سیدہ کا نکاح غیر سید سے
    تاریخ: 3 فروری، 2026
    مشاہدات: 8
    حوالہ: 730

    سوال

    (۱)اسلام میں لڑکی عدالت سے یعنی ماں ،باپ کی اجازت کے بغیر نکاح کرسکتی ہے،جبکہ لڑکی کی عمر 25سال ہے؟

    (۲)لڑکی سیّد خاندان سے تعلق رکھتی ہے،اسکا رشتہ سیّد خاندان میں ہوا مگرلڑکی نے عدالت میں جاکر غیر سیّد لڑکے سے کورٹ نکاح کرلیا،تو اسکا ایسا کرنا کیسا؟

    (۳)لڑکی ماں ،باپ کی نافرمان ہوچکی ہے ،اب اس لڑکی کے متعلق اسلا م میں کیا حکم ہے؟

    (۴)نکاح میں لڑکی کےوکیل کی طرف سے کوئی گواہ نہیں ہے ،نکاح فارم میں گواہوں کی جگہ یہ لکھا ہے کہ لڑکی بذات خود موجود ہے،اسکے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟

    نوٹ:جب نکاح نامے کو دیکھا گیا تو اس میں نکاح کے گواہ موجود تھے۔

    سائل:شبیر حسین شاہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) اگر لڑکا،لڑکی دونوں بالغ ہوں اور لڑکا، لڑکی کاکفو بھی ہو(یعنی : اسلام،نسب،حرمت،دیانت،حرفت،مال) کسی معاملے میں لڑکی سے اس قدرکم نہ ہو کہ اس کے ساتھ نکاح کرنالڑکی کے ورثاء کے لیے باعث ننگ وعارہو تو اس صورت میں نکاح جائز ہے۔لیکن اگر لڑکا لڑکی کا کفو نہیں تو نکاح باطل ہے۔لڑکی لڑکے کاوالدین کی اجازت کے بغیر کورٹ میں جاکر نکاح کرلینایہ معاملہ عموما کئی گناہوں پرمشتمل ہوتاہے (مثلا:غیرمحرم مردو عورت کاآپس میں تنہائی میں ملنا،بلاوجہ شرعی بات چیت کرنا،والدین کی تذلیل وایذا کاسبب بنناوغیرہ) اس وجہ سے ممنوع ہے ،

    (۲) جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا کہ نکاح کیلئے کفو کا ہونا ضروری ہے ،یہاں پر بھی دیکھا جائے گا کہ سیدہ اگر بالغہ ہے اور اس کا کوئی ولی باپ ،دادا یا ان کی اولاد و نسل سے کوئی مرد موجود ہےاور اس (ولی)نےنکاح سے پہلے اس شخص کوغیر کفو میں جان کا نکاح کی اجازت نہیں دی لہذا اسی وجہ سے مفتٰی بہ قول پرسیدہ بالغہ کا کیا ہوا نکاح باطل ہوگا۔

    (۳) اسلام میں والدین کی اطاعت اور خدمت کو ایک عظیم فریضہ قرار دیا گیا ہے۔ اولاد پر لازم ہے کہ وہ ہر ایسے معاملے میں والدین کی بات مانے، جس میں شریعت کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہوتی ہو۔ جہاں شریعت کی نافرمانی لازم نہ آئے، وہاں والدین کی اطاعت واجب اور ان کی نافرمانی سخت گناہ ہے۔والدین کو تکلیف پہنچانا یا ان کی بات کو رد کرنا شرعاً حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ قرآنِ کریم میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی بارہا تاکید فرمائی گئی ہے، اور رسولِ اکرم ﷺ نے بھی اپنی احادیث میں والدین کی خدمت کو جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اور والدین کی نافرمانی اور ان کو ایذا دینا ان برے اعمال میں سے ہے جن پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

    (۴) اگر عاقلہ، بالغہ لڑکی بذاتِ خود مجلسِ نکاح میں موجود ہو اور صراحت کے ساتھ ایجاب و قبول ہو جائے (یعنی لڑکی اور لڑکا دونوں نکاح کو زبان سے قبول کریں)، اور دو مسلمان مرد گواہ یا ایک مرد دو عورتیں موجود ہوں، تو شرعاً نکاح صحیح ہو جاتا ہے،اب وکیل کی ضرورت نہیں ،کیونکہ وکیل صرف اس وقت ضروری ہوتا ہے جب لڑکی مجلسِ نکاح میں خود موجود نہ ہو اورکسی کو اپنی طرف سے وکیل بنائےاور پہر اس وکیل کے دو گواہ ہوتے ہیں، اگر لڑکی نکاح کی مجلس میں موجود ہو اور خود نکاح کا ایجاب اور قبول کرے، تو وکیل کی ضرورت نہیں ،لیکن نکاح فارم میں صرف وکیل کی جگہ "لڑکی بذات خود موجود ہے" لکھا ہے، تو فارم میں وکیل کا ذکر نہ ہونا نکاح کو فاسد یا باطل نہیں بناتا کیونکہ اب اس کی ضرورت ہی نہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ نکاح کے وقت دو گواہ موجود ہوں اور ایجاب و قبول ہو۔یہ بات تو صرف گواہوں کی ہے مگر جوسائل کی طرف سے پیش کردہ مسئلہ ہے اس میں نکاح غیر کفو کیوجہ سے باطل ہے۔

