سوال
مسجد کا گنبد لوگوں کو نہ نظر آنے کی وجہ سے کیا مدرسہ کی بلڈنگ مسمار کی جا سکتی جہاں مؤذن بھی رہائش پذیر ہے ۔
نوٹ:سائل کے بیان کے مطابق یہ مدرسہ وقف ہے۔
سائل: عبد اللہ ،سائیٹ ایریا کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں موقوفہ مدرسے کو مسمار کرنا ناجائز و حرام ہے کہ یہ وقف میں مالکانہ تصرف ہے جس کا حکم شرع یہ ہے کہ متولی اگر ایسا تصرف کرتا ہے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیا جائے اگرچہ خود واقف ہی کیوں نہ ہو۔
وقف میں مالکانہ تصرف کے متعلق علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں:"فَإِذَا تَمَّ وَلَزِمَ لَا يُمَلَّكُ وَلَا يُمْلَكُ وَلَا يُعَارُ وَلَا يُرْهَنُ".ترجمہ:جب وقف مکمل اور لازم ہو جائے تو اب نہ واقف خود مالک ہے نہ کسی کو مالک بنا سکتا ہے نہ عاریتاً دے سکتا ہے اور نہ ہی رہن رکھ سکتا ہے۔(الدر المختار،کتاب الوقف،مطلب فی وقف المرتد،4/351-352،دا رالفکر)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’وقف میں تصرف مالکانہ حرام ہے اور متولی جب ایسا کرے تو فرض ہے کہ اسے نکال دیں اگرچہ خود واقف ہوچہ جائے دیگر۔ درمختار میں ہے: وینزع وجوبا ولوالواقف، درر، فغیرہ اولٰی لوغیرمامون، بزازیہ.ترجمہ:لازماً معزول کیا جائے اگرچہ واقف ہی ہو،درر۔تو بطریق اولی غیر کو اگر وہ معتمد علیہ نہیں، بزازیہ“۔(فتاوی رضویہ،16/162،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب