سوال
طلاق کے بعد لڑکا ، لڑکی اور انکے گھروالوں کے درمیاں بوقت ِ نکاح اور بعدنکاح ہونےوالے درج ذیل لین دین کا کیا شرعی حکم ہوگا۔کونسی چیز واپس کرنی ہوگی اور کونسی نہیں برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں؟
لڑکی والوں کی طرف سے دیئے گئے سامان کی لسٹ:
1:لڑکی کو جہیز میں دیا گیا فرنیچر اور الیکٹرونکس آئٹم وغیرہ
2:پانچ عدد سونے کے بسکٹ(یہ لڑکے کو دیئے گئے)
3:ایک ہزار ڈالر(یہ لڑکے کو دیئے گئے)
4:ایک عدد سونے کا ہار(لڑکے کی ماں کو دیا گیا)
لڑکے والوں کی طرف سے دیئے گئے سامان کی لسٹ:
1:منگی پر دیئے گئے سونے کے سیٹس(لڑکے کی ماں نے لڑکی کو دیئے)
2:نکاح کی انگوٹھی(لڑکے نے لڑکی کو دی)
3:سونے کا لاکٹ سیٹ ،سالگرہ کے موقع پر بطور تحفہ دیا گیا۔(لڑکے نے لڑکی کو دی)
4:پانچ تولہ کے دو عددسونے کے بسکٹ(لڑکے کی ماں نے لڑکی کو دیئے)
5:حج پر دی گئی بالیاں(لڑکے کی ماں نےلڑکی کو دیا)
6:سونے کا بریسلیٹ(لڑکے نے لڑکی کو دیا)
7:پانچ گرام کے سونے کے پانچ بسکٹ(لڑکے کی ماں نےلڑکی کو دیئے)
سائل:محمد نعیم:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں لین دین کی درج ذیل چار صورتیں متحقق ہیں ۔یکے بعد دیگر ہر صورت کا تفصیلی جواب دیا جائے گا۔
1:جہیز کی صورت میں لڑکی کو ملنے والا سامان:جو سامان لڑکی کو اس کے گھر والوں کی طرف سے جہیز کی صورت میں ملا ہے ۔وہ تمام سامان لڑکی کی ملکیت ہے۔اس میں کسی اور کا حق نہیں۔
ردالمحتارمیں ہے: كل أحد يعلم أن الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها۔ترجمہ: ہرایک جانتاہےکہ جہیزعورت کی ملکیت ہےلہذا جب شوہراسے طلاق دیدے تووہ تمام جہیزلے لے گی اورجب عورت مرجائے توجہیزمیں وراثت جاری ہوگی۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:3،ص:158،دارالفکر بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:203،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں ایک اورمقام پرہے: زیور، برتن، کپڑے وغیرہ جوکچھ ماں باپ نے دختر کودیاتھا وہ سب ملک دخترہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:26،ص:211،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
2: شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے جو سامان اور زیورات وغیرہ لڑکی کو دیئے گئے:اس کی درج ذیل تین صورتیں ہے:
(1):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً (واضح طور پر)لڑکی کو سامان اور زیورات دیتے وقت مالک بناتے ہوئے قبضہ دیا تھا۔
(2):شوہر یا اس کے گھر والوں نے صراحتاً لڑکی کو سامان اور زیورات عاریتاً (یعنی عارضی استعمال کیلئے) دئیے تھے۔
(3):شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیتے وقت کچھ بھی نہیں کہا۔
پہلی صورت میں لڑکی سامان اور زیورات کے ہِبہ کیے جانے کی وجہ سے مالکہ ہے، اسی کو یہ سب دیا جائے گا۔ دوسری صورت میں جس نے دیا وہی مالک ہے۔ وہ واپس لے سکتا ہے اور تیسری صورت میں شوہر کے خاندان کا رواج دیکھا جائے گا۔ اگر وہ لڑکی کو ان اشیاء کا مالک بناتے ہیں تو لڑکی کو دیا جائے گا ورنہ وہ حقدارنہیں اس سے واپس لیا جا سکتا ہے۔
امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
3:لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کو ملنے والا سامان:لڑکے کو جو سامان لڑکی والوں کی طرف سے ملتا ہے ۔مثلاً گاڑی ،بائیک ،سونا وغیرہ ، عرف عام یہی ہے کہ لڑکے کو ہبہ کی جاتی ہیں۔یعنی لڑکے کی طرف سے قبضہ ہونے کے بعد وہ چیز لڑکے کی ملک ہوجاتی ہے۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہے ، جسےحدیث پاک میں کُتّے کےقےیعنی اُلٹی کرکےاُسے چاٹ لینے سے تعبیرکیاگیا ہے۔اگر کسی نے گفٹ کی ہوئی چیز زبردستی چھین لی ، تو یہ شخص اُس گفٹ کی ہوئی چیز کا مالک نہیں بنے گا، بلکہ جس کو گفٹ دیا تھاوہ چیز اسی کی ملکیت میں باقی رہے گی ۔اور اس کے تمام تصرفات ،ملکِ غیر میں تصرف کرنا کہلائے گا۔
بخاری شریف میں ہے:نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: العائد في هبته كالکلب یقی ءثم یعود في قيئه: ترجمہ: اپنے ہبہ سے رجوع کرنے والااس کتے کی طرح ہے جو قے کرکے پھر چاٹ جاتا ہے ۔(صحیح البخاری،رقم:2589)
