چند متفرق سوالات کے جوابات
    تاریخ: 2 فروری، 2026
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 724

    سوال

    سوال نمبر 1:میں اپنی زوجہ کو اپنے سسرال بھیجنے پر قائل نہیں ہوں؛ کیونکہ میرے سسرال میں غیر شرعی معاملات ہو رہے ہیں جن کو میں سخت ناپسند کرتا ہوں، میرے سسرالی جس میں میرے سالہ جو کہ اہل تشیع فقہ پر عمل کرتے ہوئے میری اہلیہ کو دماغی طور پر مفلوج کر رہے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو"صدیق" اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو "فاروق " کا جو لقب دیاگیا ہے اس کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور ان دونوں صحابہ کرام کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احاطے میں دفنا دیا ہے اس کی اہلبیت سے اجازت نہیں لی گئی میں چاہتا ہوں کہ حدیث کی روشنی سے اس معاملے کی وضاحت دی جائے؟

    سوال نمبر2:میری زوجہ مجھے کہتی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام آتا ہے تو آپ خلفائے راشدین کو کیوں بیچ میں لاتے ہیں؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے آخری نبی ہے لیکن ان کا رتبہ چاروں نبیوں سے زیادہ ہے اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آخری خلیفہ ہیں اس لئے ان کا رتبہ بھی ان تینوں خلفائے راشدین سے زیادہ ہے اس کی حدیث کی روشنی میں وضاحت کریں؟

    سوال نمبر 3:جناب میری شادی کے دوران میری زوجہ کی خالہ اور ماموں نے میری شادی میں مسائل پیدا کر دیئے تھے جو بات مجھے سخت ناگوار گزری تھی اور شادی کے بعد میں اُن سے کبھی رابطہ کرنی کی کوشش نہیں کرتا اور نہ ہی میں اُن سے ملنا چاہتا ہوں اور نہ ہی اپنی زوجہ کو اُن لوگوں سے ملوانا چاہتا ہوں ؛کیونکہ اُن کے خاندان میں غیر شرعی معاملات دیکھے ہیں جس میں اُن کے گھر کی شادی میں مرد اور عورتوں کا آپس میں ڈانس کرنا، عورتوں کا مزارت پر جانا، منت پوری ہونے پرعلم لگانا اور اس کے علاوہ بھی کچھ غیر شرعی عمل ہیں جن کے سبب میں اپنی زوجہ کو اپنے سسرال والوں سے ملنے کی اجازت نہیں دیتا اب میرا سوال یہ ہے کہ اجازت نہ دینے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

    سوال نمبر4:میری زوجہ مجھ سے لڑائی جھگڑا کرکے اپنی خالہ کے بیٹے کی شادی میں شرکت کر رہی ہے میرے منع کرنے کے باوجود بھی مجھ سے بغیر اجازت طلب کرکے شادی میں شرکت کی ہے کیا یہ شوہر کی نافرمانی میں شمار ہوتا ہے؟

    سوال نمبر 5:میں اپنی زوجہ کو سسرال میں رکنے کے لئے بھیجتا ہوں تو یہ اپنے کزن کے ہمراہ گھومنے پھرنے چلی جاتی ہے جو بات مجھے باہر سے پتہ چلتی ہے اور جب میں ان سے یہ پوچھتا ہوں تو ان کا جواب یہ تھا کہ جب میں اپنے والد کے گھر جاؤں گی تو اپنے والد کی مرضی سے جاؤں گی آپ سے کیوں اجازت لونگی؟

    سوال نمبر 6:اگر ہم دونوں میاں بیوی میں لڑائی ہے تو کتنے ٹائم تک میاں بیوی ایک دوسرے سے الگ رہ سکتے ہیں؟

    سوال نمبر 7:شوہر اگر اپنی بیوی کو پردہ کرنے کا کہے لیکن لڑکی کے میکے والے کہتے ہیں کہ نبی پریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں پردے کی اجازت نہیں تھی، دینِ اسلام کی روشنی میں اس سوال کی کیا حیثیت ہے؟

    سوال نمبر8:میرے سسرال میں خواجہ صاحب کی چَھٹی کے حوالے سے قوالی بھی ہوتی ہے جس میں مرد اور عورت دونوں قوالیاں سنتے ہیں اور پھر گھاگرے لے کر خواتین میں جاتے ہیں دین اسلام کی روشنی میں اس سوال کی کیا حیثیت ہے؟