    دلائل وجزئیات:

    قدوری شریف میں ہے:وينعقد نكاح المرأة الحرة البالغة العاقلة برضاها وإن لم يعقد عليها ولي عند أبي حنيفة بكر كانت أو ثيبا: ترجمہ:آزاد عاقلہ بالغہ کا نکاح اس کی رضاع سے منعقد ہوتا ہےاگر چہ اس کا ولی منعقد نہ کرائے، چاہے لڑکی باکرہ ہو یا ثیبہ ہو امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک۔(مختصر القدوری:کتاب النکاح،ص:146،مکتبہ دار الکتب العلمیہ)

    امام ابو الحسين احمد بن محمد بن احمد بن جعفر القدوري الحنفي البغدادي (ت ٤٢٨ هـ) فرماتے ہیں ،لا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين بالغين عاقلين مسلمين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا غيرا عدول: ترجمہ مسلمانوں کا نکاح صرف دو گواہوں کی موجودگی میں منعقد ہوگا، جو کہ آزاد، بالغ، عاقل، مسلمان ہوں، یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں، (قدوری:کتاب النکاح،ص:145مکتبہ دارالکتب العلمیہ)

    فتاوی ھندیہ میں ہے،الْكَفَاءَةُ مُعْتَبَرَةٌ فِي الرِّجَالِ لِلنِّسَاءِ لِلُزُومِ النِّكَاحِ، كَذَا فِي مُحِيطِ السَّرَخْسِيِّ وَلَا تُعْتَبَرُ فِي جَانِبِ النِّسَاءِ لِلرِّجَالِ، كَذَا فِي الْبَدَائِعِ. فَإِذَا تَزَوَّجَتْ الْمَرْأَةُ رَجُلًا خَيْرًا مِنْهَا؛ فَلَيْسَ لِلْوَلِيِّ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا فَإِنَّ الْوَلِيَّ لَا يَتَعَيَّرُ بِأَنْ يَكُونَ تَحْتَ الرَّجُلِ مَنْ لَا يُكَافِئُوهُ، كَذَا فِي شَرْحِ الْمَبْسُوطِ لِلْإِمَامِ السَّرَخْسِيِّ. الْكَفَاءَةُ تُعْتَبَرُ فِي أَشْيَاءَ (مِنْهَا النَّسَبُ) فَقُرَيْشٌ بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ كَيْفَ كَانُوا حَتَّى أَنَّ الْقُرَشِيَّ الَّذِي لَيْسَ بِهَاشِمِيٍّ يَكُونُ كُفْئًا لِلْهَاشِمِيِّ وَغَيْرُ الْقُرَشِيِّ مِنْ الْعَرَبِ لَا يَكُونُ كُفْئًا لِلْقُرَشِيِّ وَالْعَرَبُ بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ الْأَنْصَارِيُّ وَالْمُهَاجِرِيُّ فِيهِ سَوَاءٌ، كَذَا فِي فَتَاوَى قَاضِي خَانْ. وَبَنُو بَاهِلَةَ لَيْسُوا بِأَكْفَاءٍ لِعَامَّةِ الْعَرَبِ وَالصَّحِيحُ أَنَّ الْعَرَبَ كُلَّهُمْ أَكْفَاءٌ كَذَا ذَكَرَهُ أَبُو الْيُسْرِ فِي مَبْسُوطِهِ، كَذَا فِي الْكَافِي. وَالْمَوَالِي وَهُمْ غَيْرُ الْعَرَبِ لَا يَكُونُونَ أَكْفَاءً لِلْعَرَبِ وَالْمَوَالِي بَعْضُهُمْ أَكْفَاءٌ لِبَعْضٍ، كَذَا فِي الْعَتَّابِيَّةِ قَالُوا: الْحَسِيبُ كُفْءٌ لِلنَّسِيبِ حَتَّى أَنَّ الْفَقِيهَ يَكُونُ كُفْئًا لِلْعَلَوِيَّةِ ذَكَرَهُ قَاضِي خَانْ وَالْعَتَّابِيُّ فِي جَوَامِعِ الْفِقْهِ وَفِي الْيَنَابِيعِ وَالْعَالِمُ كُفْءٌ لِلْعَرَبِيَّةِ وَالْعَلَوِيَّةِ وَالْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا يَكُونُ كُفْئًا لِلْعَلَوِيَّةِ.ترجمہ:کفو مردوں کے لیے عورتوں کے ساتھ نکاح کے لازم ہونے (یعنی نکاح کو برقرار رکھنے) کے لیے معتبر ہےجیساکہ محیط السرخسی میں ہےاور کفو عورتوں کی طرف سے مردوں کے لیے معتبر نہیں ہے، جیسا کہ "بدائع الصنائع" میں بیان کیا گیا ہے۔اگر کوئی عورت کسی ایسے مرد سے نکاح کر لے جو اس سے کم تر ہو، تو ولی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کر کے نکاح کو منسوخ کروا سکتا ہے، البتہ اگر عورت کسی بہتر مرد سے نکاح کرے تو ولی کو یہ اختیار نہیں کہ ان کے درمیان تفریق کرائے،کیونکہ ولی کے لیے باعثِ عار نہیں کہ اس کے زیر سرپرستی عورت کی شادی ایسے مرد سے ہو جو اس کا کُفو نہ ہو،یہ بات امام سرخسی کی شرح مبسوط میں مذکورہے۔نسب قریش آپس میں سب ایک دوسرے کے کفو ہیں، چاہے ان کا تعلق ہاشمی خاندان سے ہو یا نہ ہو۔غیر قریشی عرب، قریشی کے کفو نہیں ہیں۔تمام عرب (عمومی طور پر) ایک دوسرے کے کفو ہیں، اور انصاری و مہاجری بھی برابر ہیں۔بنو باہلہ یہ عام عرب کے کفونہیں سمجھے جاتے۔صحیح قول یہ ہے کہ تمام عرب ایک دوسرے کے کفء ہیں، جیسا کہ امام ابو اليسر نے اپنی کتاب مبسوط میں ذکر کیا ہے، اور یہی بات کتاب "الکافی" میں بھی آئی ہے۔موالی (یعنی غیر عرب) وہ عربوں کے کفو نہیں سمجھے جاتےلیکن موالی (غیر عرب) آپس میں ایک دوسرے کے کفو ہیں، جیسا کہ العتابیہ میں بیان ہوا۔حسیب اور نسبی:حسیب (یعنی شریف، باکردار، دینی اعتبار سے اونچا انسان)، نسبی (خاندانی اعتبار سے اونچے طبقے) کا کفو ہو سکتا ہے،حتیٰ عالم دین بھی علویہ (سید زادی) کا کفوہو سکتا ہے، جیسا کہ قاضی خان اور العتابی نے فقہی کتب میں ذکر کیا ہے۔عالم وہ عربیہ یا علویہ عورت کا کفء ہو سکتا ہے،مگر اصح قول کے مطابق وہ علویہ کا کفو نہیں ہوتا۔(فتاوی ھندیہ،کتاب النکاح،الباب الخامس فی الاکفاءفی النکاح،جلد:1،ص:290،مکتبہ دارالفکر بیروت)

