shadi ke ikhrajat ko wirasat se minha karna waghairah
سوال
فخر الدین کا انتقال ہوگیا، جس نے اپنی وفات کے وقت درج ذیل جائیداد چھوڑی:
دو دکانیں ایک رہائشی گھرتقریباً 1200 گز کا پلاٹ، جس پر مارکیٹ( یعنیدکانیں) اور اوپر رہائش بنی ہوئی ہےاس کے انتقال کے بعد ابھی تک وراثت کی شرعی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران بعض بیٹوں نے:ایک بہن کی شادی اور تین بھائیوں کی شادی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے دو دکانیں فروخت کر دیں۔اہم بات یہ ہے کہ:اس فروخت سے پہلے ایک بھائی انتقال فرما چکے تھے باقی بھائیوں اور دو بہنیں کو یہ امید تھی کہ جب باقی جائیداد کی وراثت تقسیم ہوگی تو اس میں سے حصہ ہمیں مل جائے گا۔یعنی تمام وارثوں کی اجازت شامل نہیں تھی۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ:
دکانیں فروخت کر کے ان کی رقم شادیوں پر خرچ کر دی گئی ،بہنوں اور کچھ بھائیوں کو ان کا شرعی حصہ ادا نہیں کیا گیا اب باقی جائیداد (گھر اور 1200 گز پلاٹ) کی تقسیم ہونا ہے۔اب دریافت طلب امور یہ ہیں:
1.کیا دکانوں کی فروخت شرعاً درست تھی جبکہ تمام وارث راضی نہیں تھے؟
2.کیا شادی کے اخراجات کو ان افراد کے حصے میں شمار کیا جائے گا جن کی شادی ہوئی؟
3.دکانوں کی فروخت میں جو حصہ بہنوں کو نہیں دیا گیا، کیا وہ اب باقی جائیداد سے پورا کیا جائے گا؟
براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مکمل رہنمائی فرمائیں۔
نوٹ:دوکانیں فروخت کی گئی بہنوں نے اس بنا پر اجازت دی کہ بعد میں ان کا ان کا حصہ دیا جائے گا ۔
سائل : عاقب تسلیم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1.پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ والد مرحوم کی دکانیں فروخت کرتے بہنوں سے اجازت نہیں لی گئی تھی، لہٰذا ان بہنوں کی اجزت و رضاکے بغیر دکانیں فروخت کرنا شرعاً درست نہیں تھا۔ البتہ جب بہنوں کو دکانوں کی فروخت کا علم ہوا اور انہوں نے اس بیع کو رد نہیں کیا بلکہ یہ امید کی کہ بعد میں انہیں ان کا حصہ دے دیا جائے گا، تو یہ دلالۃً بیع پر رضا شمار ہوگی، جس کی وجہ سے بیع نافذ ہوگئی۔ لہذا ان فروخت شدہ دکانوں میں بہنیں اپنی شرعی حصےکی حقدار ہیں ۔
2.شادی کے جو اخراجات کیے گئے، ان میں جن ورثاء نے اجازت نہیں دی ان کے حصے سے ان اخراجات کو منہا نہیں کیا جائے گا۔ البتہ جن افراد کی شادی ہوئی یا جن ورثاء نے اپنی رضامندی سے ان اخراجات کو قبول کیا تو ان کے حصے سے ان اخراجات کو شمار کیا جا سکتا ہے، اور یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہوگا۔
3. دکانوں کی فروخت سے جو حصہ بہنوں کو نہیں دیا گیا، وہ ان کا شرعی حق ہے، لہٰذا وہ دینا بھائیوں پر لازم ہے۔ اسی طرح رہائشی گھر اور 1200 گز پلاٹ میں جو ان کا شرعی حصہ بنتا ہے وہ بھی انہیں دینا ضروری ہے۔ کیونکہ کسی کا مال ناحق روکنا یا کھانا سخت گناہ ہے اور اس پر شریعت میں شدید وعیدات وارد ہوئی ہیں۔
نوٹ:وراثت کی تقسیم کے لیے مرحوم کے تمام ورثاء کی مکمل تفصیل فراہم کر دیں، تاکہ ان کے درمیان ترکہ کی شرعی تقسیم درست طور پر بیان کی جا سکے۔
اپنے شریک کا اس کی اجازت کے بغیر حصہ بیچنے کے متعلق 'دررالحکام شرح مجلۃ الحکام' میں ہے:” لو باع أحد صاحبي الدار المشتركة حصته وحصة شريكه بدون إذنه لآخر فيكون البيع المذكور فضولا في حصة الشريك (البهجة) وللشريك المذكور إن شاء فسخ البيع في حصته وإن شاء أجاز البيع إذا وجدت شرائط الإجازة“ .ترجمہ:اگر مشترکہ گھر کے مالکان میں سے ایک نے اپنا حصہ اوراپنے شریک کا کسی اجنبی کو اس کی اجازت کے بغیر بیچ دیا تو یہ شریک کے حصے میں بیع فضولی ہوگی اور شریک کو اختیار ہے کہ وہ چاہےتو اپنے حصے کی بیع ختم کردے اور چاہے تو اسے جائز کردے جبکہ بیع کی شرائط پائی جائیں ۔ (دررالحکام شرح مجلۃ الاحکام ،(المادة ١٠٧٥) كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ،ج:3،ص:29،مطبوعہ دار الجیل)
بہار شریعت میں ہے ’’ شرکتِ ملک ميں ہر ایک اپنے حصہ ميں تَصَرُّف کرسکتا ہے اور دوسرے کے حصہ ميں بمنزلہ اجنبی ہے، لہٰذا اپنا حصہ بیع کرسکتا ہے اس ميں شریک سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اُسے اختيار ہے شریک کے ہاتھ بیع کرے یا دوسرے کے ہاتھ۔(بہار شریعت،:حصہ:10،صفحہ:490،مکتبہ دعوت اسلامی)
کسی کا مال ناحق کھانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے" فقال رسول الله صلي الله عليه و سلم : إنه لا يقتطع رجل مالا إلا لقي الله يوم القيامة وهواجزم" ترجمہ : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص پر ایا مال لے لے گا وہ قیامت کے دن اللہ پاک سے کوڑھی ہو کر ملے گا۔ (المعجم الکبیر ، باب الف، جلد : 1، صفحہ : ۲۳۳، مکتبہ القاهره)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:20 ذی القعدہ 1447ھ/08مئی 2026