    جناب میں گزشتہ چودہ سالوں سے اپنی اہلیہ کے تمام نان و نقفہ اخراجات کو مکمل طریقے سے پورا کر رہا ہوں اس کے باوجود میری زوجہ مجھ سے اس چیز کا الزام لگاتی ہے کہ گزشتہ چودہ سالوں سے اس نے میرے ساتھ عذاب میں زندگی گزاری ہے اور اس کی وجہ سے صرف یہ ہے کہ میں ان کو ماموں خالہ سے اِن غیر شرعی معاملات کے سبب ملنے کی اجازت نہیں دیتا۔

    مذکورہ بالا معاملات یعنی جن وجوہات پر میں سخت ذہنی اذیت کا شکار ہوں اور اس معاملے میں آپ کی مدد درکارہے میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں مجھے آگاہی اور وضاحت دیں تاکہ میں یہ دلائل اپنی زوجہ کو دکھا کر اپنے گھر کو بچا سکوں۔

    سائل:شہباز احمد بھٹی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    ان سب سوالات کے جوابات بالترتیب مندرجہ ذیل ہیں :

    جواب نمبر1:حضرت ابوبکر صدیق کا لقب 'صدیق' اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب 'فاروق' بذات خود حدیث سے ثابت ہیں، ان القابات کو اہلِ علم نے درست تسلیم کیا ہے، اور ان کا استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں،اور اس کا ثبوت احادیث رسول ﷺاور اقوال آئمہ سے صراحت کیساتھ کتب معتمدہ میں موجود ہے۔

    لفظ "صدیق" کا معنیٰ:

    صدیق" وہ ہوتا ہے جو سچائی کو دل سے قبول کرے، اس کی تصدیق کرے اور ہمیشہ سچائی کے ساتھ ہو۔

    نبی کریم ﷺ نے احد کے میدان میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو "صدیق" کا لقب قرار دیا اس بارے بخاری شریف میں ہے ''عن أنس رضي الله عنه، قال: صعد النبي ﷺ أُحدًا ومعه أبو بكر وعمر وعثمان، فرجف بهم، فقال:"اثبت أُحد، فإنما عليك نبي وصدّيق وشهيدان." ترجمہ: حضرت انس سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے ، ابوبکر و عمر اور عثمان رضی اللہ تعالی عنہم بھی آپ کے ساتھ تھے ، احد پہاڑنے حرکت کی تو آپ ﷺ نے اس پر اپنا پاؤں مبارک مار کر فرمایا :’’ احد ! ٹھہر جاؤ ، تم پر ایک نبی ہے ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۔(صحیح بخاری،کتاب المناقب :باب: مناقب قرابة رسول الله ﷺ ومنقبة أبي بكر وعمر وعثمان رضي الله عنهم :حدیث نمبر : 3675،ص:73مکتبہ:رشیدیہ)

    معراج کے واقعہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلا تردد تصدیق کی، جس پر نبی کریم ﷺ نے انہیں "صدیق" فرمایا اس بارے اسد الغابہ میں ہے ’’ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «لَمَّا أُسْرِيَ بِالنَّبِيِّ ﷺ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى، أَصْبَحَ يُحَدِّثُ بِذَلِكَ النَّاسَ، فَارْتَدَّ نَاسٌ مِمَّنْ كَانَ آمَنَ وَصَدَّقَ بِهِ وَفُتِنُوا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:إِنِّي لأُصَدِّقُهُ فِيمَا هُوَ أَبْعَدُ مِنْ ذَلِكَ أُصَدِّقُهُ بِخَبَرِ السَّمَاءِ غَدْوَةً أَوْ رَوْحَةً»، فَلِذَلِكَ سُمِّيَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقَ.ترجمہ:سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"جب مجھے معراج کی رات بیت المقدس لے جایا گیا، اور میں صبح مکہ واپس آیا، تو میں نے لوگوں کو یہ واقعہ سنایا۔(یہ سن کر) ان لوگوں میں سے بعض مرتد ہو گئے جنہوں نے مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی، اور وہ فتنے میں پڑ گئے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:'اگر انہوں نے یہ کہا ہے تو بالیقین وہ سچ کہہ رہے ہیں!میں تو ان کی ان باتوں کی بھی تصدیق کرتا ہوں جو صبح و شام آسمان سے آتی ہیں!چنانچہ اسی واقعہ کی بنا پر حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا لقب "الصدیق" رکھا گیا۔( اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ،ج:3،ص:206، دار الفکر بیروت)

    علامہ ابن ہجر ہیتمی مکی رحمۃ اللہ علیہ(متوفی:974) فرماتے ہیں''ابْن عَسَاكِر عَن الشّعبِيّ قَالَ خص الله أَبَا بكر بِأَرْبَع خِصَال لم يخص بهَا أحدا من النَّاس سَمَّاهُ الصّديق وَلم يسم أحدا الصّديق غَيره وَهُوَ صَاحب الْغَار مَعَ رَسُول الله ﷺ ورفيقه فِي الْهِجْرَة وَأمره ﷺ بِالصَّلَاةِ والمسلمون شُهُود ۔ ترجمہ: ابن عساكر نے شعبی سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا:اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو چار ایسی خصلتوں (خصوصیات) کے ساتھ مخصوص فرمایا، جو کسی اور کو عطا نہیں کیں:اللہ نے انہیں "صدیق" کا لقب دیا، اور کسی اور کو یہ لقب نہیں دیا۔وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غار (ثور) میں شریک تھےاوروہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت کے ساتھی تھے،نبی کریم ﷺ نے ان کو نماز کی امامت کا حکم دیا، جبکہ تمام مسلمان موجود تھے ۔(الصواعق المحرقہ،ص:243)

    ان دلائل سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بذات خود'' صدیق ''کا لقب عطا فرمایا ۔

    لفظ "فاروق" کا معنی ٰ :فاروق وہ ہے جو حق و باطل کے درمیان واضح فرق کر دے۔

    علامہ ابن حجر ہیتمی نقل کرتے ہیں''عَن أَيُّوب بن مُوسَى مُرْسلا قَالَ قَالَ رَسُول الله ﷺ (إِن الله جعل الْحق على لِسَان عمر وَقَلبه وَهُوَ الْفَارُوق فرق الله بِهِ بَين الْحق وَالْبَاطِل)ترجمہ: ایوب بن موسیٰ مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"بیشک اللہ تعالیٰ نے عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان اور دل پر حق کو رکھا ہے، اور وہ فاروق (یعنی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والے) ہیں، اللہ نے ان کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کیا۔ (الصواعق المحرقہ علی اھل الرفض و الضلال والزندقہ،ص:276)

    امام یحییٰ بن شرف النووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ'' قال محمد بن سعد: كان إسلام عمر، رضى الله عنه، فى السنة السادسة من النبوة. واتفقوا على تسميته بالفاروق، ورووا عن النبى ﷺ أنه قال: “إن الله جعل الحق على لسان عمر وقلبه، وهو الفاروق، فَرَّق الله به بين الحق والباطل”. وعن عائشة، قالت: سمى رسول الله ﷺ عمر الفاروق. ترجمہ: محمد بن سعد نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اسلام لانا نبوت کے چھٹے سال میں ہوا۔ اور سب نے ان کا لقب "الفاروق" تسلیم کیا۔ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:"اللہ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمایا ہے، اور وہ الفاروق ہے، اللہ نے اس کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق قائم کیا۔"اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمر کو "الفاروق" کا لقب دیا۔(تھذیب الاسماء واللغات،ج:2،ص:4، دار الفکر بیروت)

    حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کی تدفین کے وقت اجازت کا معاملہ:رسول اکرم ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنے اور انہوں نے زندگی ہی میں وصیت کر دی تھی کہ ان کی تدفین رسول اللہﷺ کے پہلو میں کی جائےاورحضرت عمر رضی اللہ عنہ کو زخمی ہونے کے بعد وصیت کا خیال آیا کہ انہیں بھی نبی کریم ﷺکے پہلو میں دفن کیا جائے۔ لیکن چونکہ اس جگہ کی مالکہ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ تھی، اس لیے انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اجازت طلب کی۔

    اس بارے صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ’’ عن عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ قَالَ رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقُلْ يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلَامَ ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ قَالَتْ كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي فَلَمَّا أَقْبَلَ قَالَ لَهُ مَا لَدَيْكَ قَالَ أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي ثُمَّ سَلِّمُوا ثُمَّ قُلْ يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَإِنْ أُذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ ۔ترجمہ: حضرت عمرو بن میمون الاؤدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: "اے عبداللہ بن عمر! جاؤ اور اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس، اور ان سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب کی طرف سے سلام ہو، پھر ان سے یہ سوال کرو کہ کیا مجھے اپنے دونوں ساتھیوں (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ دفن ہونے کی اجازت ہے؟"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: "میں نے تو خود ان کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کی تھی، مگر آج میں انہیں اپنی خواہش پر ترجیح دوں گی۔" جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ واپس آئے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بات کہی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا"میرے لیے اس بات سے بڑھ کر کچھ اہم نہیں تھا۔ جب میری وفات ہو جائے، تو مجھے اٹھا کر لے جانا، پھر سلام کہہ کر اجازت طلب کرنا، اور اگر اجازت دے دی جاۓ تو مجھے ان کے ساتھ دفن کر دینا، ورنہ مجھے مسلمانوں کی قبرستان میں دفن کر دینا۔" (صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب: مَا جَاءَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،1392)

