تعداد طلاق میں اختلاف کا حکم
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 611

    سوال

    بیوی کا بیان

    میں ثوبیہ وقار ولد عبدالحمید کو میرے شوہر وقار احمد نے غصے میں طلاق دی اور یہ الفاظ مجھے تین بار کہے '' جا میں تجھے طلاق دیتا ہوں'' ۔ اور اس بات کا میرے پاس کوئی گواہ موجود نہیں البتہ یہ بات میں بالکل یقین سے کہہ رہی ہوں ۔ اب آپ بتائیں کہ میرے لئے کیا حکم ہے کیونکہ میرے شوہر فتوٰی لائے ہیں کہ طلاق نہیں ہوئی۔

    سائلہ: ثوبیہ وقار: کراچی۔

    شوہر کا بیان

    میری بیوی نے دورانِ لڑائی مجھ سے بار بار طلاق کا تقاضا کیا تو میں نے ایک بار یہ کہا میں تجھے طلاق نہیں دوں گا۔ اسکے بعد جب دوبارہ ضد کرنے لگی تو میں نے 2 مرتبہ یہ الفاظ کہے ''جا میں تجھے طلاق دیتا ہوں'' اور یہ الفاظ مجھے یاد ہیں جو میں نے کہے اسکےعلاوہ میں نے کوئی الفاظ نہیں بولے۔ اب شرعی مسئلہ بتادیں۔ .

    سائل:وقار افتخار: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت حال کے پیش نظر میاں بیوی دونوں کا کم از کم دو طلاقیں واقع ہونے میں اتفاق ہے ،اختلاف تیسری طلاق میں ہے شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے یہ الفاظ '' جا میں نے تجھے طلاق دی '' دو بار کہا جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ شوہرنے مجھے یہ الفاظ تین بار کہے تھے۔

    تیسری طلاق کے بارے میں مرد و عورت کے اعتبار سے الگ الگ حکم درج ذیل ہے۔

    مرد کے اعتبار سے حکم:

    صورتِ مسئولہ میں عورت کو قضاءً (یعنی قا ضی اور لوگوں کے نزدیک ) دو طلاقیں واقع ہوئی ہیں ۔

    لیکن یاد رہے کہ یہ حکم قضاءًہے یعنی ظاہری صورت حال کے مطابق ہے ، البتہ اگرشوہر نے طلاق تو تین ہی دی تھی مگر بعد میں حلفاً کہہ دیا کہ دو طلاق دی تو دیانۃً (یعنی بندے اور خدا کے درمیان جو معاملہ ہے اسکے مطابق) تین طلاق ہی واقع ہونگی ۔ اور اس جھوٹ کا وبال شوہر پر ہی ہوگا۔اگر اس صورت حال کے بعد میاں بیوی والے معاملات کرے گا تو سخت گناہ میں ملوث ہوگا ۔ بروز قیامت سخت رسوائی کا سامنا کرنا پڑیگا۔

    تفصیل اس امر کی یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں میاں بیوی کا عددِ طلاق میں اختلاف ہے ، شوہر کا کہنا ہے کہ میں نے دوطلاق دی ہیں جبکہ عورت کا کہنا ہے کہ شوہر نے تین طلاق دی ہیں۔ لہٰذا یہاں عورت مدّعیہ اور مرد مُنکر ہے ، کیونکہ عورت طلاق کا دعوٰی کررہی ہے۔ لہذا اس پر گواہ دینا لازم ہے ، لیکن یہاں عورت کے پاس گواہ نہیں ہیں ۔ لامحالہ یہاں مرد کی بات حلف کے ساتھ معتبر ہوگی۔ اور اس مقام پر شرعی طریقہ کے مطابق مرد کی بات کا عتبار کرتے ہوئے قضاءً تیسری طلاق کے عدمِ ثبوت کا حکم دیا جائے گا۔

    سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں :بحالتِ اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو گواہ عادل شرعی شہادت بروجہِ شرعی اداکریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلّقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلاً مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اُس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق، جلد 12 ص 453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    عورت کے اعتبار سے حکم:

