نفل نماز باجماعت کا حکم اور اداروں کی پابندی
    تاریخ: 2 فروری، 2026
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 725

    سوال

    (۱) نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کو علماء کرام نے مکروہ تنزیہی و خلاف اولی بتایا ہے، اس پر اگر کوئی ادارہ نفل نماز جماعت سے پڑھنے پر سختی کرتا ہے تو کیا حکم ہے؟ آیا اگر کوئی نہ پڑھنا چاہے جبکہ یہ کام ادارے کے اصول میں شامل ہو تو؟

    (۲) شرع میں فرمایا گیا کہ اگر منی کپڑوں پر لگ جائے تو منی کو کھرچنے سے کپڑے پاک ہوجائیں گے جبکہ علماء کرام نے فرمایا فی زمانہ مذکورہ صورت میں کپڑے پاک نہیں ہوں گے، برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: امجد کریم، عمر کوٹ ضلع راجن پور پنجاب


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) نفل نماز کو باقاعدہ اعلان کے ساتھ جماعت سے پڑھنا خلافِ اولیٰ ہے، یعنی اس سے اجتناب بہتر ہے، لیکن اگر کیا جائے تو شرعاً گناہ نہیں۔ اگر کوئی ادارہ دینی ماحول کو فروغ دینے کے لیے اپنے طلباء پر نفل نماز جماعت کے ساتھ پڑھنے کی پابندی کرتا ہے، تو یہ جائز ہے، بشرطیکہ اس سے طلباء میں نفرت، بے زاری یا ایذا پیدا نہ ہو۔ اگر ادارے کی سختی سے طلباء میں نفل نماز سے بیزاری یا دین سے دوری پیدا ہوتی ہے، تو یہ شرعاً درست نہیں، کیونکہ ایسی سختی بعض اوقات بے دلی یا معاذ اللہ انکار تک لے جا سکتی ہے۔ لہٰذا، ادارے کو شرعی حکمت کے ساتھ عمل کرنا چاہیے اور ایسی سختی سے گریز کرنا چاہیے جس سے طلباء کے دلوں میں دین کے لیے نفرت پیدا ہو۔

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نے فتاویٰ رضویہ میں ارشاد فرمایا کہ اگر مستحبات کے اہتمام سے لوگوں میں نفرت یا ایذا پیدا ہو، تو اس سے بچنا لازم ہے۔غور کریں کہ مستحبات سے متعلق جب یہ حکم بیان ہوا، تو خلاف اولی پر سختی، جس سے نفرت وانکار کی صورت بنے، کس قدر ممنوعِ شرع ہوگا۔اسی طرح جب مستحبات کے ترک پر ملامت نہیں کی جاتی، تو خلافِ اولیٰ پر ملامت بدرجہ اولیٰ جائز نہیں۔ پھر اگر کوئی ادارہ اپنے اصولوں کے پیش نظر نفل نماز کو فرض وواجب کی طرح ظاہر کرتا ہے، تو وہ سخت گنہگار ہوگا۔ امر بالمعروف کے لیے دین کی صحیح سمجھ حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ جاہل عابد شیطان کے ہاتھ کا کھلونا ہے۔پس اگر کوئی شخص ادارے کے اصول کے تحت نفل نماز جماعت سے پڑھنے سے شرعی جواز کی بنیاد پر معذرت کرے، تو اسے مجبور کرنا درست نہیں۔ ادارے کو چاہیے کہ دین کی تعلیم وترغیب حکمت اور نرمی سے دے تاکہ دینی مقاصد حاصل ہوں۔

    اللہ رب العزت قرآن میں فرماتا ہے: ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ . ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکّی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اور ان سے اس طریقہ پر بحث کرو جو سب سے بہتر ہو۔(النحل:125)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض و ترک محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقا پروا نہ کرے اور اتیان مستحب و ترک غیر اولی پر مدارات خلق و مراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ و نفرت و ایذا و وحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات و رسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے ان کی حرمت وشناعت نہ ثابت ہو ان میں اپنے ترفع و تنزہ کے لئے خلاف و جدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف و موانست کے معارض اور مراد و محبوب شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار و گوش دار کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ و حکمت جلیلہ و کوچہ سلامت و جادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشک و اہل تکشف غافل و جاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط و دین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغز حکمت و مقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں خبردار و محکم گیر یہ چند سطروں میں علم غزیر و باللہ التوفیق والیہ المصیر۔(فتاوی رضویہ ،4/528، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    امّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت ہےکہ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إِنَّ الرِّفْقَ لَا يَكُونُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ، وَلَا يُنْزَعُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ". ترجمہ: نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے وہ اسے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بد صورت کر دیتی ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب البرّ ، باب فضل الرفق، 4/2004، الرقم: 2594، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    مستحب کے ترک پر ملامت نہیں، علامہ مدقق علاؤ الدین محمد بن علی الحصکفی (المتوفی: 1088ھ) فرماتے ہیں: "وَحُكْمُهُ الثَّوَابُ عَلَى الْفِعْلِ وَعَدَمُ اللَّوْمِ عَلَى التَّرْكِ".ترجمہ: اور اس (مستحب) کا حکم یہ ہے کہ اسے کرنے پر ثواب ملتا ہے اور ترک کرنے پر ملامت نہیں ہوتی۔(الدر المختار،سنن الوضوء ،1/123،دار الفکر بیروت)

    نفل کی جماعت سے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ نفل غیر تراویح میں امام کے سوا تین آدمیوں تک تو اجازت ہی ہے چار کی نسبت کتب حنفیہ میں کراہت لکھتے ہیں یعنی کراہت تنزیہہ جس کا حاصل خلاف ِاولٰی یعنی جس کا نہ کرنا بہتر ہے لیکن اگر کیاتو گناہ وناجائز نہیں ہے ...کما بیناہ فی فتاوٰنا ۔ مگر مسئلہ مختلف فیہ ہے اور بہت اکابر دین سے جماعتِ نوافل بالتداعی( علی الاعلان) ثابت ہے او ر عوام فعل خیر سے منع نہ کئے جائیں گے۔ علما ء امت و حکماء ملت نے ایسی ممانعت سے منع فرمایا ہے‘‘۔( فتاوی رضویہ، 7/465، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    الدرالمختارمع رد المحتار میں ہے: "أَمَّا الْعَوَامُّ فَلَا يُمْنَعُونَ مِنْ تَكْبِيرٍ وَلَا تَنَفُّلٍ أَصْلًا لِقِلَّةِ رَغْبَتِهِمْ فِي الْخَيْرَاتِ".ترجمہ: عوام کو تکبیرات اور نوافل سے کبھی بھی منع نہ کیا جائے کیونکہ پہلے ہی نیکیوں میں ان کی رغبت کم ہوتی ہے۔ (الدرالمختار،باب العدین ،3/60،مکتبہ رحمانیہ لاہور)

    امام اہلسنت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن حدیقہ ندیہ کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:’’وَمِنْ هَذَا الْقَبِيْلِ نَهْيُ النَّاْسِ عَنْ صَلَاْةِ الرَّغَاْئِبِ بِالْجَمَاْعَةِ وَصَلَاْةِ لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَنَحْوِ ذَلِكَ وَإِنْ صَرَّحَ الْعُلَمَاْءُ بِالْكَرَاهَةِ الْجَمَاْعَةَ فِيْهَاْ فَلَاْ يُفْتَى بِذَلْكَ الْعَوَاْمِ لِئَلَّا تَقُلَّ رَغْبَتُهُمْ فِيْ الْخَيْرَاتِ وَقَدْ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاْءُ فِيْ ذَلِكَ فَصَنَّفَ فِيْ جَوَاْزِهَا جَمَاْعَةٌ مِنَ الْمُتَأَخِّرِيْنَ وَإِبْقَاْءُ الْعَوَاْمِ رَاْغِبِيْنَ فِيْ الصَّلَاْةِ أَوْلَى مِنْ تَنْفِيْرِهِمْ".ترجمہ: اس قبیل سے لوگوں کو منع کرنا ہے رغائب( نفل) کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے اور لیلۃ القدر کی نماز اور اسی طرح نوافل جماعت کے ساتھ پڑھنے سے اگرچہ علماء نے انکی جماعت کے بارے میں کراہت کی تصریح کردی ہے مگر عوام میں یہ فتوی نہ دیا جائے تاکہ نیکیوں میں انکی رغبت کم نہ ہو۔ علماء اس مسئلہ میں مختلف ہوئے ہیں اورمتاخرین علماء کی ایک جماعت نے اسکے جواز پر کتابیں لکھیں اور عوام کو اس نماز کی طرف راغب رکھنا انہیں اس سے متنفر کرنے سے کہیں بہتر ہے ‘‘۔( فتاوی رضویہ، 7/466، رضا فاؤنڈیشن لاہور )

    خلافِ اولی جائز ہے گناہ نہیں، خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَالِاقْتِصَارُ عَلَى الْفَاتِحَةِ مَسْنُونٌ لَا وَاجِبٌ فَكَانَ الضَّمُّ خِلَافَ الْأَوْلَى وَذَلِكَ لَا يُنَافِي الْمَشْرُوعِيَّةَ، وَالْإِبَاحَةُ بِمَعْنَى عَدَمِ الْإِثْمِ فِي الْفِعْلِ وَالتَّرْكِ".ترجمہ:فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعتوں میں سورۃ فاتحہ پر اکتفاء کرنا صرف سنّت ہے، واجب نہیں نہیں، تو (ان رکعتوں میں سورت) ملانا خلاف اولی ہے ۔ اور یہ اس کے جائز و مباح ہونے کے منافی نہیں، یعنی مراد یہ یہ ہے کہ کرنے اور نہ کرنے دونوں میں گناہ نہیں۔ (ردالمحتار،کتاب الصلاۃ،باب صفۃ الصلاۃ،1/511،دار الفکر بیروت)

    (۲) کپڑوں پر لگی منی اگر خشک ہوجائے تو اس کو پاک کرنے کا حکم یہی ہے کہ اسے کھرچ دیا جائے تو کپڑا پاک ہوجائے گا۔ یہ جو بعض پتلی و گاڑھی منی کا فرق کرتے ہیں کہ حدیث مبارکہ میں جہاں خشک منی کو کھرچ دینے سے کپڑے پاک ہوجانے کا حکم آیا وہ گاڑھی منی سے متعلق ہے کہ عرب کے مردوں کی صحت کا یہی تقاضا ہے جبکہ ہمارے دور میں جہاں خالص غذاء میسر نہیں اور دیگر وجوہات کی بناء پر منی گاڑھی ہونے کے بجائے پتلی ہوتی ہے۔لہذا اگر مرد کی منی کسی وجہ سے پتلی ہو اور وہ کپڑے پر لگ کر خشک ہوجائے تو اس میں پاکی محض رگڑ کر حاصل نہ ہوگی بلکہ اتنا دھونا کہ منی کا اثر زائل ہونے کا ظنّ غالب ہو جائے۔ یہ بات ظاہر الروایہ کے خلاف ہے اور اس کے خلاف فتوی دینا بلا کسی سببِ شرعی کے جہالت ہے۔ظاہر الروایہ وہ چھ مشہور کتابیں ہیں جو فقہ حنفی کی بنیاد ہیں: (۱)المبسوط (۲)الزیادات (۳)الجامع الصغیر (۴)الجامع الکبیر (۵)السیر الصغیر (۶)السیر الکبیر۔ان کتب کی نسبت وسند نہایت ومضبوط ہے کہ یہ کتب امام محمد رحمہ اللہ سے بطریق تواتر مروی ہیں، یا کم ازکم انہیں مشہور کا درجہ تو ضرور حاصل ہے۔