    حجرہ سیدہ عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسکن تھا، اور اسی حجرے میں آپﷺ کو دفن کیا گیا،اور آپ نبی کریمﷺ کی زوجہ، اہلِ بیت میں شامل ہیں اور اس حجرے کی مالکہ تھیں،حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تدفین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے اور ان کی مکمل رضا کے ساتھ ہوئی۔

    حضرت عمر فاروق کی تدفین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی واضح اجازت سے ہوئی اورحضرت علی المرتضی و اہلِ بیت کی طرف سے کوئی مخالفت یا اعتراض تاریخ میں منقول نہیں، حضرت سیدہ عائشہ اہل بیت میں شامل ہیں اور حجرے کی مالک بھی تھیں، ان کی اجازت ہی شرعی و اخلاقی اعتبار سے کافی ہے،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنها کی وفات حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے قبل ہو چکی تھی، اس لیے ان سے اجازت ممکن نہ تھی۔حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کبھی تدفین پر اعتراض نہیں کیااور رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں ان دونوں صحابہ کی فضیلت و رفاقت کو بارہا بیان فرمایا، جس سے ان کا پہلو میں دفن ہونا مستحسن عمل تھاجبکہ شریعت میں کسی کی قبر کے لیے اجازت لینا اگر کسی کی ملکیت میں ہو (جیسے گھر، حجرہ) تو ضروری ہے۔ چونکہ یہ حجرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ملکیت تھا، اور انہوں نے اجازت دی، اس لیےتدفین شرعاً درست اور جائز ہوئی ۔

    خلاصہ کلام یہ نکلا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دونوں کی تدفین کے وقت اہل بیت، خصوصاً حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت لی گئی، اور یہ تدفین مکمل رضا اور شرعی اجازت کے ساتھ ہوئی۔ نہ صرف یہ کہ اجازت لی گئی، بلکہ اہل بیت نے کسی بھی طور پر اس عمل پر اعتراض نہیں کیا۔

    جواب نمبر2: انبیاءکے بعد سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اور ان کے بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ور ان کے بعد رتبہ حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہے اور اس پر امت کا اجماع ہے اور اجماع کا منکر گمراہ اور بد مذھب ہے جیسا کہ خود حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کے فرزند سیدنا محمد بن حنفیہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے والد سے سوال کیا : أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: ثُمَّ عُمَرُ، وَخَشِيتُ أَنْ يَقُولَ: عُثْمَانُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَنْتَ؟ قَالَ: مَا أَنَا إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ۔ ترجمہ: لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے افضل کون ہیں؟"انہوں نے فرمایا: "ابو بکر (رضی اللہ عنہ)۔"میں نے پوچھا: "پھر کون؟"فرمایا: "پھر عمر (رضی اللہ عنہ)۔"مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ عثمان (رضی اللہ عنہ) کا نام نہ لے لیں،تو میں نے پوچھا: "پھر آپ؟"فرمایا: "میں تو صرف مسلمانوں میں سے ایک عام آدمی ہوں۔ ( صحیح البخاری،کتاب فضائل الصحابہ، باب فضل أبی بكر بعد النبی ﷺ،حدیث: 3671)

    ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:"أبو بَكرٍ وعُمَرُ سَيدَا كُهُولِ أَهْلِ الجَنَّةِ" ترجمہ: ابوبکر اور عمر جنت کے عمر رسیدہ لوگوں کے(دنیاوی اعتبار سے)سردار ہیں، (ابن ماجہ، حدیث نمبر 1844)

