سوال
زید اور انکی خاتون کے درمیان کچھ معاملات کو لیکر ایک عرصے سے تنازع چل رہا تھا.زید اور انکی خاتون الگ الگ شہروں میں نوکری کرتے ہیں۔جب کہ انکی مستقل رہائش کراچی میں ہے جہاں انکے بچے بھی رہتے ہیں۔ایک بار زید چھٹیوں پہ کراچی آیا ہوا تھا تو انکی خاتون بھی کراچی آگئیں اور اس بار خاتون نے زید سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا تھا۔اور طلاق کے پیپرز تیار کروا کر ساتھ لیکر آئیں ۔گھر آنے کے بعد خاتون نے اپنا ذاتی پستول نکال کر دور ٹیبل پر رکھا۔اور زید کے سامنے وہ پیپرز رکھ کر ان پر دستخط کرنے کو کہا۔زید نے قلم اٹھایا اور ان پیپرز پر دستخط کرنے سے پہلے کہامیں اسپر دستخط تو کررہا ہوں لیکن اس سے طلاق نہیں ہوگی۔تمہاری پہلی طلاق اسوقت شمار ہوگی جب یہ پیپرز یونین کونسل میں جمع کرواؤگی۔اور یہ کہہ کر دستخط کردئیے۔خاتون نے وہ پیپر یونین کونسل میں جمع نہیں کروائے ۔بقول زید اسکی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی۔اور دستخط سے قبل اس جملے (میں اسپر دستخط تو کررہا ہوں لیکن اس سے طلاق نہیں ہوگی) کے کہنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ میں طلاق نہیں دینا چاہ رہا تھا۔زید اپنی اس بات پر حلف اٹھا چکا ہے۔جب کہ خاتون کا کہنا ہے۔۔۔ سخت ڈپریشن میں ہونیکی وجہ سے انھیں یہ ٹھیک سے یاد نہیں کہ زید نے یہ جملہ کب کہا تھا دستخط سے پہلے یا بعد میں۔مذکورہ بالا صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
سائل: علامہ سید غضنفر شاہ/اورنگی ٹاؤن
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
حکم شرعی :شوہر کے طلاق ثلاثہ والے پیپر پر دستخظ کرنےسے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں ۔
تفصیل :
سوال میں ذکرکردہ صورت اور شوہر کے بیان مطابق اکراہ شرعی کا تحقق نہیں ہوا کہ بیوی نے زبانی اکراہ کیا نہ ہی اکراہ پر کوئی صریح قابلِ قبول قرینہ پایا گیا کہ پستول اس کے ہاتھ میں ہوتی یا پستول اپنے سامنے ٹیبل پر رکھ کر بولتی کہ چلو بھئی کرو سائن تو قرینہ سمجھا جا سکتا تھا یہا ں پر تو شوہر کے بیان (جو ریکارڈگ آئی) کے مطابق بیوی نے پستول نکال کر دور ٹیبل پر رکھا جسے انھیں لگا کہ سائن نہیں کروں گا تو وہ مجھے مار دیے گی ورنہ میں اسے مار دوں گا ۔تو محض بیوی کا پستول ٹیبل سے دور رکھنا اکراہ شرعی ہونے کے لیے ناکافی ہے لہذا جس پیپر پر سائن کیے وہ باقاعدہ طلاق نامہ تھا اسے فقہی اصطلاح میں طلاق مرسومہ مستبینہ کہتے ہیں اس پر سائن کرنے سے طلاق ہو جاتی ہےخواہ شوہر کہے کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔
دلائل و جزئیات :
بدائع الصنائع میں اکراہ تام کے بارے ہے: يُوجِبُ الْإِلْجَاءَ وَالِاضْطِرَارَ طَبْعًا كَالْقَتْلِ وَالْقَطْعِ وَالضَّرْبِ الَّذِي يُخَافُ فِيهِ تَلَفُ النَّفْسِ أَوْ الْعُضْوِ قَلَّ الضَّرْبُ أَوْ كَثُرَ،ترجمہ: جو طبعی طور پر جبر و اضطرار کو ثابت کر دے جیسے قتل اور ایسی مار جس سے جان جانے یا عضو کے تلف ہونے کا خدشہ ہو مار تھوڑی یا زیادہ ۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 7 صفحہ 175 دار الکتب العلمیہ)