    صحیح مسلم شریف میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:"أَفْرُكُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرْكًا فَيُصَلِّي فِيهِ".ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ میں رسول ﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے کپڑے سے مَنی کو مَل ڈالتی، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نماز پڑھتے۔ (صحيح مسلم، کتاب الطہارۃ ، باب حکم المنی، 1/238، الرقم: 288، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "الْمَنِيُّ إذَا أَصَابَ الثَّوْبَ فَإِنْ كَانَ رَطْبًا يَجِبُ غَسْلُهُ وَإِنْ جَفَّ عَلَى الثَّوْبِ أَجْزَأَ فِيهِ الْفَرْكُ اسْتِحْسَانًا. كَذَا فِي الْعِنَايَةِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَ مَنِيِّ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَبَقَاءُ أَثَرِ الْمَنِيِّ بَعْدَ الْفَرْكِ لَا يَضُرُّ كَبَقَائِهِ بَعْدَ الْغَسْلِ. هَكَذَا فِي الزَّاهِدِيِّ". ترجمہ : کپڑے کو لگنے والی منی اگر تر ہو تو کپڑے کو دھونا واجب ہے اور اگر کپڑے پر خشک ہو جائے تو استحسانا رگڑنا بھی کافی ہے، ایسے ہی عنایہ میں ہے، اور صحیح یہ ہے کہ مرد و عورت کی منی میں کوئی فرق نہیں، اور جیسے دھونے کے بعد کپڑے پر منی کے اثر کا باقی رہنا نقصان دہ نہیں ایسے ہی رگڑنے کے بعد منی کے اثر کا باقی رہنا بھی نقصان دہ نہیں، ایسے ہی زاہدی میں ہے۔(الفتاوی الہندیہ ،کتاب الطہارۃ، الباب السابع فی النجاسۃ، الفصل الاول،1/44، دار الفکر بیروت)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’مَنی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مَل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگرچہ بعد مَلنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے۔اس مسئلہ میں عورت و مرد اور انسان و حیوان و تندرست و مریض جریان سب کی مَنی کا ایک حکم ہے۔بدن میں اگر مَنی لگ جائے تو بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا‘‘۔(بہار شریعت، 1/403، المدینۃ العلمیہ کراچی)

    ظاہر الروایہ پر فتوی سے متعلق ، خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "أن ما كان من المسائل في الكتب التي رويت عن محمد بن الحسن رواية ظاهرة يفتى به وإن لم يصرحوا بتصحيحه، نعم! لو صححوا رواية أخرى من غير كتب ظاهر الرواية يتبع ما صححوه. قال العلامة الطرسوسي في "أنفع الوسائل"في مسألة الكفالة إلى شهر : (إنّ القاضي المقلّد لا يجوز له أن يحكم إلا بما هو ظاهر المذهب لا بالرواية الشاذة إلا أن ينصّوا على أن الفتوى عليها) انتهى".ترجمہ: جو مسائل ان کتب میں ہیں جو حضرت امام محمد بن حسن رحمہ اللہ سے ظاہر الروایۃ کے ساتھ مروی ہیں اگر چہ صراحتا ان کی تصحیح نہ کی گئی ہو تو ان کے مطابق فتوی دیا جائے گا۔ہاں جب ظاہر الروایۃ کتب کے غیر سے کسی روایت کو صحیح قرار دیا جائے تو اس کی اتباع کی جائے۔علامہ طرطوسی رحمہ اللہ نے انفع الوسائل میں مسالۃ الکفالۃ الى شہر کے ضمن میں فرمایا کہ قاضی مقلد کے لئے جائز نہیں کہ وہ ظاہر الروایۃ کے علاوہ سے فیصلہ کرے اور روایت شاذہ سے بھی فیصلہ نہ کرے البتہ جب فقہاء کی طرف سے نص ( واضح قول ) ہو کہ اس قول ( ظاہر الروایۃ) کے غیر ) پر فتوی ہے تو اس کے مطابق فیصلہ دے سکتا ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی، ص:88،دار النور للتحقیق والتصنیف کراچی)

    ظاہر الروایہ اور غیر الروایہ کے تعارض سے متعلق قاعدہ بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) لکھتے ہیں:’’دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادرہے اور ثانی مفادظاہرالروایہ "والفتوی متی اختلفت فالمصیر الی ظاھر الروایۃ "(اورجب فتوی مختلف ہو توظاہر الروایہ کی طرف رجوع ہوتاہے)محرر المذہب سیّدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ۔"وناھیک بہ حجۃ وقدوۃ " (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں) فتح القدیر میں ہے "الیہ اشار فی الاصل" ( اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے)‘‘۔( فتاوی رضویہ،8/473،رضافاؤنڈیشن،لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 ذو القعدۃ 1446 ھ/14 مئی 2025ء