    اس ترتیب کو خود جناب رسول اللہ ﷺنے بیان فرمایا:عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أفضَلُ النَّاسِ مِنْ بَعْدِي أَبُو بَكرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ عُثْمَانُ، ثُمَّ عَلِيٌّ۔ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "میرے بعد سب سے افضل لوگ میں سے ابو بکر ہیں، پھر عمر، پھر عثمان، پھر علی( رضی اللہ تعالیٰ عنھم) ہیں۔ (کتاب المناقب،باب في مناقب أبي بكر وعمر وعثمان وعلي ،حدیث نمبر :3637)

    اسی طرح جامع الترمذی میں ہے '' عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: "مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ، وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ؛ فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ.ترجمہ:ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے آسمان والوں میں سے دو وزیر نہ ہوں اور زمین والوں میں سے دو وزیر نہ ہوں،پس میرے آسمان کے وزیر: جبریل اور میکائیل ہیں،اور زمین کے وزیر: ابو بکر اور عمر ہیں۔ (جامع الترمذی، کتاب المناقب،باب: مناقب ابی بکر و عمر رضی اللہ عنہما،حدیث نمبر: 3680)

    جواب نمبر3:بیوی پر شوہر کی اطاعت و فرمانبرداری لازم ہے( مگر کسی گناہ کے کام میں اطاعت لازم نہیں)،شوہر اگر بیوی کو کسی جگہ جانے سے منع کررہا ہے تو بیوی پر لازم و واجب ہے کہ وہ اپنے شوہر کی بات مانے خصوصاً ان جگہوں پر تو بطریق اولیٰ لازم ہے جہاں پر غیر شرعی معاملات ہورہے ہوں،اگر بیوی بات نہیں مانتی تو دوہرے گناہ کا ارتکاب کرتی ہے،ایک شوہر کی نافرمانی کا اور ایک ان جگہوں پرجانے کا جہاں شریعت کے مخالف کام ہوتے ہیں جیسے :پے پردگی،مرد و عورت کا اختلاط وغیرہ وغیرہ،اسی وجہ سے اگر شوہر اپنی بیوی کو ماموں کے گھر جانے سےمنع کررہا ہے جہاں پر غیر شرعی کام ہوتے ہیں تو بیوی پر لازم ہے کہ شوہر کی بات مانے ، ورنہ گناہ گار ہوگی۔

    شوہر کی اطاعت کے بارے ابونعیم حلیہ میں انس رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راویت ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت جب پانچوں نمازیں پڑھے اور ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اپنی عفّت کی محافظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔ (’’ حلیۃ الاولیاء ‘‘ ،الحدیث: ۸۸۳۰ ،ج ۶ ،ص ۳۳۶)

    طبرانی تمیم داری رضی اللہ تعا لٰی عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورت پر شوہر کا حق یہ ہے کہ اس کے بچھونے کو نہ چھوڑے اور اسکی قسم کو سچا کرے اور بغیر اس کی اجازت کے باہر نہ جائے اور ایسے شخص کو مکان میں آنے نہ دے جس کا آنا شوہر کو پسند نہ ہو۔( المعجم الکبیر ‘‘ ،باب التاء،الحدیث: ۱۲۵۸ ،ج ۲ ،ص ۵۲)

    جواب نمبر4: اگر شادی میں غیر شرعی معاملات نہیں ہوتے(مرد و عورت کا اختلاط وغیرہ)تو بیوی کا ایسی شادی میں جانا جائز ہے مگر شوہر جب منع کررہا ہے تو شوہر کے منع کرنے کی وجہ سے اب بیوی پر لازم ہوگیا ہے کہ نا جاۓ ورنہ گناہ گار ہوگی۔

    جیساکہ حدیث مبارکہ ہے،حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایاشوہر کا عورت پر یہ ہے کہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اور سوا فرض کےکسی دن بغیر اس کی اجازت کے روزے(نفلی رورے) نہ رکھےاگر ایسا کیا تو گنہگار ہوئی اور بدون اجازت اس کا کوئی عمل مقبول نہیں ۔(کنز العمال ،کتاب النکاح ،ج؛16،حدیث:44807)

    جس طرح بیوی کیلیے روزے رکھنا جائزتھا مگر چونکہ شوہر نے منع کیا مگر اس وجہ روزے(نفلی)رکھنا ناجائز ہے اسی طرح اس مسئلہ میں بھی شادی پر بیوی کا جانا اگرچہ جاےز ہے مگر شوہرکے منع کرنے کی وجہ سے اس کا شرکت کرنا جائز نہیں۔