    اگرعورت کو کامل یقین ہے کہ مرد نے اسکو تین طلاق ہی دی ہیں، اور اس نے اپنے کانوں سے سنا تھا تو اس پر لازم و ضروری ہے کہ خود کو دیانۃ (یعنی اللہ تعالی اور بندے کے درمیان جو معاملہ ہےاس کے مطابق )تین طلاقیں والی سمجھے اوراپنے شوہرسے علیحدگی اختیار کرے۔ کیونکہ عورت کے اپنے بیان کے مطابق اس کو شوہر نےتین بار '' جا میں تجھے طلاق دیتا ہوں'' کہا ہے جو کہ طلاق کے باب میں صریح ہے۔لہذا اب اگر وہ علیحدگی اختیار نہیں کرتی اور میاں و بیوی والے تعلقات قائم رکھتی ہے تو سخت گنہگار ہوگی۔تبیین الحقائق میں ہے:إذَا قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ، وَقَالَ إنَّمَا أَرَدْتُ بِهِ التَّكْرَارَ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً فَإِنَّ الْقَاضِيَ مَأْمُورٌ بِاتِّبَاعِ الظَّاهِرِ وَاَللَّهُ يَتَوَلَّى السَّرَائِرَ وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي لَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تُمَكِّنَهُ إذَا سَمِعَتْ مِنْهُ ذَلِكَ أَوْ عَلِمَتْ بِهِ؛ لِأَنَّهَا لَا تَعْلَمُ إلَّا الظَّاهِرَ ۔ترجمہ:جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا تو طلاق والی ہے ،تو طلاق والی ہے،تو طلاق والی ہے،اور کہا میں نے اس سے تکرار کاارادہ کی تھا تو اس کی دیانۃًتصدیق کی جائے گی نہ کہ قضاءًاس لیئے کہ قاضی کو ظاہر کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم ہے ،اللہ تعالی ہی پوشیدہ رازوں کو جانے والا ہے ،اور عورت (اس معاملے)میں قاضی کی طرح ہے کہ اس کے لیئے حلال نہیں ہے کہ وہ (اس معاملے میں )اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے جب اس نے (طلاق کے الفاظ )خود سنے ہو ں یا کسی اور (مضبوط )ذرائع سے اس کو معلوم ہوجائے کیوں وہ ظاہر ہی کو جانتی ہے۔ ( تبیین الحقائق ،اقسام الکنایۃ،ج:2،ص:218،طبع:المطبعۃالکبری الامیریۃ،مصر)

    اب عورت جیسے ممکن ہو شوہر سے خلع لے لے۔جیسا کہ ردالمحتارعلی الدرالمختار میں ہے:وَالْمَرْأَةُ كَالْقَاضِي إذَا سَمِعْته أَوْ أَخْبَرَهَا عَدْلٌ لَا يَحِلُّ لَهُ تَمْكِينُهُ وَالْفَتْوَى عَلَى أَنَّهُ لَيْسَ لَهَا قَتْلُهُ، وَلَا تَقْتُلُ نَفْسَهَا بَلْ تَفْدِي نَفْسَهَا بِمَالٍ ترجمہ:اور قاضی کی طرح ہے جب وہ خود (طلاق کے الفاظ )سنے یا عادل گواہ اس کو خبر دیں تو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے اوپر شوہر کو اختیار دے ۔اور فتوی اس پر ہے کہ عورت کے لئے مرد کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ،اورنہ ہی عورت اپنے آپ کو قتل کرے بلکہ مال کے ذریعے اس سے خلع حاصل کرے ۔ (ردالمحتارعلی الدر المختار باب صریح الطلاق،ج:3،ص:251،طبع:دارالفکر )۔

    سیدی اعلٰی حضرت اسی طرح کے سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :اگر خود زوجہ کے سامنے اُسے تین طلاقیں دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملتے تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر، یا اور مال دے کر، اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔ اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضی ہو پھر وبال اس پر ہے، لایکلّف اﷲنفسا الا وسعھا(اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے)واﷲ تعالٰی اعلم۔ (فتاوٰی رضویہ ، کتاب الطلاق ،جلد 12 ص 424،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    تین طلاقیں تین ہی ہوتی ہیں اس سلسلہ میں قرآن و حدیث سےدلائل درج ذیل ہیں۔

    تین طلاق کے تین ہونے پر قرآن پاک سے دلیل:

    اللہ تعالی نے قرآن پاک میں اولاً دو طلاق کا ذکر کرکے فرمایا کہ اب بھی خاوندکو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اب ان کے درمیان حرمت مغلظہ قائم ہوچکی ہے لہذا بغیر حلالہ شرعیہ کے واپسی ناممکن ہے ۔سورہ البقرہ میں اللہ تعالی فرماتا ہے:الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ' ترجمہ کنز الایمان :یہ طلاق دو بارتک ہی ہے پھر بھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔(البقرۃ :آیت 229)

    پھر اسکے بعد مزید فرمایا:فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہو گی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ۔

    (البقرۃ ،آیت:230)

    ان آیات مبارکہ میں اللہ تعالی نے مطلقاً تین طلاق کا حکم بیان فرمایا اور اسکو ایک مجلس یا متعدد مجلس کے ساتھ مقید نہیں کیا یعنی تین طلاقیں ایک مجلس میں دے یا ایک ایک سال کے وقفے سے دے بہرصورت تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔جیسا کہ غیر مقلد اہلحدیث کے امام ابن حزم ظاہری نے اپنی کتاب میں لکھا: فھذا یقع علی الثلاث مجموعۃ ومفرقۃ، ولا یجوز ان یخص بھذہ الآیۃ بعض ذلک دون بعض بغیر نص۔ترجمہ: یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ تین طلاق اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ بہر حال طلاقیں واقع ہو جائیں گی، اور اس آیت کو بغیر دلیل کے بعض صورتوں کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں ہے ۔(المحلی بالآثار: 3/394، مطبوعہ: دار الفکر بیروت، لبنان)۔

    تین طلاق کے تین ہونے پراحادیث سے دلائل :

    1:امام نسائی نے محمود بن لبید سے روایت کیا:عن محمود بن لبید قال اخبر رسول اللہ ﷺ عن رجل طلق امراتہ ثلث تطلیقات جمیعا فقام غضبان ثم قال ایلعب بکتاب اللہ عزوجل وانا بین اظہر کم حتی قام رجل فقال یا رسول اللہ الااقتلہ۔ترجمہ:حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ ﷺ کو ایک شخص کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاقیں دے دی ہیں تو آپ ﷺ غضب ناک حالت میں کھڑے ہوگئے اور فرمایا ’میرے سامنے کتاب اللہ کو کھیل بنایا جارہا ہے ؟ حتی کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ،میں اس کو قتل نہ کردوں۔(سنن النسائی، کتاب الطلاق، حدیث نمبر 3401: 6/142، مطبوعہ: مکتب المطبوعات الاسلامیۃ، حلب)

    اگرتین طلاقوں سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اتنا سخت اظہار ناراضگی کیوں فرمایا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے اس شخص کے اس جرم کی وجہ سے اسکو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔

    2:امام المحدثین ابو عبد اللہ امام بخاری کے استادِ محترم عظیم محدث امام عبد الرزاق نے اپنی مصنف میں روایت کیا: عَنْ دَاوُدَ بْنِ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: طَلَّقَ جَدِّی امْرَاَۃً لَہُ اَلْفَ تَطْلِیقَۃٍ، فَانْطَلَقَ اَبِی اِلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اما اتَّقَی اللَّہَ جَدُّک، اَمَّا ثَلَاثٌ فَلَہُ، وَاَمَّا تِسْعُ مِاءَۃٍ وَسَبْعَۃٌ وَتِسْعُونَ فَعُدْوَانٌ وَظُلْمٌ، اِنْ شَاءَ اللَّہُ تَعَالَی عَذَّبَہُ، وَاِنْ شَاءَ غَفَرَ لَہُ :ترجمہ: داود کہتے ہیں کہ میرے دادا نے اپنی بیوی کو تین طلاق دی تھیں تو میرے والد رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور ان کی خدمت میں سارا معاملہ عرض کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا تیرا دادا اللہ سے نہیں ڈرتا؟ تین طلاق کا ان کو حق تھا ( وہ واقع ہوگئیں)اور نو سو ستانوے طلاق انکی طرف سے ظلم وزیادتی ہے ، اللہ تعالی کی مرضی چاہے تو اسے عذاب دے یاچاہے تو اسے بخش دے ۔(مصنف عبد الرزاق، کتاب الطلاق، حدیث نمبر11339: 6/393، مطبوعہ: المکتب الاسلامی، بیروت)

