بہن کا حصہ مارنے کا حکم
    تاریخ: 13 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 776

    سوال

    میرےنانا کے انتقال کے بعد نانا کی جائیداد تمام بہن بھائیوں میں تقسیم ہو گی لیکن میری والدہ کو حصہ نہیں ملا ۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ میری والدہ کا حصہ کتنا بنے گا ؟

    بھائیوں نے قبضہ کر رکھا ہے وہ بہن کو حصہ نہیں دے رہے۔

    سائل:جنید احمد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بیٹی کا حصہ بیٹے کے مقابلے میں آدھا ہوتا ہے ۔ اگر نانا کی میراث سے دیگرورثا کو شرعی حصہ مل گیا تو جتنا حصہ دیگر بہنوں کو ملا اس قدر ہی آپ کی والدہ کو ملے گا ۔آپ کی والدہ کے حصے پر جس جس وارث نے قبضہ کر رکھا ہے اس پر لازم ہے کہ فی الفور حصہ واپس کرے اور جتنا عرصہ ناجائز قبضہ کیے رکھا اس کا گناہ اس کے ذمہ ہے ۔

    بیٹی کے حصہ کے متعلق ارشادِباری تعالی ہے: وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُؕ ترجمہ:اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا حصہ ہے۔(النساء:11)

    مشکاۃ المصابیح میں ہے:عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جس نے ظلم کے طور پر( کسی کی )بالشت بھر زمین لی پس قیامت کے دن اس کوساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین کا طوق ڈالا جائے گی۔(مشكاة المصابيح،باب الغصب والعاریة،جلد 01 صفحہ 254: قدیمی)

    عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے (یعنی اس کا حصہ نہ دے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت سے اس کی میراث کاٹے گا۔(ابن ماجہ ،باب الوصایا، الفصل الثالث ،جلد1صفحہ 266: قدیمی)

    یاد رہے کہ ورثا میں سے اگر کوئی صاف صاف مورث کی میراث لینے سے انکار کر دے تب بھی اس کی میراث سے محروم نہ ہو گا اس لیے کہ میراث ایک جبری حق ہے جسے اللہ تعالی نے وارث کے حق میں مقرر فرمایا ہے۔

    اشباہ میں ہے : لایدخل فی ملک الانسان شیئ بغیر اختیارہ الا الارث اتفاقاترجمہ: انسان کی ملکیت میں اس کے اختیار کے بغیر کوئی چیز داخل نہیں ہوتی مگر میراث بالاتفاق داخل ہوتی ہے ۔ (الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک جلد 1 صفحہ 299 ،دار الکتب العلمیہ )

    اسی میں ہے: لوقال الوارث ترکت حقی لم یبطل حقہ اذا الملک لایبطل بالترک :ترجمہ اگروارث نے کہا کہ میں نے اپناحق چھوڑدیاہے تو اس کاحق باطل نہیں ہوگا اس لیے کہ مِلک چھوڑدینے سے باطل نہیں ہوتی ۔ (الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک جلد01 صفحہ272،دار الکتب العلمیہ)

    امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہروارث خواہ مخواہ اپنے حصہ شرعی کامالک ہوتاہے مانگے خواہ نہ مانگے، لے یانہ لے، دینے کاعرف ہویانہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کوگزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے اصلاً کوئی بات میراث ثابت کوساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اﷲ کوتغیرکرسکتاہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا درکنار اگر وارث صراحۃً کہہ دے کہ میں نے اپناحصہ چھوڑ دیا جب بھی اس کی مِلک زائل نہ ہوگی ۔(فتاوی رضویہ جلد26 صفحہ110،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29رجب المرجب 1444 ھ/08فروری 2024ھ