    امام اہل سنت اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :”سید ہر قوم کی عورت سے نکاح کر سکتے ہیں اور سیدانی کانکاح قریش کے ہر قبیلہ سے ہوسکتا ہے ، خواہ علوی ہو یا عباسی یا جعفری یا صدیقی یا فاروقی یا عثمانی یا اموی۔ رہے غیرِ قریش جیسے انصاری یا مغل یا پٹھان ، ان میں جو عالمِ دین معظّم مسلمین ہو ، اس سے مطلقا نکاح ہوسکتاہے ، ورنہ اگر سیدانی نابالغہ ہے اور اس غیر قریش کے ساتھ اس کا نکاح کرنے والا ولی باپ یا دادا نہیں ، تو نکاح باطل ہوگا ، اگر چہ چچا یا سگا بھائی کرے اور اگر باپ دادا اپنی لڑکی کانکاح ایسے ہی کرچکے ہیں ، تو اب ان کے کئے بھی نہ ہوسکے گا اور اگر بالغہ ہے اور اس کا کوئی ولی نہیں ، تو وہ اپنی خوشی سے اس غیر قریشی سے اپنا نکاح کرسکتی ہے اور اگر اس کا کوئی ولی یعنی باپ ، دادا ، پردادا ، ان کی اولاد ونسل سے کوئی مرد موجود ہے اور اس نے پیش از نکاح اس شخص کو غیر قریش جان کر صراحۃ ا س نکاح کی اجازت دے دی ، جب بھی جائز ہوگا، ورنہ بالغہ کا کیا ہوا بھی باطلِ محض ہوگا۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد:11 ، ص: 716، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا ً وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَارَبَّيَانِي صَغِيرًا: ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔ (الإسراء: 23، 24)

    والدین کی فضیلت کے بارے میں حدیث ہے،عن ابي امامة ان رجلا قال: يا رسول الله , ما حق الوالدين على ولدهما؟ قال:" هما جنتك ونارك".ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! والدین کا حق ان کی اولاد پر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی دونوں تیری جنت اور جہنم ہیں“۔ (سنن ابن ماجه:كتاب الأدب,حدیث: 3662)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29محرم الحرام ھ/25جولائی2025ء