    3:صحاح ستہ کی چھٹی کتاب سنن ابن ماجہ کی حدیث پاک ہے : عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِیِّ:’’قَالَ: قُلْتُ لِفَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ: حَدِّثِینِی عَنْ طلاقک قَالَتْ: طَلَّقَنِی زَوْجِی ثَلَاثًا وَھُوَ خَارِجٌ اِلَی الْیَمَنِ، فاَجَازَ ذَلِکَ رَسُولُ اللَّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘‘۔ترجمہ: حضرت عامر شعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے فاطمہ بنت قیس سے کہا کہ آپ مجھے اپنی طلاق کا واقعہ بیان کیجئے ، انہوں نے جواب دیا مجھے میرے شوہرنے یمن جاتے وقت تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ تینوں طلاقیں نافذ فرما دیں۔ (سنن ابن ماجہ ، کتاب الطلاق، باب من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد، حدیث نمبر 2024: 1/652، مطبوعہ:احیاء الکتب العربیۃ، بیروت)

    حدیث میں یہ بات ظاہر ہے کہ یہ تین طلاقیں ایک مجلس میں دی گئیں تھیں جبھی تو حضرت فاطمہ نے یہ بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ طلاقیں نافذ فرمادیں۔ اگر الگ الگ مجلس میں تین طلاقیں واقع ہوتیں تو رسول اللہ ﷺ کا ان طلاقوں کو نافذ کرنے کا کیا معنی ہے ؟ اسی لئے امام ابن ماجہ نے اس حدیث کیلئے جو باب باندھا وہ من طلق ثلاثاً فی مجلس واحد ہے یعنی جو ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ۔

    4:امام المحدثین ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح بخاری میں حضرت عویمر عجلانی کا واقعہ لعان ذکر کرنے کے بعد نقل فرماتے ہیں: فلما فرغا قال عویمر کذبت علیھا یارسول اللہ ان ا مسکتھا فطلقھا ثلاثاً۔ترجمہ: جب دونوں میاں بیوی لعان سے فارغ ہو گئے تو حضرت عویمر نے کہا: یارسول اللہ ﷺ اگر میں اسکو روکے رکھوں تو یہ میرا اسٍپر جھوٹ ہوگا۔ چنانچہ حضرت عویمر نے (اسی وقت ) تین طلاقیں دے دیں۔(صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر5308: 7/53، دار طوق النجاۃ، بیروت)

    5:اسی واقعہ کے بارے میں سنن ابی داود میں یہ الفاظ منقول ہیں: فَطَلَّقَھَا ثَلَاثَ تَطْلِیقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَاَنْفَذَہُ رَسُولُ اللّہِ صَلّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّم‘‘رجمہ: حضرت عویمر عجلانی نے رسول اللہ ﷺ کے روبرو تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ ﷺ نے تینوں طلاقوں کو نافذ فرما دیا‘‘۔( سنن ابی داود، کتاب الطلاق، باب اللعان، حدیث نمبر 2250: 2/274، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

    6:امام دار الہجرت عظیم مجتہد ومحدث امام مالک نے حدیث کی عظیم الشان کتاب موطا امام مالک میں مفسر شہیر حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا:’’اَنَّ رَجُلاً قَالَ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ عَبَّاسٍ: اِنِّی طَلَّقْتُ امْرَاَتِی مِاءَۃَ تَطْلِیقَۃٍ، فَمَاذَا تَری عَلَیَّ؟ فَقَالَ لَہُ ابْنُ عَبَّاسٍ: طَلُقَتْ مِنْکَ لِثَلاَثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آیَاتِ اللہِ ھُزُواً‘‘ترجمہ: ایک شخص نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے فرمایا : تیری عورت کو تیری طرف سے تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور باقی ستانوے کی وجہ سے تونے اللہ تعالی کی آیات کو مذاق بنا لیا۔(مؤطا امام مالک، کتاب الطلاق، حدیث نمبر2021: 4/789، مطبوعہ: مؤسسہ زاید بن سلطان، ابو ظہبی)

    ائمہ اربعہ اور جمیع علماء کی نظر میں تین طلاقوں کا حکم :

