شوہر اور بیوی میں طلاق پر اختلاف
    تاریخ: 26 جنوری، 2026
    مشاہدات: 23
    حوالہ: 662

    سوال

    بیوی کا بیان:

    میری شادی کو 22مہینے ہوگئے ہیں شادی کے بعد میرے شوہر کا رویہ بہت خراب رہا وہ ذرا ذرا سی باتوں پہ مجھے بہت مارتے اور لڑائی جھگڑے کرتے رہتے تھے ۔ اسی دوران مجھے حمل ٹھہرااور وضع حمل سے تین دن قبل میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ "میں نے تجھ چھوڑ دیا" اوریہ بات میں نے اپنے گھر والو ںکو شوہر کے کام پر جانے کے بعد فون کرکے بتائی اور اسکےبعد شوہر کے گھر میں ہی رہتی رہی لیکن شوہر نے کسی طرح کا کوئی تعلق قائم نہیں کیا اور اسکے دو دن بعد میرے یہاں بیٹے کی ولادت ہوئی(شوہر کے یہ الفاظ بولنے کے تین دن بعد بچے کی ولادت ہوئی) اور اسکے بعد میں سوا مہینہ گزارنے شوہر کی مرضی سے امی کے گھر گئی اور امی کے گھر جانے کے بعد انھوں نے مجھے سے قطع تعلقی کرلی اور میں جب بھی انہیں کال یا ایس ایم ایس کرتی تو مجھے یہی کہتے کہ میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے۔ پھر میرے گھر والوں نے صلح کروا کر مجھے میرے شوہر کے ہمراہ گھر بھیج دیا۔سسرال میں جانے کے بعد بھی میرے شوہر نے ذرا ذرا سی بات پر لڑناجھگڑنا شروع کردیا اور مارنا پیٹنا شروع کردیا اور لڑائی کے دوران یہ کہتے تھے "میں نے تجھے چھوڑ دیا آزاد کیا تو میرے گھر سے نکل "لیکن میں نے اگنور کیا کیوں کہ میرے ماں باپ نہیں ہے تو میرے گھر بنانا چاہتی تھی ۔لیکن ابھی 2رمضان میں لڑائی ہوئی میرے شوہر نے کہا کہ :"میں نے تجھے آزاد کیا میرے گھر سے نکل۔پھر دوبارہ رمضان کے درمیان میں لڑائی ہوئی اور یہی الفاظ دہرائے اور پھر 23رمضان کو دوبارہ لڑائی ہونے پر یہ الفاظ ادا کیے:"میں نے تمھیں آزاد کیا چھوڑ دیا نکل جا میرے گھر سے "اور پھر میرے زیورات اتروا کرکہا کہ جاؤ میرا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔آپ سے گزارش ہے کہ آپ مجھے بتائیں کیا میری طلاق ہوگئی؟

    شوہر کابیان:

    شوہر دارالافتاء آئے اور انہوں نے الفاظ کی تصدیق کی تاہم لڑائی جھگڑے اور مار پیٹ کے الزامات کو مسترد کردیا۔

    سائلین :شازیہ ناز وراثی و محمد راشد انصاری: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بیوی اور شوہر کے بیان کے مطابق یہ الفاظ "میں نے تجھے چھوڑ دیا ہے " کہنے سے ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی اورعدت شروع ہوگئی ،پھر چونکہ طلاق دوران حمل دی گئی اسلیےاسکی عدت وضع حمل ہے لہذا وضع حمل(بچے کی پیدائش )ہوتے ہی بیوی کی عدت مکمل ہوگئی اور بیوی اس شوہرکے نکاح سے باہر ہوگئی،اب بیوی کا شوہر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رہا ،اب بیوی کا بغیر نکاح کے شوہر کے ساتھ رہنا حرام ہے۔اورعدت گزرنے کے بعد تجھے چھوڑ دیا ،آزاد کیا وغیرہ جتنی بار بھی کہا وہ کہنالغواور بیکار ہو گیا کیونکہ بیوی طلاق کا محل ہی نہ رہی۔

    البتہ اب اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو اسکا طریقہ یہ ہے کہ اب دوبارہ نیا نکاح، نئے گواہ اور نیا حق مہر مقرر کرنا ہوگا۔اور آئندہ محض دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔

    بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخر:ترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔(بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )

    میں نے تجھ چھوڑ دیا عرفاً طلاق صریح ہے جیسا کہ اعلیٰ حضرت ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: عورت کو چھوڑدینا عرفاً طلاق میں صریح ہے، خلاصہ وہندیہ میں ہے: لوقال الرجل لامرأتہ تراچنگ باز داشتم او بہشتم اویلہ کردم ترااوپاے کشادہ کردم ترافھذاکلہ تفسیر قولہ طلقتک عرفا حتی یکون رجعیا ویقع بدون النیۃ ۔ترجمہ: اگر کوئی شخص بیوی کو کہے''میں نے تیرا چنگل باز رکھا، تجھے چھوڑا ہے، تجھے جُدا کردیا ہے یا تیرے پاؤں کھول دئے ہیں، تویہ تمام الفاظ عرفاً''تجھے طلاق دی'' کے ہم معنٰی ہیں، اس لئے ان سے رجعی طلاق ہوگی اور بغیر نیت طلاق ہوگی۔۔(فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 13 ص 582)

    اسی طرح حضرت صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں :اردو میں یہ لفظ کہ '' میں نے تجھے چھوڑا''، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔(بہار شریعت حصہ 8جلد 2ص 116)

    اور حاملہ ہونے کی صورت میں عدت وضع حمل یعنی جب تک بچہ پیدا نہ ہو تب تک عدت ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الاحمال أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جو حیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق 4)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 ذو الحجۃ 1441 ھ/31 جولائی 2020 ء