فتاوی رضویہ میں ہے:اگر موانع رجوع نہ ہوں جب بھی رجوع کا خود بخود اختیارنہیں ہوتا بلکہ یا تو موہوب لہ (جس شخص کو گفٹ دیا گیا ہو اس ) کی مرضی سے ہبہ واپس کر لے یا نالش کر کے بحکم حاکم رجوع کرے ،اس کے بعد دوسرے کو ہبہ کر سکتا ہے بغیر اس کے وہی ملک غیر کا ہبہ ہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:332،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
شادی کےوقت سُسرال سےملنے والےجوڑے کےمتعلق امام اہلسنت الشاہ امام احمدرضاخان علیہ رحمۃالرحمٰن فرماتے ہیں: شوہر کا جوڑا ادھر سےآتا ہےبعد قبضہ قطعاً مِلک شوہر ہو جاتا ہے کہ لوگ اُس سےتملیک ہی کا قصد کرتے ہیں وذٰلک واضح لاخفاء بہ۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:260،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
فتاوی رضویہ میں سُسرال کی جانب سےملنے والےجوڑے کی واپسی کے بارے میں لکھاہے: اگرجوڑا مِلکِ شوہر میں موجود اور باقی موانع رجوع بھی مفقود ہوں مثلاً والدینِ زن نے بنایا تو اُن سے قرابت محرمہ نسبیہ نہ ہو، یا مالِ زوجہ سے بنا تو پیش ازنکاح بھیجا گیا ہوتو شوہر کی رضا یاقاضی کی قضا سے رجوع کا اختیار ہوگا کہ طرفین سے جوڑیں کا جانابحکمِ عرف دونوں جانب کی مستقل رسم ہے،نہ ایک دوسرے کے عوض میں، ولہذا اگر ایک جا نب سے مثلاً بوجہ افلاس جوڑا نہ آئے تو بھی دوسری طرف والے بھیجتے ہیں تو عوض صریح کہ موانع رجوع سے ہے متحقق نہیں، پھر دُولہاکی جانب سےبری میں ہرگز اُس جوڑے کا خیال نہیں جودُولہا کو ملتا ہے بلکہ محض ناموری یا وہی کثرتِ جہیز کی طمع پروری، بہر حال یہ ہبہ معاوضہ سے خالی ہے تو بشرائط مذکورہ دُلہن والوں کو رجوع کا اختیار،مگر گنہگار ہوں گےاس صورت میں شوہر نے اگر یہ جوڑا واپس کردیا تو رجوع صحیح ہوگئی اور اس کی مِلک سے خارج ہوگیا لتحقق الرجوع بالتراضی۔(ملتقطاً ازفتاوٰی رضویہ،جلد:12،ص:204،205،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
ہاں اگر کوئی چیزدیتے وقت صراحتاً کہہ دیا تھا کہ بطور عاریت دے رہے ہیں یا اپنی بیٹی کی ملک کر رہے ہیں ۔تو اس صورت میں لڑکا مالک نہیں ہوتا۔
4:لڑکی و الوں کی طرف سے لڑکے کی ماں کو ملنے والا سامان:جب لڑکی والوں نے لڑکے کی ماں کو زیور دے دیااور انھوں نے اس پر قبضہ کرلیا تو اب یہ زیور ان کی ملک ہوگیا۔اور ہبہ کی واپسی سے کوئی مانع نہ پایا جائےتو قاضی کی قضا یا لڑکے کی ماں کی رضا مندی سے واپس لینے کا اختیار ہے۔ لیکن واپس لینا مکروہ تحریمی یعنی ناجائز وگناہ اورشرعاًنہایت قبیح فعل ہےجیسا کہ اوپر بیان کیا گیا۔
فتاوی رضویہ میں ہے: اگر وہ شخص اس کا ذی رحم محرم نہیں یعنی نسب کے رو سے ان میں باہم وہ رشتہ نہیں جو ہمیشہ ہمیشہ حرمت نکاح کا موجب ہوتاہے جیسے ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، بیٹا ، بیٹی، پوتا، پوتی، نواسہ، بھائی، بہن، بھتیجا، بھتیجی، بھانجا، بھانجی، نہ یہ واھب وموہوب لہ وقت ھبہ باہم زوج وزوجہ تھے، نہ موہوب لہ وقت ہبہ فقیر تھا، نہ اب تک موہوب لہ اس ھبہ کے عوض میں کوئی چیز یہ جتا کرواہب کود ے چکا ہے کہ یہ تیرے ہبہ کا معاوضہ ہے، نہ اس عین شیئ موہوب میں کوئی ایسی زیادت موہوب لہ کے پاس حاصل ہوئی اور اب تک باقی ہے جس سے قیمت بڑھ جائے جیسے زمین میں عمارت یا پیڑ یاکپڑے میں رنگ یا جاندار میں فربہی یاکنیز میں حُسن یا اسے کوئی صنعت یا علم آجانا تو ان سب شرائط کے ساتھ جب تک وہ شے موہوب اس موھب لہ کی ملک میں باقی وقائم اور واہب وموہوب لہ دونوں زندہ ہیں اگرچہ ھبہ کو سو برس گزر چکے ہوں واپس لینے کا اختیار ہےبایں معنی کہ یا تو موہوب لہ خود واپسی پر راضی ہوجائے یا یہ بحکم حاکم شرع واپس کرالے ورنہ آپ جبرا لے لینے کا کسی غیر حاکم شرعی کے حکم سے واپس کرانے کا اصلا اختیار نہیں یونہی اگر ان آٹھ شرطوں میں سے کوئی بھی کم ہے توواپسی کا مطلقا اختیار نہ ہوگا، پھر یہاں اختیار کا صرف اتنا حاصل کہ واپسی صحیح ہوجائے گی لیکن گناہ ہرطرح ہوگا کہ دے کر پھیرناشرعا منع ہے، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کی مثال ایسی فرمائی جیسے کتا قے کرکے چاٹ لیتاہے۔(فتاوٰی رضویہ،جلد:19،ص:198،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29ربیع النور1443 ھ/04نومبر 2021 ء