    ناصر السنہ محی الدین العلامہ ابو زکریا یحی بن شرف النووی نے شرح النووی میں فرمایا : قال لامرأتہ انت طالق ثلاثاً فقال الشافعی ومالک وابو حنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع ثلاثاً۔ترجمہ: جس شخص نے اپنی بیوی کو کہا تجھے تین طلاقیں ہیں تو اس کے متعلق امام شافعی، امام مالک، امام اعظم ابو حنیفہ، امام احمد اور جمہور علماء سلف وخلف نے تین طلاق کے واقع ہونے کا فتوی صادر فرمایا۔[ شرح النووی علی المسلم، کتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث: 1/478: قدیمی کتب خانہ، کراچی]

    محقق علی الاطلاق علامہ کمال الدین ابن ہمام نے فرمایا: ذھب جمھورالصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من ائمۃ المسلمین الی ان یقع ثلاثاً:ترجمہ: جمہور صحابہ، تابعین اور ان کے بعد والے مسلمانوں کے ائمہ کرام کا مسلک ہے کہ ایک لفظ سے تین طلاقیں دینے سے تین طلاقیں واقع ہوں گی۔[فتح القدیر، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ: 3/469، مطبوعہ: دارالفکر، بیروت، لبنان]

    عمد ۃالقاری شرح صحیح بخاری میں ہے: مذہب جماھیر العلماء من التابعین ومن بعد ھم منھم الاوزاعی والنخعی والثوری ابوحنیفہ واصحابہ ومالک واصحابہ والشافعی واصحابہ واحمد واصحابہ واسحاق وابو ثوروابو عبید وآخرون کثیرون علی ان من طلق امراتہ ثلاثا وقعن ولکنہ یاثم وقالوا من خالف فیہ فھو شاذمخالف لاھل السنۃ وانما تعلق بہ اھل البدع ۔ترجمہ: جمہور علماء کرام تابعین میں سے اور جو ان کے بعد والے ہیں ان میں امام اوزاعی اور علامہ نخعی اور علامہ ثوری اور امام ابو حنیفہ اور اس کےاصحاب اور امام مالک اور اس کے اصحاب اور امام شافعی اور اس کے اصحاب اور امام احمد اور ان کے اصحاب اور علامہ اسحاق اور علامہ ابو ثور اور علامہ ابو عبید اور بہت سے متاخرین کا مذہب یہ ہے کہ جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو واقع ہو جائیں گی لیکن اس سے گناہ گار ہو گا اور علماء نے فرمایا جو اس کے خلاف مذہب رکھتا ہو شاذاور اہل سنت کا مخالف ہے اور اس کا تعلق اہل بدعت سے ہے ۔[ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، کتاب الطلاق، باب من اجاز طلاق الثلاث: 20/233، دار احیاء التراث العربی، بیروت]

    فقہاء احناف کی نظر میں ایک مجلس کی تین طلاقوں کا حکم:

    اسی طرح فتاوی ہندیہ میں ہے:اذاقال لامرأتہ انت طالق وطالق وطالق ولم یعلقہ بالشرط، ان کانت مدخولۃ طلقت ثلثا۔ترجمہ:جب مرد نے اپنی بیوی کو کہا تجھے طلاق ہے اور طلاق ہے اورطلاق ہے‘‘ اور طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق نہ کیا،اگر بیوی مدخولہ ہے تو اس پر تین طلاق واقع ہوگئیں ‘‘۔( فتاوی ہندیہ، کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول: 1/355، مطبوعہ: دار الفکر، بیروت)

    اسی طرح تقریباً چاروں مذاہب کی فقہی کتب میں یہ بات موجود ہے کہ تین طلاق بیک وقت دینے سے تین ہی ہوتی ہیں، مثلاً فقہ حنفی کی کتب میں رد المحتار، الدر المختار، تبیین الحقائق، النھر الفائق، بدائع الصنائع، فتح القدیر، الجوہرۃ النیرۃ، شرح الوقایۃ، الہدایۃ، البنایۃ، حاشیۃ الطحطاوی وغیرہم میں تین طلاق کو تین ہی شمار کیا اورنافذ کیا ہے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 ذوالحج 1443 ھ/16 جولائی 2022 ء