سوال
مجھے اپنی چھوٹی بہن کی مالی مدد کے سلسلے میں آپ سے شرعی اسلامی معلومات درکار ھیں میری چھوٹی بہن اور اس کا شوھر دونوں شوہر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔کوئی کام بھی نہیں کرتے ۔ ان کے دو لڑکے ہیں ان میں سے ایک لڑکا ایک جگہ کام کرتا ہے اور دوسرا لڑکا ابھی پڑھ رہا ان کا ایک مکان سے کرایہ آتا ہے 20000/ مامانہ۔بڑے لڑکے کی آمدنی اتنی نہیں ہے جس سے اس مہنگائی کے دور میں گزارا ہو سکے۔
ہمارا سوال یہ ہے کہ ان کا بڑا لڑکا جس کے پاس کچھ پیسے ہیں جس سے وہ ے اپنا کپڑے کا کام کرتا ہے مگر اس کے پاس جو پیسہ ہے اس سے آمدنی اتنی نہیں ہوتی ہے تو کیا ہم اس کو زکوة کے حساب سے کام کے لئے پیسے دے کر مدد کر سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے کام کو مزید بڑھا کر اپنی آمدنی بہتر کر سکے۔
سائل: ڈاکٹر عثمان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر آپ کا بھانجا شرعی فقیر ہے تو اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں ورنہ نہیں ۔شرعی فقیر سے مراد وہ غیر سید و غیر ہاشمی شخص جس کے پاس قرض اور روز مرہ کی ضروری ضروریات و حاجات میں مشغول مال نکال کر نصاب کی ادنی مقدار (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت برابر سامان ،روپے پیسے، سونا چاندی وغیرہا کی صورت میں ) نہ بچتی ہو ۔سو جو شخص اس تعریف پر اترتا ہو صرف اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ، اس کے علاوہ کو نہیں ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے” والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم۔ترجمہ:زکوۃ ،صدقہ فطر اور منت کی ادائیگی میں افضل یہ ہے کہ اولاً بہن بھائیوں کو دے،پھر ان کی اولاد کو۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الزکاۃ،ج 1،ص 190،دار الفکر،بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ سے سوال ہوا کہ بھانجی بھانجے کو (مالِ زکوۃمیں سے)کچھ دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں؟آپ فرمایا:ان کو بھی بشرائطِ مذکورہ(یعنی جبکہ مصرف ہوں) جائز ہے۔(فتاوی رضویہ،ج 10،ص 252،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:”مصرفِ زکوٰۃ ہر مسلمان حاجتمند ہے جسے اپنے مال مملوک سے مقدار نصاب فارغ عن الحوائج الاصلیہ پر دسترس نہیں بشرطیکہ نہ ہاشمی ہو۔۔۔۔ بالجملہ مدار کا ر حاجتمند بمعنی مذکور پرہے،تو جو نصاب مذکور پر دسترس رکھتاہے ہر گز زکوٰۃ نہیں پا سکتا۔ (فتاوٰی رضویہ،ج10،ص110-109،رضافاؤنڈیشن، لاہور، ملتقطاً)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:”لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية ، وهي مسكنه ، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه ، ومركبه وسلاحه ، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي“ترجمہ : ” جو شخص مالکِ نصاب ہو یعنی اس کی ملکیت میں مال ہو جیسا کہ دینار یا دراہم یا چرائی کے جانور یا تجارت کا سامان ہو یا تجارت کے علاوہ کوئی ایسا سامان ہو جوپورے سال اس کی حاجت سے زائد رہا ہو جیسا کہ زاہدی میں مذکور ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ مال اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہو، حاجتِ اصلیہ سے مراد راس کا رہائشی گھر، امورِ خانہ داری کا سامان، کپڑے، خادم، سواری، ہتھیار وغیرہ ہیں، اس میں نماء کی بھی شرط نہیں کہ مالِ نامی کا ہونا زکوٰۃ واجب ہونے کے لیے ضروری ہے زکوٰۃ کی وصولی حرام ہونے کے لیے اس کی شرط نہیں، جیسا کہ کافی میں مذکور ہے۔ (فتاوٰی عالمگیری، کتاب الزکاۃ، ج 01، ص 189،مطبوعہ پشاور)
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19شعبان المعظم 1444 ھ/29فروری 2024ھ