شرکت پر لی ہوئی دکان کے کرایہ کا حکم

    shirkat par li hui dukan ke kiraye ka hukm

    تاریخ: 16 جولائی، 2026
    مشاہدات: 88
    حوالہ: 1630

    سوال

    ایک دکان جو میاں بیوی کے درمیان مشترک ہےیعنی دونوں نے پیسہ لگاکر خریدی ،کرایہ پر دی ہوئی تھی کہ شوہر کا انتقال ہوگیا ۔ کیا اب سارا کرایہ بیوی لے سکتی ہے یا ورثاء کے مابین اسکی تقسیم کرنی ہوگی ؟ میت کے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ اب جو کرایہ آرہا ہے وہ سارا بیوی استعمال کررہی ہے جس کی بعض ورثاء اجازت نہیں دے رہے ہیں ۔شرعی حکم ارشاد فرمائیں۔

    سائل:بلال رضا : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    دوکان چونکہ میاں بیوی کے مابین مشترک ہے اس لئے قفط اس دکان کے اتنے حصے کی تقسیم ہوگی جتنے حصے کا شوہر مالک تھا جبکہ بیوی بدستور اپنے حصے کی مالکہ رہے گی۔ رہا کرائے کا مسئلہ تو جب یہ دکان والد کی زندگی سے ہی کرائے پر ہی تھی اور بعد وفاتِ والد تمام ورثاء نے اسی عقد کو باقی و جاری رکھا تو بلاشبہ والد کے حصے کی مقدار دکان کا کرایہ تمام ورثاء میں ان کی حصص شرعیہ کے مطابق تقسیم ہوگا ، محض والدہ کا تنہا اس تمام کرائے میں تصرف کرنا درست نہیں۔

    دکان کی وراثت کی تفصیل:

    دکان کو اولاً دو حصص میں تقسیم کیا جائے گا اس میں پہلا حصہ (یعنی وہ مقدار جسکی مالک والدہ ہے) والدہ کو دیا جائے گا، مثلاً دونوں برابر شریک تھے تو برابر برابر اسکے علاوہ کوئی اور صورت تھی تو اسی اعتبار سے۔ بعد ازاں جو والدہ کا حصہ ہوگا اسکو 8 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سےا یک حصہ والدہ کو ، ہر بیٹے کو الگ الگ دو حصے، ہر بیٹی کو الگ الگ دو حصے دیئے جائیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    کرائے کی تقسیم بھی اسی تناسب سے ہوگی کہ اولاً کل کرائے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا بعد ازاں والد کے حصے کو 8 حصوں اسی طرحمیں تقسیم کرکے ورثاء میں تقسیم کیاجائے گا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1445ھ/ 06 ستمبر 2023 ء