بیٹیوں کو عاق کرنا کیسا
    تاریخ: 14 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 778

    سوال

    میرے والد اور چھوٹے بھائی مل کر ہم دو بھائیوں کو گھر سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں ۔ میں نے چالیس سال تک جو کمایا سب کچھ گھر میں خرچ کر دیا۔والدہ کی خدمت کی وجہ سے چالیس سال تک شادی نہیں کی اب ہم دونوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنا کیسا؟

    سائل:محمد وسیم عالم/سعد عالم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر والد کا یہ اقدام کسی شرعی وجہ کے بغیر ہے تو ان کا ایسا کرنا جائز نہیں ۔والد کو چاہیے کہ تمام اولاد کے مابین یکساں سلوک کریں خاص طور پر جائیداد ، روپے پیسے دینے میں تو سب کو برابر برابر دے تاہم کسی دینی، اخلاقی یاخدمت گزاری کی بنیاد کسی ایک کو دوسرے کے مقابلے زیادہ دینے کی گنجائش ہے ۔

    رہا یہ کہ کچھ اولاد کو بلکل محروم کر دینا تو یہ شرعاً جائز نہیں ۔فرض کریں کہ والد نے زندگی میں بے دخل کر دیا عاق کر دیا تو شرعی لحاظ سے عاق شدہ اولاد محروم نہیں ہو گی بلکہ انہیں بھی میراث سے حصہ ملے گا اور جو ان کا حصہ کاٹے گا سخت گنہگار ہو گا ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29صفرالمظفر 1444 ھ/16ستمبر 2023 ھ