سوال
میری بیٹی کی شادی 4 جنوری 2021 کو کوئی ۔ اس کے بعد 9 اگست 2021ءکو برطانیہ میں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی۔شادی کے بعد سے شوہر کا رویہ خراب رہا ۔مسلسل مار پیٹ اور گالیاں دینا معمول بن گیا ۔چناچہ ایک بار لڑائی میں شوہر نے کہا :
"تم چلی جاؤ"
"گھر جاؤ"
"واپس نہیں آنا"
ان الفاظ کی صورت میں طلاق ہو گی کہ نہیں ۔رہنمائی فرمائیں!
لڑکی کا بیان :
یہ جملے عمومی حالات میں کہے گے
نوٹ : ہم نے شوہر سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔
سائل :معید
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق کے الفاظ دو طرح کے ہیں : صریح:وہ لفظ جو لغوی یا عرفی اعتبار سے طلاق کے معنی میں غالب طور پر استعمال ہو۔کنایہ :وہ لفظ جو طلاق اور غیر طلاق دونوں معنی کا احتمال رکھتا ہو ۔درج بالا دو جملے"گھر جاؤ" اور"واپس نہیں آنا"یہ الفاظِ کنایہ ہیں جو کہ اپنے مفہوم میں سوال کا جواب بننے کی یعنی ٹالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کا حکم یہ ہے اگر ان جملوں سے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو گی ورنہ نہیں ۔اور تیسرا جملہ" واپس نہیں آنا " یہ جملہ صریح ہے نہ کنایہ لہذا یہ جملہ طلاق کی نیت سے بولا جائے پھر بھی طلاق نہیں ہوتی ۔
حکم شرعی :
اگر شوہر حلفیہ کہے کہ میں نے یہ جملے طلاق کی نیت سے نہیں کہے تو طلاق نہیں ہو گی ورنہ ہو جائے گی ۔
درمختار میں ہے:وَالْكِنَايَاتُ ثَلَاثٌ مَا يَحْتَمِلُ الرَّدَّ أَوْ مَا يَصْلُحُ لِلسَّبِّ، أَوْ لَا وَلَا (فَنَحْوُ اُخْرُجِي وَاذْهَبِي وَقُومِي) (يَحْتَمِلُ رَدًّا. ترجمہ:الفاظِ کنایہ تین طرح کے ہیں۔ بعض میں سَوال رد کرنے کا احتمال ہے، بعض میں گالی کا احتمال ہے اور بعض میں نہ یہ ہے نہ وہ( بلکہ وہ جواب کے ليے متعین ہوتے ہیں)جیسے نکل،جا ،کھڑی ہو۔ (الدر المختار مع تنویر الابصار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ298دار الفكر-بيروت)
وہ الفاظ جو رد کا احتما رکھتے ہیں ان کے حکم کی بابت لکھتے ہیں :(وَفِي مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ) يَتَوَقَّفُ (الْأَوَّلُ فَقَطْ)۔ترجمہ:اور مذاکرۂِ طلاق میں صرف پہلی صورت (جس میں رد کا احتمال ہو تا ہے) طلاق کے سلسلہ میں نیت پر موقوف ہے۔(الدر المختار مع تنویر الابصار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ301دار الفكر-بيروت)
علامہ ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْأَوَّلَ يَتَوَقَّفُ عَلَى النِّيَّةِ فِي حَالَةِ الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَالْمُذَاكَرَةِ۔ترجمہ:حاصل کلام یہ ہے پہلی صورت(جس میں رد کااحتمال ہے) تینوں حالتو ں خوشی ،غصہ اور مذاکرۂ طلاق میں طلاق، نیت پر موقوف ہو گی۔(رد المحتار علی الدر المختار،باب الکنایات،جلد 3 صفحہ301 دار الفكر-بيروت)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26شوال المکرم 1444 ھ/17مئی 2023 ء