پھوپھو کی وراثت سے بھتیجوں اور بھتیجیوں کا حصہ
    تاریخ: 14 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 780

    سوال

    میری پھوپھی صفیہ غیر شدی شدہ تھیں کا انتقال ہو گیا ان کی وصیت تھی کہ میری جائیداد میرے بھائی کے بچوں لڑکے اور لڑکیوں میں برابر برابر تقسیم کی جائے ان کی وصیت کے مطابق ہماری چچی نے ان کا زیر بیچ کر تمام رقم سب میں برابر برابر تقسیم کر دیا ہے۔اب لرکے پھوپھی صفیہ کا گھر سیل کر رہے ہیں مگر وہ لڑکیوں کو حصہ نہیں دینا چاہ رہے ۔

    مہربانی فرما کر ہمیں بتائیں کہ ان کی وصیت کے مطابق حصہ نہیں دے رہے ہیں تو کیا لڑکے گنہگار ہوں گے؟

    سائل:زوجہ مسعود انور

    نوٹ:

    سائل سے معلوم ہوا کہ مرحومہ کے صرف دو بھائی تھے جن کا انتقال مرحومہ سے پہلے ہو گیا نیز مرحومہ کے ورثا میں صرف درج بالا افرادہیں۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1 :۔پھوپھی کے ورثا صرف بھتیجے ہیں بھتیجیاں نہیں اس لیے کہ بھتیجوں کے ہوتے وقت بھتیجیاں ،بھانجے بھانجیاں محروم ہو جاتی ہیں ۔

    2:۔وصیت اس شخص کے حق میں نافذ ہوتی ہے جو وارث نہ ہوں ، لہذا پر صرف بھتیجیوں کے حق میں وصیت نافذ ہو گی بھتیجوں کے حق میں نہیں کہ انہیں جو میراث سے حصہ ملے وہ وارث ہونے کے ناطے ملے گا ۔

    3:۔وصیت کل ترکہ کے تہائی (تیسرے)حصہ میں نافذ ہوتی ہے اس سے زیادہ میں نافذ نہیں ہو سکتی ۔

    حکم شرعی : پھوپھی نے جتنا مال ومتاع چھوڑا اس کے تین حصے کر کے ایک حصہ بھتیجیوں میں برابر تقسیم کریں گے اور باقی دو حصے بھتیجوں میں برابری کے ساتھ تقسیم ہوں گے۔ مرحومہ کی جائیدا د بیچنےپر جو رقم حاصل ہو گی اس رقم کو زیور کی قیمت کے ساتھ ملا کر تین حصے بنا لیں پھر ایک حصہ میں جتنی رقم آئے وہ لڑکیوں کا حق ہے ۔لڑکیوں نے ابھی تک جو رقم وصول کی اگر وہ تہائی حصے سے کم ہو تو باقی رقم کی ادائیگی لڑکوں پر واجب ہوے کہ فی الفور کریں ۔یاد رہے کہ لڑکیوں کا حق مارنے ، نا حق کھانے پر قرآن و سنت میں سخت قسم کی وعیدات وارد ہوئی ہیں ۔یہ مال کل قیامت کے روز گلے کا طوق بنے گا ۔

    حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ عادني رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم وأنا مريض فقال أوصيت قلت نعم قال بكم قلت بمالي كله في سبيل اللہ قال فما تركت لولدك قلت هم أغنياء بخير قال أوص بالعشر فما زلت أناقصه حتى قال أوص بالثلث والثلث كثير ‘‘ ترجمہ : میں بیمار تھا کہ نبی پاک علیہ الصلوٰۃ و السلام میری عیادت کے لیے تشریف لائے ، تو ارشاد فرمایا : کیا تم نے وصیت کر دی ہے ؟ میں نے عرض کیا:جی ہاں ! آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:کتنے مال کی وصیّت کی؟ میں نے عرض کیا:راہ خدا میں اپنے تمام مال کی وصیت کی ہے ۔ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:اپنی اولاد کے لیے کیا چھوڑا؟ میں نے عرض کیا: وہ لوگ اغنیا یعنی صاحب مال ہیں، آپ نے فرمایا:دسویں حصہ کی وصیّت کرو۔ تو میں مسلسل کمی کرتا رہا ( یعنی بار بار پوچھتا رہا کہ اتنے مال کی وصیت کر دوں ۔۔۔ ؟ ) یہاں تک کہ آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نے فرمایا:ثلث مال کی وصیّت کرو اور ثلث مال بہت ہے۔ ( سنن الترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی الوصیۃ بالثلث ، جلد 1 ، صفحہ 316 ، مطبوعہ لاھور )