اسی سے اکراہ ناقص کی تعریف ملاحظہ ہو : وَنَوْعٌ لَا يُوجِبُ الْإِلْجَاءَ وَالِاضْطِرَارَ وَهُوَ الْحَبْسُ وَالْقَيْدُ وَالضَّرْبُ الَّذِي لَا يُخَافُ مِنْهُ التَّلَفُ،وَهَذَا النَّوْعُ مِنْ الْإِكْرَاهِ يُسَمَّى إكْرَاهًا نَاقِصًا.ترجمہ:اور (اکراہ کی دوسری قسم)یہ ہے کہ جو مجبوری و اضطرار کو لازم نہ کرے اور یہ حبس وقید اور اتنی مار ہے کہ جس سے عضو تلف ہونے کا خوف نہ رہے ۔اکراہ کی اس قسم کو ناقص کہا جاتا ہے ۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد 7 صفحہ 175 دار الکتب العلمیہ)
اکراہ کی شرائظ کے حوالے سے در مختار میں ہے (وَشَرْطُهُ) أَرْبَعَةُ أُمُورٍ: (قُدْرَةُ الْمُكْرِهِ عَلَى إيقَاعِ مَا هَدَّدَ بِهِ سُلْطَانًا أَوْ لِصًّا) أَوْ نَحْوَهُ (وَ) الثَّانِي (خَوْفُ الْمُكْرَهِ) بِالْفَتْحِ (إيقَاعَهُ) أَيْ إيقَاعَ مَا هُدِّدَ بِهِ (فِي الْحَالِ) بِغَلَبَةِ ظَنِّهِ لِيَصِيرَ مُلْجَأً (وَ) الثَّالِثُ: (كَوْنُ الشَّيْءِ الْمُكْرَهِ بِهِ مُتْلِفًا نَفْسًا أَوْ عُضْوًا أَوْ مُوجِبًا غَمًّا يُعْدِمُ الرِّضَا) (وَ) الرَّابِعُ: (كَوْنُ الْمُكْرَهِ مُمْتَنِعًا عَمَّا أُكْرِهَ عَلَيْهِ قَبْلَهُ) إمَّا (لِحَقِّهِ) كَبَيْعِ مَالِهِ (أَوْ لِحَقِّ) شَخْصٍ (آخَرَ) كَإِتْلَافِ مَالِ الْغَيْرِ (أَوْ لِحَقِّ الشَّرْعِ) كَشُرْبِ الْخَمْرِ وَالزِّنَا :ترجمہ: اکراہ کی شرائط چار ہیں :(۱)مکرِہ جس فعل کی دھمکی دے رہا ہے اس کے کرنے پر قادر ہو خواہ مکرہ بادشاہ ہو یا چور وغیرہ۔
(۲)مکرَہ( یعنی جس کودھمکی دی گئی ) کو غالب گمان کے ساتھ خوف ہو کہ جس کی دھمکی دے رہا ہے، وہ کر گزرے گا۔یہ شرط اس لیے ہے تاکہ(واضح ہو کہ) مکرہ حقیقی طور پر ملجی ہے ۔
(۳)جس چیز کی دھمکی ہے وہ چیز قتل کرنےہے یا عضو تلف کرنا ہو یا ایسا غم پیدا کرنا ہے جس کی وجہ سے (مکرہ کی)رضامندی فوت ہو جائے۔
(۴)جس کو دھمکی دی گئی وہ پہلے سے اس کام کو نہ کرنا چاہتا ہو اور اس کا نہ کرنا خواہ اپنے حق کی وجہ سے ہو مثلاً اپنا مال بیچنا یا کسی دوسرے کے حق کی وجہ سے ہو جیسے کسی شخص کا مال ہلاک کرنا ۔یا حق شرع کی وجہ سے ہو مثلاً شراب پینا، زنا کرنا۔(الدر المختار،کتاب الاکراہ، جلد 6 صفحہ 129،دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ الرحمہ لکھتے ہیں :صرف اس قدر کہ اُس نے اپنے سخت اصرارسے مجبور کردیا اور اس کے لحاظ پاس سے اسے لکھتے بنی، اکراہ کے لئے کافی نہیں یُوں لکھے گا تو طلاق ہوجائے گی کمالایخفی(جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت) واﷲتعالٰی اعلم۔(فتاوی رضویہ،جلد17 ،صفحہ 385رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی، اور خود لکھنا اور دوسرے کے لکھے ہوئے کو سُن کر اس پر دستخط کرنا یکساں ہے اور خوفِ برادری کہ حدِ اکراہ تک نہ ہو کوئی عذر نہیں۔(فتاوی رضویہ،جلد12صفحہ451 رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
مرسومہ مستبینہ سے مراد وہ طلاق ہے جو عرف و عادت میں خاص ورق پر طلاق کے عنوان کے ساتھ دی جائے ، جیسا کہ فی زمانہ طلاق نامہ جو کورٹ وٖغیرہ سے بنوایا جاتا ہے ۔رد المحتار میں ہے :أَنْ یَکُونَ مُصَدَّرًا وَمُعَنْوَنًا مِثْلُ مَا یُکْتَبُ إلَی الْغَائِبِ۔ترجمہ:( اس سے مراد وہ تحریری طلاق ہے) جو باقاعدہ صادرکی جاتی ہو اور اس میں طلاق کاعنوان ہو جیسے وہ( خط ) جو غائب شخص کو لکھا جاتا ہے (یعنی اس میں عنوان ،نام دستخط وغیرہ ہوتے ہیں )۔( رد المحتار علی الدر المختار کتاب الطلاق مطلب فی الطلاق بالکتابۃ جلد3،صفحہ 246،بیروت)
علامہ زیلعی علیہ الرحمہ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں کتابتِ طلاق کی اقسام اور ان کے احکام ذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں:الْكِتَابُ عَلَى ثَلَاثِ مَرَاتِبَ مُسْتَبِينٌ مَرْسُومٌ، وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مُعَنْوَنًا أَيْ مُصَدَّرًا بِالْعِنْوَانِ، وَهُوَ أَنْ يَكْتُبَ فِي صَدْرِهِ مِنْ فُلَانٍ إلَى فُلَانٍ عَلَى مَا جَرَتْ بِهِ الْعَادَةُ فِي تَسْيِيرِ الْكِتَابِ فَيَكُونُ هَذَا كَالنُّطْقِ فَلَزِمَ حُجَّةً، وَمُسْتَبِينٌ غَيْرُ مَرْسُومٍ كَالْكِتَابَةِ عَلَى الْجُدْرَانِ وَأَوْرَاقِ الْأَشْجَارِ أَوْ عَلَى الْكَاغَدِ لَا عَلَى وَجْهِ الرَّسْمِ فَإِنَّ هَذَا يَكُونُ لَغْوًا لِأَنَّهُ لَا عُرْفَ فِي إظْهَارِ الْأَمْرِ بِهَذَا الطَّرِيقِ فَلَا يَكُونُ حُجَّةً إلَّا بِانْضِمَامِ شَيْءٍ آخَرَ إلَيْهِ كَالنِّيَّةِ وَالْإِشْهَادِ عَلَيْهِ وَالْإِمْلَاءِ عَلَى الْغَيْرِ حَتَّى يَكْتُبَهُ لِأَنَّ الْكِتَابَةَ قَدْ تَكُونُ لِلتَّجْرِبَةِ، وَقَدْ تَكُونُ لِلتَّحْقِيقِ.وَبِهَذِهِ الْأَشْيَاءِ تَتَعَيَّنُ الْجِهَةُ، وَقِيلَ الْإِمْلَاءُ مِنْ غَيْرِ إشْهَادٍ لَا يَكُونُ حُجَّةً، وَالْأَوَّلُ أَظْهَرُ، وَغَيْرُ مُسْتَبِينٍ كَالْكِتَابَةِ عَلَى الْهَوَاءِ أَوْ الْمَاءِ، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ كَلَامٍ غَيْرِ مَسْمُوعٍ، وَلَا يَثْبُتُ بِهِ شَيْءٌ مِنْ الْأَحْكَامِ، وَإِنْ نَوَى ترجمہ:کتابتِ طلاق تین اقسام پر ہے ۔(1)مستبین مرسوم: یہ وہ ہے جس میں طلاق کا عنوان یعنی جو طلاق کے عنوان کے ساتھ صادر کی جائے ،وہ یوں کہ تحریر کی ابتدا میں لکھا جاتا ہے کہ فلاں کی جانب سے فلاں کی طرف (یہ خط)اس کے مطابق جس کی کتابت کے چلانے میں عادت جاری ہے،پس یہ بولنے کی طرح ہے،لہذا اس میں لامحالہ طلاق لازم آئے گی ۔اور(2)مستبین غیر مرسوم جیسے دیوار،درختوں کے پتوں پر لکھنا یاپھر کاغذ پر غیر رسمی طور پر لکھنا،پس یہ صورت لغو ہو گی،کیوں کہ اس طریق پر معاملہ ظاہر کرنے میں کوئی عرف نہیں ہے ۔پس یہ (صورت ،وقوعِ طلاق کے بارے میں )حجت نہیں ہوگی مگر یہ کہ جب اس کے ساتھ کوئی دوسری چیز شامل ہو جائے جیسے نیت، طلاق پر گواہ بنانا،اور کسی اور سے املا کروانا یہاں تک وہ اس کو لکھ دے ۔کیوں کہ کتابت کبھی تجربہ کے لیے اور کبھی تحقیق کے لیے بھی ہوتی ہے۔اور ان چیزوں سے جہت متعین ہو جائے گی ۔اور( 3)غیر مستبین جیسے ہوا یا پانی پر لکھنا ،یہ بمنزلہ کلام غیر مسموع کے ہے ،اور احکام میں سے کوئی چیز اس سے ثابت نہیں ہو گی،اگرچہ نیت بھی کرلے ۔
( تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشِّلْبِيِّ،جلد6،صفحہ 218 المطبعة الكبرى الأميرية) ۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:06رجب المرجب 1444 ھ/18جنوری 2024ھ