع معانيه، فيقال: أرض طيبة للتي تصلح للنبات؛ وريح طيبة إذا كانت لينة ليست بشديدة؛ وطعمة طيبة إذا كانت حلالا؛ وامرأة طيبة إذا كانت حصانا عفيفة، ومنه قوله تعالى: الطيبات للطيبين۔ترجمہ:صحاح میں ہے طیب خبیث کی ضد ہے، ابن بری نے کہا معاملہ یوں ہی ہے مگر اسکے معنٰی میں وسعت ہے پس " پاک زمین" قابل زراعت زمین ،جس میں پودے اگ سکیں کو کہا جاتا ہے۔ نسیم پاک، ملایم ہوا کو کہتے ہیں جس میں تیزی نہ ہو، طعام طیب، یعنی حلال غذا اور پاک عورت، یعنی، پاک دامن خاتون۔ قرآن مجید میں" الطیبات للطیبین والطیبون للطیبات" کا جملہ اسی معنی میں آیا ہے۔( ابن منظور، لسان العرب، ج 1 ص 563، دار صادر، بیروت، 1414 ء)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 رمضان المبارک 1443 ھ/12 اپریل 2022 ء