    الجوہرۃ النیرۃ میں ہے : الوصية مشروعة بالكتاب والسنة ۔۔ الوصية غير واجبة وهي مستحبة أي للأجنبي دون الوارث ولا تجوز الوصية للوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون لأن الامتناع لحقهم فيجوز بإجازتهم ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون ملخصاً ترجمہ : وصیت قرآن و سنت کی روشنی میں جائز ہے ۔غیرِ وارث کے لیے وصیت کرنا واجب نہیں ، مستحب ہے ۔ وارث کے لیے وصیت درست نہیں ، ہاں اگر وصیت کرنے والے شخص کی وفات کے بعد ورثاء اس کی اجازت دیں ، جبکہ وہ تندرست ( یعنی شرعی طور پر ذہنی مریض نہ ہوں ) اور بالغ ہوں ( تو وارث کے لیے کی گئی وصیت بھی قابلِ عمل ہوگی) ، کیونکہ ( وارث کے لیے وصیت کی ) ممانعت ورثاء کے حق کی وجہ سے تھی ، تو ان کی اجازت کے ساتھ جائز ہوجائے گی اور ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت بھی درست نہیں ، مگر یہ کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد ورثاء اس کی اجازت دے دیں ، جبکہ وہ تندرست ( یعنی شرعی طور پر ذہنی توازن درست ہو ) اور بالغ ہوں ( تو یہ بھی قابلِ عمل ہوگی ۔) ۔ ( الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب الوصایا ، جلد 2 ، صفحہ 366 ، 367 ، مطبوعہ کراچی )

    وصیت کے بارے میں تنویر الابصار میں ہے :(وَتَجُوزُ بِالثُّلُثِ لِلْأَجْنَبِيِّ وَإِنْ لَمْ يُجِزْ الْوَارِثُ ذَلِكَ لَا الزِّيَادَةَ عَلَيْهِإلَّا أَنْ تُجِيزَ وَرَثَتُهُ بَعْدَ مَوْتِهِ)ترجمہ:اور ایک تہائی مال میں اجنبی شخص(جو وارث نہ بن رہا ہو)کے لئے وصیت جائز ہے، اگر چہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں ، اور ایک تہائی سے زائد کی جائز نہیں ہے مگر یہ کہ موصی(وصیت کرنے والے )کی موت کے بعد دیگر ورثاء جائز قرار دیں تو اب ثلث سے زائد میں بھی جائز ہوجائے گی۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب الوصایا جلد 6ص165)

    سراجی میں ہے:أولاهم بالميراث عند عدَم جزء الميِّت وأصله جزءُ أبيه) أي: جزء أبي الميِّت (أي: الإخْوَة) لأبٍ وأمٍّ أو لأبٍ (ثُمّ) أي: وعند عدَم الإخَوة (بَنوهم) أي: بنوا الإخْوَة)ترجمہ:میت کی فروع(بیٹا ،پوتا وغیرہ)اور اصول(باپ،دادا ،وغیرہ)کی عدم موجودگی میں وراثت کے حقدار میت کےوالد کی فروع (میت کا سگا اور باپ شریک بھائی )ہوگا ۔پھر بھائی کی عدم موجودگی میں بھائی کا بیٹا وراثت کا حقدار ہوگا۔(السراجية مع شرحه القمرية،جلد:1،ص:30،مکتبہ المدینہ کراتشی)

    اسی میں ہے:والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہوجائے ۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)

    بھتیجے کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ فتاوٰی رضویہ میں ہے:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوتتعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی در ہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بناسکتے۔ علامہ محمدبن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپر ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 صفحہ 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:06رجب المرجب 1444 ھ/18جنوری 2024ھ