ek talaq ke baad hukm
سوال
میری بیٹی کو اسکے شوہر نے 28 جون 2024 کو بذریعہ طلاق نامہ ایک طلاق دیدی ہے، جسکے بعد عدت گزر گئی، طلاق نامہ ساتھ لف ہے۔ اب ہمیں طلاق سرٹیفیکٹ بنوانا ہے تو یوسی والوں کا کہنا ہے کہ فتوٰی لاؤ طلاق ہوئی یا نہیں برائے مہربانی فتوٰی عنایت کریں کہ اس طلاق نامے کے مطابق طلاق ہوئی یا نہیں؟
سائلہ:والدہ زینب:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
نوٹ: طلاق نامے کو ہم نے بغور دیکھااس پر یہ الفاظ تحریر ہیں''میری اور بزرگوں کی جانب سے کی جانے والی بھرپور اور مخلصانہ کوششوں کے باوجود آپ کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں ملا، اور اب معاملہ اس نہج پر پہنچ چکا ہے جہاں ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی حدود میں رہتے ہوئے بطور میاں بیوی اکٹھے رہنا ناممکن ہو گیا ہے، لہٰذا اب میں نے مسلم پرسنل لاء کے مطابق ایک طلاق دینے کا فیصلہ کیا ہے، یعنی: میں، معید ولد محمد جاوید لنگاہ، مسمات زینب دختر محمد جاوید کو طلاق دیتا ہوں"۔
صورتِ مستفسرہ میں ایک طلاق ِ رجعی واقع ہوچکی ہے جسکے بعد چونکہ عدت گزر چکی ہے بعد از عدت عورت بائنہ ہوگئی لہذا اب انکا میاں بیوی والا رشتہ قائم و باقی نہیں رہا، اب عورت نکاح کرنے یا نہ کرنے میں آزاد ہے، چاہے تو سابقہ شوہر سے نکاح کرے ، چاہے تو کسی اور سے نکاح کرے۔ سابقہ شوہر سے نکاح کرنے کے لئے شرعی گواہان کی موجودگی اور نیا مہر ضروری ہے،حلالہ کی ضرورت نہیں ہے ، لیکن شوہر کوآئندہ صرف دو طلاق کا اختیار رہے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخرترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد ) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
مبسوط سرخسی میں ہے: حلت للأزواج بانقضاء مدة العدة۔ ترجمہ: عدت کی مدت گزرنے کی بعد عورت (سابقہ شوہر کے علاوہ) دوسرے مردوں سے بھی شادی کے لئے حلال ہوجاتی ہے۔(مبسوط سرخسی ، جلد7 ص 30، العلمیہ )۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: ذوالقعدہ 1447ھ/ 20 اپریل 2026 ء