tax chhupane ka sharai hukm
سوال
آپ سے دو سوالات پوچھنے تھے :
1:میں ایک CA firm میں آرٹیکلز کررہا ہوں اور CA کے لیے 3.5 سال کسی فرم میں لگانا ضروری کیا ہم کسی بینک کا آڈٹ کر سکتے کیونکہ اگر ان کے ریکارڈ میں کوئی غلطی ہوئی تو ہمیں ٹھیک کرانی ہو گی ۔
2:جب ہم کسی کی ٹیکس ریٹرن فائل کرتے تو ہمارے سینئر آخر میں کہتے کہ ردوبدل کر دو تاکہ ظالمانہ ٹیکس کم ہو ، ہم انکار کریں گے تو وہ ہمیں نکال دیں گے تو کیا ہمارا وہاں یہ کام کرنا ٹھیک یا چھوڑ دینا چاہیے؟
سائل:ناصر علی :کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: کمرشل یا سودی بینک کے آڈٹ فرم میں کام کرنا ناجائز ہے کیونکہ یہ براہِ راست تعاون علی الاثم کی صورت ہے جیسا کہ کیشیئر کی جاب۔ لہذا کمرشل بینک کے آڈٹ فرم میں جاب کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
تفصیل اسکی یہ ہے کہ
آڈیٹر کا بنیادی کام بینک کے مالیاتی گوشواروں Financial Statements))ور ان کے کھاتوں کی جانچ پڑتال کرنا ہوتا ہے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ تمام اندراجات صحیح اور باضابطہ ہیں۔ بینک کے آڈٹ کے دوران ایک آرٹیکل اسٹوڈنٹ یا آڈیٹر کو سودInterest)) پر مبنی معاملا ت، سود کی مد میں ہونے والی آمدن اور اخراجات، اور سود سے متعلق دستاویزات کو پڑھنا، ان کی تصدیق کرنا اور ان کو درست کھاتے میں منتقل یا ٹھیک کرانا پڑتا ہے۔ اور یہ سب سود کا حساب رکھنا اور اسے لکھنے کے زمرے میں داخل ہے اور شرعی اعتبار سے سود کا حساب کتاب رکھنا اور اس کی تصدیق و انڈورسمنٹ کرنا سخت ممنوع اور گناہ کے کاموں میں شمار ہوتا ہے۔حدیث کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کا کاغذ یعنی تحریر لکھنے والے اور اس کے دونوں گواہوں پر لعنت فرمائی ہے اور ارشاد فرمایا کہ "یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں"(صحیح مسلم)۔ لہذا جب کوئی آڈیٹر کمرشل بینک کے سودی کھاتوں کی جانچ کرتا ہے، ان غلطیوں کی نشاندہی کرکے انہیں سودی اصولوں کے مطابق ٹھیک کرواتا ہے یا ان کی درستی پر اپنی رپورٹ مرتب کرتا ہے، تو وہ عملًا سودی نظام کی مضبوطی، اس کے اندراج اور اس کے ریکارڈ کو مرتب رکھنے میں مدد فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ یہ عمل قرآن کریم کے اس حکم :وتعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (اور نیکی و تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ و سرکشی میں تعاون نہ کرو) کی صریح مخالفت ہے جس کے باعث کمرشل و سودی بینکوں کے شعبہ آڈٹ میں کام کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے۔
دلائل و جزئیات:
قرآن مجید میں اللہ کریم کا ارشاد ہے:وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔(الْبَقَرَة ، 2 : 275)
دوسری جگہ ارشادہے :یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ۔ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے) ایمان رکھتے ہو۔(الْبَقَرَة ، 2 : 278)
صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔(صحیح البخاری، کتاب الوصایا، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766)
مسلم کی حدیث میں ہے:عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ ۔ ترجمہ:حضرت جابر سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، سود دینے والے اور سودی معاملات تحریر کرنےوالے اور سودی معاملات کا گواہ بننے والوں پرلعنت فرمائی اور فرمایا کہ یہ سب لوگ ( گناہ میں)برابر ہیں۔(صحیح مسلم کتاب المساقاۃ والمزارعۃ باب الربوٰ ،حدیث نمبر 1598، مسند أبي يعلى،حدیث نمبر :1849)
سیدی اعلٰی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:’’ملازمت اگرسود کی تحصیل وصول یا اس کا تقاضا کرنا یا اس کا حساب لکھنا ، یا کسی اور فعلِ ناجائز کی ہے تو ناجائز ہے۔۔۔اور اگر کسی امر جائز کی نوکری ہے تو جائز ہے۔(فتاوى رضويه،جلد19، صفحه522، مطبوعہ لاهور)
بینک کی ملازمت سے متعلق مفتی وقار الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:”بنک کی کوئی ایسی ملازمت جائز نہیں ہے جہاں سود کے کاغذات لکھنا پڑیں اور جن لوگوں کو سود کے کاغذات لکھنا نہیں ہوتے ہیں مثلا دربان، پیون اور ڈرائیور، ان کی ملازمتیں جائز ہیں‘‘۔(وقار الفتاوى،جلد03، صفحه324،بزم وقار الدین کراچی)۔
2: یاد رہے حکومت کا رعایا پر ٹیکس مقرر کرنا مندرجہ ذیل شرائط کیساتھ جائز ہے ۔
1: سرکاری خزانے کی رقوم اور حکومت کے ذرائع آمدنی اس کے اخراجات کے لئے ناکافی ہوں ۔
2: ٹیکس سےوصول ہونے والی رقم ملک وملت کی فلاح وبہبود کے لئے خرچ کی جائے جیساکہ روڈ بنوانا وغیرہ ۔
3: ٹیکس کی مقدار بقدر ضرورت ہو ،اتنا زیادہ ٹیکس مقرر نہ کیا جائے کہ جولوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہو ۔ بہتر ہے کہ ٹیکس کی مقدار کسی بھی شخص کی آمدنی کے دس فیصد سے زائد نہ ہو،کیونکہ شریعت اسلامیہ میں لوگوں کے اموال سے زیادہ سے زیادہ عشر ہی لیا جاتا ہے اس سے زائد کوئی مثال نہیں۔
اگر حکومت ان شرائط کے ساتھ ٹیکس لیتی ہے تو ملک کے باشندوں پر اس ٹیکس کی ادائیگی شرعا واجب ہے ،جھوٹ اور غلط بیانی یا رد وبدل کے ذریعے وغیرہ یہ ٹیکس معاف کروانا یا کم کروانا جائز نہیں ہے ۔لہذا اگر حکومت جائز حدود میں ٹیکس وصول کررہی ہو تو ٹیکس چوری کا عمل جائز نہیں ہے ،اوراگر ٹیکس وصولی کاطریقہ ظالمانہ ہو کہ آدمی کی طاقت وقوت سے زیادہ ہو توایسی صورت میں زائد ٹیکس سے بچنے کے لئے کوئی حیلہ اختیار کرنا درست ہے ۔نیز اس صورت میں کام کرنے والے پر گناہ نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں اپنے آپ سے ضرر دفع کیا جاتا ہے جیساکہ قاعدہ شرعیہ ہے الضرر یزال۔
حدیث پاک میں ہے: عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا ضرر ولا ضرار۔ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان اٹھاؤ ۔(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 2341)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1448ھ/ 08 ستمبر 2026 ء