طلاقا مجھے ناشتہ دے سے طلاق کا حکم

    Talaqa Mujhe Nashta De Se Talaq Ka Hukum

    تاریخ: 27 جولائی، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 1659

    سوال

    میری بہن کی شادی تھی۔ گھر والوں کے بہت زیادہ اصرار پر میری بیوی نے مہندی لگالی، حالانکہ مجھے مہندی لگانا پسند نہیں تھا، یہاں تک کہ میں نے اپنی شادی پر بھی انہیں مہندی نہیں لگانے دی تھی۔بیوی نے مہندی اس نیت سے لگائی تھی کہ جب وہ اپنے سسرال واپس آئے گی تو مہندی صاف ہو چکی ہوگی یا وہ بلیچ وغیرہ کے ذریعے اسے ختم کر لے گی، لیکن مہندی مکمل طور پر صاف نہ ہو سکی۔اس وقت میں نے کوئی ایسی بات نہیں کہی، لیکن کچھ عرصہ بعد اسی بات کی ناراضی کی وجہ سے میں نے غصے میں اپنی بیوی سے یہ الفاظ کہے:"طلاقاً، مجھے ناشتہ دے۔"میری نیت ہرگز طلاق دینے کی نہیں تھی، بلکہ صرف ناراضی کا اظہار کرنا اور آئندہ مہندی نہ لگانے کی تنبیہ کرنا مقصود تھا۔ مجھے اس وقت یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ لفظ "طلاقاً" ادا کرنے سے شرعاً کیا حکم ہو سکتا ہے۔براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاق شمار ہوگی؟اگر واقع نہیں ہوئی تو اس کی شرعی وجہ بھی بیان فرما دیں۔

    سائل : احتشام الحق


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا حکم یہ ہے کہ شوہر نے "طلاقا (طلاقن)، مجھے ناشتہ دے" کے الفاظ کہے۔ ہمارے عرف میں "طلاقا (طلاقن)" کا لفظ ندا (پکارنے) کے لیے استعمال ہوتا ہے، تاہم چونکہ شوہر خود اقرار کرتا ہے کہ اس نے یہ الفاظ اپنی بیوی کو مخاطب کرکے کہے تھے، اور بیوی اس سے پہلے مطلقہ بھی نہیں تھی، اس لیے ان الفاظ سے ایک طلاقِ رجعی واقع ہوگئی۔طلاق کے واقع ہونے کے وقت سے ہی عورت کی عدت شروع ہوگئی، اور عدت کے دوران شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے۔ رجوع کے بعد اسے صرف دو طلاقوں کا حق رہے گا۔رہا شوہر کا یہ کہنا کہ "میری نیت طلاق کی نہیں تھی، بلکہ صرف ناراضی کا اظہار مقصود تھا" اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں؛ کیونکہ طلاقا(طلاقن)کا لفظ صریح ہے، اور صریح الفاظ میں نیت کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔

    نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ عورتوں کے لیے ہاتھوں پر مہندی لگانا سنت اور مستحب عمل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے عورتوں کو ہاتھوں پر مہندی لگانے کی ترغیب دی ہے، یہاں تک کہ جس عورت کے ہاتھوں پر مہندی نہ تھی، اس کے ہاتھوں کو درندے کے پنجوں سے تشبیہ دی۔لہٰذا جس عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پسند فرمایا اور اس کی ترغیب دی ایک مسلمان ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے حقیقی محبت کا تقاضا یہی ہے ہم بھی انہیں پسند کریں ۔لہذا آپ کامحض بیوی کے اپنے ہاتھوں پرمہندی لگانے پر ناراض ہونا یا غصہ کرنا درست نہیں۔

    اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خان نے 'طلاقن' کے لفظ کوصریح میں شمار کرتے ہیں جیساکہ فتاوی رضویہ میں ہے :’’ رجعی کے بعض الفاظ یہ ہیں،(۱) میں نے تجھے طلاق دی، (۲) اے مطلّقہ بتشدید لام، (۳) اے طلاق گرفتہ،(۴) اے طلاق دی گئی، (۵) اے طلاقن، (۶) اے طلاق شدہ، (۷) اے طلاق یافتہ، (۸) اے طلاق کردہ،........ ان سب صورتوں میں بے حاجت نیت طلاق رجعی پڑتی ہے ۔(فتاوی رضویہ ج:12،ص:121/126،رضافاونڈیشن )

    اسی طر ح صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :’’ عورت سے کہا اے مطلّقہ، (۲۴) اے طلاق دی گئی، (۲۵) اے طلاقن، (۲۶) اے طلاق شدہ، (۲۷) اے طلاق یافتہ، (۲۸) اے طلاق کردہ۔ طلاق ہوگئی اگرچہ کہے میرا مقصود گالی دینا تھا طلاق دینا نہ تھا۔ اور اگر یہ کہے کہ میرا مقصود یہ تھا کہ وہ پہلے شوہر کی مطلقہ ہے اور حقیقت میں وہ ایسی ہی ہے یعنی شوہر اول کی مطلقہ ہے تو دیانتہً اس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر وہ عورت پہلے کسی کی منکوحہ تھی ہی نہیں یا تھی مگر اُس نے طلاق نہ دی تھی بلکہ مرگیا ہو تو یہ تا ویل نہیں مانی جائیگی۔(بہار شریعت،ج:2،حصہ ہشتم،ص:117،مکتبۃ المدینہ )

    رسواللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے مہندی کے بغیر ہاتھوں کودرندے کے پنجے سے تشبیہ دی جیسا کہ :مرقاة المفاتیح میں ہے :’’وعن عائشة رضي الله عنها أن هندا بنت عتبة قالت : يا نبي الله بايعني . فقال : " لا أبايعك حتى تغيري كفيك ، فكأنهما كفا سبع " . رواه أبو داود . ترجمہ: حضرت ام امؤمنین عائشہ الصدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم ! مجھ سے بیعت لیجیے۔" آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: "میں تم سے اس وقت تک بیعت نہیں لوں گا جب تک تم اپنے ہاتھوں (کا رنگ) تبدیل نہ کر لو، کیونکہ یہ دونوں ہاتھ گویا درندے کے پنجوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ ( مرقاة المفاتيح شرح مشكاةالمصابيح،ج:7،ص:2835،رقم الحدیث:4466،دار الفکر)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 صفر المظفر 1448 ھ/24 جولائی 2026ء