    ابونعیم حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ فرمایا:اے عورتو!خدا سے ڈرو اور شوہر کی رضا مندی کی تلاش میں رہو، اس لیے کہ عورت کو اگر معلوم ہوتا کہ شوہر کا کیا حق ہے تو جب تک اس کے پاس کھانا حاضر رہتا یہ کھڑی رہتی۔ (کنزالعمال،ج ۱۶،ص ۱۴۵)

    جواب نمبر5: صورتِ مسئولہ میں اگرچہ بیوی شوہر کی اجازت سے گئی تھی مگر غیر محرم کیساتھ اسکا گھومنا ناجائز ہے،اور بیوی پر شوہر کا حق سب سے پہلےہے حتیٰ کے والدین سے بھی اور والدین کے گھر بھی اپنے شوہر کی اجازت سے جاۓ گی، اسلام میں بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی فرمانبردار رہے اور اس کا ہر حکم بجا لاۓ،بشرطیکہ وہ حکم کسی گناہ کا نہ ہو،شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کا گھر سے باہر نکلنا بغیر کسی ضرورت شرعی کے ناجائز ہے،اگر کوئی عورت ایسا کرتی ہے تو سخت گناہ ہے ،کیونکہ قرآن مجید نے مرد کو عورت پر حاکم اور نگہبان قرار دیا ہے۔

    قرآن مجید میں اس حوالے آیت مقدسہ ہے ’’اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ :ترجمہ :مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے، (النساء:34)

    اس آیت سے واضح ہوگیا کہ شوہر کو بیوی پر نگران اور حکمران بنایا گیا ہے ،لہذا بیوی کو اسکی اجازت کے بغیر کوئی کا کام کرنا خصوصاً گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں۔

    فتاوی شامی میں ہے، لا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك۔ ترجمہ: وہ (عورت) صرف اس صورت میں باہر نکل سکتی ہے جب اس کا کوئی حق ہو یا اس پر کوئی حق ہو، یا ہر جمعہ کو ایک بار اپنے والدین کی ملاقات کے لیے، یا ہر سال ایک بار محرم رشتہ داروں سے ملنے کے لیے؛ اور اگر وہ دائی (قابِلہ) یا غسل دینے والی ہو تو ان کاموں کے لیے، ورنہ ان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے باہر نہ نکلے۔(ردالمحتار،ج:3،ص:، 145، دار الفکر بیروت )

    حاشیہ ابن عابدین میں ہے: ولیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا ۔ترجمہ:عورت کیلیے اسکے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائزنہیں۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:3، ص:146، ط:ایچ ایم سعید)

    علامہ علاءالدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:لانفقة لأحد عشر ... وخارجة من بیته بغیر حق و هي الناشزة حتی تعود". ترجمہ:جو گیارہ اشخاص کا نفقہ لازم نہیں ۔۔۔۔۔عورت بغير كسي حق شرعی کے گھر سے نكلنےوالي ہو اسکا نفقہ شوہر پر لازم نہیں حتی کے گھر واپس آۓ کیونکہ یہ ناشزہ ہے۔(ردالمحتار علی الدر المختار، ج:3، ص:575، ط:ایچ ایم سعید)

    بیوی پر شوہر کے حقوق بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ’’امور متعلقہ زن و شوہر میں مطلق اس کی اطاعت والدین پر بھی مقدم ہے اس کے ناموس کی بشدت حفاظت اس کے مال کی حفاظت ہر بات میں اس کی خیرخواہی ہر وقت امور جائزہ میں اس کی رضا کا طالب رہنا اسے اپنا مولی جاننا نام لے کر پکارنا کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا خدا توفیق دے تو بجا سے بھی احتراز بچنا اس کی اجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں نا جانا وہ ناراض ہو تو اس کی خوشامد کرکے منانا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔(فتاوی رضویہ، جلد 24،صفحہ 371: رضا فائونڈیشن لاہور)

    جواب نمبر 6:میاں بیوی کا رشتہ محبت، رحمت، اور سکون پر قائم ہوتا ہے، اور اسلام اس رشتے میں نرمی، معافی، اور خیر خواہی کو بہت زیادہ پسند کرتا ہے۔شریعت مطہرہ میں قطع تعلقی کو سخت نا پسند کیا گیا ہے ،تین دن سے زیادہ کسی بھی مسلمان کیلیے قطع تعلقی کرنا جائز نہیں ، قطع تعلقی پر سخت وعیدات مروی ہیں۔

    چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏يَلْتَقِيَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَصُدُّ هَذَا وَيَصُدُّ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ، ‏‏‏‏‏‏ ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے کسی (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ تعلق کاٹے کہ جب وہ ملیں تو یہ ایک طرف منہ پھیر لے اور دوسرا دوسری طرف اور دونوں میں اچھا وہ ہے جو سلام پہلے کرے۔(صحیح بخاری ،حدیث:6237)

    یہ حکم عام مسلمانوں کے لیے ہے، اور میاں بیوی کا رشتہ تو اس سے کہیں زیادہ قریبی ہے، اس لیے ان کے لیے تو ناراضگی تین دن سے زیادہ ہونا اور بھی زیادہ برا اور نقصان دہ ہے، شرعی اعتبار سے بھی اور دنیاوی اعتبار سے بھی،شرعی اس طرح کہ رب کی رحمت کا نزول بند ہوجاتا ہے اورگھر سے برکت اٹھ جاتی ہے ،نیاوی اس طرح کہ گھر کا ماحول خراب ہوجاتا ہے،بچوں کی تربیت پر اثر پڑتا ہے۔

    ایک اور جگہ مروی ہے ، حضور نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: قَالَ: " تُفْتَحُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَيَوْمَ الْخَمِيسِ، فَيُغْفَرُ لِكُلِّ عَبْدٍ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، إِلَّا رَجُلًا كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَخِيهِ شَحْنَاءُ، فَيُقَالُ: أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا، أَنْظِرُوا هَذَيْنِ حَتَّى يَصْطَلِحَا :ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "پیر اور جمعرات کے دن جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور ہر اس بندے کی مغفرت کر دی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بناتا، اس بندے کےسوا جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو، چنانچہ کہا جاتا ہے: ان دونون کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں، ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں۔ ان دونوں کو مہلت دو حتی کہ یہ صلح کر لیں۔"(صحیح مسلم: کتاب البر والصلۃوالآدابَ،باب النھی عن الشحناء والتھاجر،حدیث: 2565)

    دونوں فریقین کو چاہیے کہ معافی، برداشت، اور بات چیت سے مسئلہ حل کریں،شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو اللہ کی نعمت سمجھے۔غلطی ہو جائے تو معافی مانگنے میں دیر نہ کریں اور ان باتوں میں انا (ego )کو بیچ میں نہ لائیں، کیونکہ یہ رشتہ محبت پر چلتا ہے، ناکہ کسی ایک کے جیتنے پر نہیں۔

    جواب نمبر7:پردہ کرنااسلام میں فرض ہے،جو کہ قرآن،سنت اور اجماع سے ثابت ہے،اس لیے پردہ کا انکار کرنے والا قرآن کا انکار کرنے والا ہے اور قرآن کا منکر کافر ہوتا ہے،پردہ کا حکم اسلام میں مرحلہ وار نازل ہوا ہے ،پہلے سن 3یا 4 ہجری میں پہلا حکم نازل ہوا سورہ النور کی آیت 31 نازل ہوئی۔

    وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ۪-وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآىٕهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآىٕهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآىٕهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ۪-وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّؕ-وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۔ترجمہ کنزالایمان :اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ۔( النور:31)

    اس کے بعد 5ہجری میں سورہ احزا ب کی یہ آیت مقدسہ نازل ہوئی جس میں عورت کو مکمل طور پر اپنا جسم ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ۔

    اَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّؕ-ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ ترجمہ: اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیو ں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرمادو کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔(الاحزاب:59)

    جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد عورتیں مکمل پردہ کرنے لگیں۔ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ نِسَاءَ المُهَاجِرَاتِ الأُوَلَ، لَمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: 31] شَقَّقْنَ مُرُوطَهُنَّ فَاخْتَمَرْنَ بِهَا۔ ترجمہ :حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ ان عورتوں پر رحم کرے جنہوں نے پہلی ہجرت کی تھی ،جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی {وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ} [النور: 31] ، تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر ان کے دو پٹے بنا لئے ۔(یعنی پردہ کرنے لگیں)۔ (صحیح بخاری، باب: "فَضْلُ النِّسَاءِ وَتَصْدِيقِهِنَّ فِي أَمْرِ اللِّبَاسِ" حدیث نمبر 4449)

    جواب نمبر 8: مروجہ قوالی جو مزامیر (آلاتِ موسیقی )کے ساتھ ہوتی ہے, اس کا پڑھنا سننا ،ناجائز وحرام ہے ۔لہذا ایسی قوالی کو گھروں وغیرہ سے مکمل طور پر ختم کرنا واجب ہے۔توایسی قوالی کاگھریاباہرکہیں بھی اہتمام کرنا،جائزنہیں ۔

    چنانچہ صحیح بخاری شریف میں ہے :”وعن ابی عامر أو ابی مالک الأشعری قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول :لیکونن من أمتی أقوام یستحلون الخزوالحریر والخمر والمعازف ۔“یعنی: حضرت ابو عامر سے یا ابو مالک اشعری سے روایت ہے فرماتے ہیں :میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں وہ قومیں ہوں گی جو موٹے پتلے ریشم اور شراب، باجوں کو حلال سمجھ لیں گی۔ (صحیح بخاری،کتاب الأشربۃ ،حدیث :5590،صفحہ 1024،مکتبہ العصریہ ،بیروت )

    اس حدیث پاک کے تحت مفتی احمد یارخان نعیمی رحمہ اللہ مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں :” یعنی میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو ان محرمات کو حلال ہی جان لیں گے،یا حلال کی طرح بے دھڑک استعمال کریں گے،یا ان چیزوں کی حلت کے لیے تاویلیں کریں گے مثلًا کہیں گے کہ ریشم اگر جسم سے متصل ہو تو حرام ہے ورنہ نہیں،ہم نے کرتا سوتی پہنا ہے اوپر سے اچکن ریشمی ہے،یا کہیں گے کہ باجے وغیرہ قوالی میں حلال ہیں مجازی عشق کے لیے باجے حرام ہیں ہم تو اﷲ رسول کے عشق کے لیے سنتے ہیں وغیرہ۔“( مرآۃ المناجیح،جلد07،صفحہ 123،قادری پبلشرز ،لاہور )

    فتاوی رضویہ شریف میں سیدی اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال ہوا :کہ قوالی سننا کن اشخاص کو جائز ہے؟ آپ رحمہ اللہ نے جواب ارشاد فرمایا :قوالی مع مزامیر سننا کسی شخص کو جائز نہیں ۔( فتاوی رضویہ،جلد 24،صفحہ 510،رضا فاؤنڈیشن ،لاہور )

    بہارِ شریعت میں ہے : ”متصوفہ زمانہ(بناوٹی صوفی ) کہ مزامیر کے ساتھ قوالی سنتے ہیں اور کبھی اوچھلتے کودتے اور ناچنے لگتے ہیں اس قسم کا گانا بجانا، ناجائز ہے، ایسی محفل میں جانا اور وہاں بیٹھنا ناجائز ہے، مشایخ سے اس قسم کے گانے کا کوئی ثبوت نہیں۔جو چیز مشایخ سے ثابت ہے وہ فقط یہ ہے کہ اگر کبھی کسی نے ان کے سامنے کوئی ایسا شعر پڑھ دیا جو ان کے حال و کیف کے موافق ہے تو ان پر کیفیت و رقت طاری ہوگئی اور بے خود ہو کر کھڑے ہوگئے اور اس حال وارفتگی میں ان سے حرکات غیر اختیاریہ صادر ہوئے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مشایخ و بزرگانِ دین کے احوال اور ان متصوفہ کے حال و قال میں زمین آسمان کا فرق ہے، یہاں مزامیر کے ساتھ محفلیں منعقد کی جاتی ہیں، جن میں فساق و فجار کا اجتماع ہوتا ہے، نااہلوں کا مجمع ہوتا ہے، گانے والوں میں اکثر بے شرع ہوتےہیں، تالیاں بجاتے اور مزامیر کے ساتھ گاتے ہیں اور خوب اچھلتے کودتے ناچتے تھرکتے ہیں اور اس کا نام حال رکھتے ہیں ان حرکات کو صوفیہ کرام کے احوال سے کیا نسبت، یہاں سب چیزیں اختیار ی ہیں وہاں بے اختیاری تھیں۔“( بہار شریعت،جلد03،حصہ 16،ص 511،مکتبۃالمدینہ ،کراچی )

    اسی طرح فتاوی بحر العلوم میں مفتی عبد المنان اعظمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :مروجہ قوالی جو مزامیر کے ساتھ ہوتی ہے نہ شریعت میں جائز ہے ،نہ مشائخِ چشت سے ثابت ہے ۔“( فتاوی بحر العلوم،جلد05،صفحہ 583،شبیر برادرز ،لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتـــــــــــــــــــــــــــــبه:عبد الخالق بن محمد عیسٰی

    الجـــــواب صحــــیـح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 شوال المکرم 1446ھ/12 اپریل 2025ء