shohar ki janib se milne walay zevarat ka hukum
سوال
شوہر کی جانب سے بیوی کو شادی کے وقت جو زیورات وغیرہ دیئے گئے انکا کیا حکم ہے؟ بعد از طلاق وہ زیورات کس کی ملکیت قرار پائیں گے شوہر کی یا بیوی کی؟ شوہر وہ زیورات واپس لینے کا حق رکھتا ہے یا نہیں ؟ جبکہ طلاق کا سبب عورت خود بنی ہے ، شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ: فاطمہ: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
وہ زیورات جو عورت کو شوہر کی یا اسکے والدین کی طرف سے دیئے جاتے ہیں ، اس کی درج ذیل تین صورتیں ہیں :
1: شوہرکےوالدین نےزیورات عورت کے قبضہ میں دیتے وقت مالک بنانے یا ہبہ کرنے یا تحفہ دینے کی صراحت کردی تھی ۔ مثلاً لڑکی کو کہاکہ ہم نے یہ زیورات آپ کی ملک کئے یا آپ کو ہبہ کئے یا بطورِتحفہ دئے۔
2:یا تحفہ دینے یا مالک بنانے کی صراحت تو کسی نے بھی قبضہ دیتے وقت نہیں کی تھی ، لیکن خاندان کا عرف ہی یہ ہو کہ دیتے وقت مالک ہی بنادیتے ہیں ، تو مذکورہ ان دونوں صورتوں میں لڑکی ان زیورات کی مالکہ ہوجاتی ہے اور سسرال والے اب اس کے مالک نہیں رہتے اور اب ان کا طلاق سے پہلے یا طلاق کے بعد ان زیورات کی واپسی کا مطالبہ کرنا ، جائز نہیں۔
3:دیتے وقت نہ مالک بنانے کی صراحت کی اور نہ ہی وہاں مالک بنانے پر عرف جاری ہو ، بلکہ وہاں کا رواج یہ ہے کہ جب تک نکا ح میں لڑکی رہےتو یہ زیورات پہننے کی اسے اجازت ہوتی ہے ، لیکن جب طلاق ہوجائے ، تو واپس لے لیتے ہوں ، تو اس صورت میں وہ زیورات دینے والے کی ملک ہیں ۔ وہ لڑکی سے جب بھی واپس لینا چاہیں،تو لے سکتےہیں ۔
یہی تینوں صورتیں اور ان کے احکام ،زیورات کے علاوہ دیگر سازوسامان کے بارے میں ہوں گے۔
چنانچہ امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: چڑھاوے کا اگر عورت کو مالک کردیا گیا تھا خواہ صراحۃً کہہ دیا تھا کہ ہم نے اس کا تجھے مالک کیا یا وہاں کے رسم و عرف سے ثابت ہوکہ تملیک ہی کے طور پر دیتے ہیں جب تو وہ بھی عورت ہی کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایا اس کی ملک ہےخواہ والدِ شوہر ہو یا والدہ یا خود شوہر۔(فتاوی رضویہ،ج12،ص260،رضافاونڈیشن،لاھور)
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: اگروہ چڑھاوا صرف اس نیت سے دیتے ہیں کہ دلہن پہنے مگردلہن کی مِلک نہیں کردیتے بلکہ اپنی ہی ملک رکھتے ہیں جب توچڑھاوا شوہر یاشوہر کے ماں باپ کاہے جس نے چڑھایاہو، اوراگردلہن ہی کو اس کامالک کردیتے ہیں تو وہ بھی مثل جہیزترکہ دختر ہے۔(فتاوی رضویہ،ج 26،ص 210،رضافاونڈیشن،لاھور)
اسی میں ہے: یوں ہی چڑھاوے میں اگر اس قوم کاعرف دلہن کومالک کردیناہے اگرچہ تاحین حیات تو چڑھاوا بھی ہندہ کی ملک ہے ورنہ جس نے چڑھایاتھا اس کاہے فان العادۃ محکمۃ (کیونکہ عادت حکم لگانے والی ہے) بعد شادی جوزیورشوھرنے پہنایاوہ شوہرکی ملک ہے مگریہ کہ صراحۃً یاعرفاً ہندہ کومالک کردینامفہوم ہواہو۔(فتاوی رضویہ،ج 26،ص 339،رضافاونڈیشن،لاھور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:15 رمضان المبارک 1444 ھ/06 اپریل 2023 ء