کرائے کے مکان کے لیے ڈپازٹ رکھی گئی رقم پر زکوة کا حکم
    تاریخ: 2 فروری، 2026
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 726

    سوال

    ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ رہائش کے لیے اپنا ذاتی مکان بھی نہیں خرید سکتے ۔اور رہائش اختیار کرنے کے لیے وہ کرائے کا گھر لیتے ہیں۔لیکن ہمارے یہاں کرائے کا گھر بغیر سیکیورٹی ڈپازٹ کے نہیں دیا جاتا ۔اورہمارے علمائے کرام نے سیکیورٹی ڈپازٹ کو قرض قراردے کر قرض خواہ پر اس کی زکوٰۃ کا وجوب کیا ہے۔حالانکہ اس شخص کے پاس اس رقم کے علاوہ کوئی اضافی رقم نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ صاحب ِنصاب ہوتا ہے۔بلکہ بہت مشکلوں کے ساتھ اپنا گزربسر کررہا ہوتا ہے ایسے میں اگراسے اس رقم کی وجہ سے غنی کہا جائے اور اس پر زکوٰۃ لازم کی جائے تو اس کی زندگی اور بھی مشکل ہوجائے گی ۔بلکہ اس وجہ سے بہت سارے کرائے پر رہنے والے شرعی فقیر کی صف سے نکل کر غنی کی صف میں کھڑے ہوجائیں گے اور جو زکوٰۃ کے ذریعے لوگ ان کی مدد کرتے ہیں وہ اس سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔برائے کرم اس پر شرعی رہنمائی فرمائیں کہ ذاتی مکان کی طرح اس کرائے کےڈپازٹ کوحاجت اصلیہ شمار کرسکتے ہیں ؟تاکہ غرباء کے لیے کوئی آسانی کا معاملہ ہوجائے۔ سائل:عبداللہ:کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے قبل بطور تمہید درج ذیل باتوں کا جاننا ضروری ہے:

    1: حاجت اصلیہ کی تعریف کیا ہے۔

    2: ایک چیز ایک شخص کے لیے حاجت اصلیہ ہو اور دوسرے کےلیے نہ ہو۔

    3: کیا سیکیورٹی ڈپازٹ کی حیثیت صرف قرض کی ہے۔

    1: حاجت اصلیہ کی تعریف:

    البنایہ شرح الھدایہ میں ہے: ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا أو تقديرا ۔ترجمہ:حاجت اصلیہ یہ ہے کہ جو انسان سے حقیقتا ًیا تقدیراًہلاکت کو دور کرے۔(البنایہ شرح الھدایہ،جلد:3،صفحہ:303،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)

    اسی طرح غنية ذوي الأحكام في بغية درر الأحكام اور التعریفات الفقہیہ میں ہے: واللفظ لہ هي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقا كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر والبرد، أو تقديرا كالدين فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعا عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك ۔ترجمہ:اور یہ الفاظ تعریفات فقہیہ کے ہیں :حاجت اصلیہ یہ ہے کہ جو انسان سے ہلاکت کو دور کرے،حقیقتاً جیسے نان نفقہ اوررہنےکا مکان اورپیشے کے آلات اورحاجت کے کپڑےجو سردی اور گرمی کو دورکرنے کے لیے ہوں ۔یا تقدیراً جیسے دین کیونکہ مدیون کو دین ادا کرنے کےلیے اپنے ملک میں موجود نصاب کی ضرورت ہوتی ہے خود سے قید وبند کی صعوبت کو دور کرنے کے لیے جوکہ ایک طرح سے ہلاکت ہی ہے۔(التعريفات الفقهية،صفحہ:75، دار الكتب العلمية)(درر الحکام شرح غرر الاحکام،جلد:1،صفحہ:172،داراحیاء الکتب العربیۃ)

    بہار شریعت میں ہے: حاجت اصلیہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکاۃ واجب نہیں، جیسے رہنے کا مکان، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے، خانہ داری کے سامان، سواری کے جانور، خدمت کے لیے لونڈی غلام،آلات حرب، پیشہ وروں کے اوزار، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلّہ۔(بہارشریعت ،جلد:2،حصہ:5،صفحہ880،881،مکتبۃ المدینہ کراتشی)

    2:ایک چیز ایک شخص کے لیے حاجت اصلیہ ہو لیکن دوسرے کے لیے نہ ہو:

    شریعت مطھرہ نے اس بات کا بھی اعتبار کیا ہے کہ اگر ایک چیز کسی شخص کے استعمال میں ہے اور اسے اس کی حاجت ہوتی ہے تو وہ اس کے لیے حاجت اصلیہ میں سے ہوجاتی ہے لیکن یہی چیزاگر دوسرے شخص کے استعمال میں نہیں تو اس کے لیے وہ حاجت اصلیہ بھی نہیں رہتی جیسے فقہ ،تفسیر اور حدیث وغیرہ کی کتب اہل علم (جو پڑھنے ،پڑھانے اور تصحیح کرنے والے ہوں)کے لیے حاجت اصلیہ سے ہیں لیکن اگر یہی کتب ان کے علاوہ کے پاس ہوں تو یہ ان لوگوں کے لیے حاجت اصلیہ نہیں ہونگی ۔

    چناچہ فتاوٰ ی شامی میں ہے: وَإِنَّمَا الْفَرْقُ بَيْنَ الْأَهْلِ وَغَيْرِهِمْ فِي ‌جَوَازِ ‌أَخْذِ ‌الزَّكَاةِ وَالْمَنْعِ عَنْهُ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِهَا إذَا كَانَ مُحْتَاجًا إلَيْهَا لِلتَّدْرِيسِ وَالْحِفْظِ وَالتَّصْحِيحِ فَإِنَّهُ لَا يَخْرُجُ بِهَا عَنْ الْفَقْرِ، فَلَهُ أَخْذُ الزَّكَاةِ إنْ كَانَتْ فِقْهًا أَوْ حَدِيثًا أَوْ تَفْسِيرًا ترجمہ:اہل ِعلم اور ان کے غیر میں فرق صرف زکوٰۃ لینے کے جواز اور عدم جواز میں ہے۔پس جو اہلِ علم میں سے ہے جب اسے تدریس اور حفظ اور تصحیح کے لیے ان کتابوں کی ضرورت ہو تو وہ ان کتابوں (کا مالک ہونے کی وجہ )سےفقیر شرعی کی صف سے نہیں نکلے گا(یعنی وہ اس کے لیے حاجت اصلیہ ہیں) پس اس کے لیے زکوٰۃ لینا جائز ہوگی اگر وہ فقہ یا حدیث یا تفسیر کی کتب ہوں۔(رد المحتار علی الدر المختار،جلد:2،صفحہ:265،دارا لفکر بیروت)

    3: کیا سیکیورٹی ڈپازٹ کی حیثیت صرف قرض کی ہے:

    اصل کے اعتبار سے دیکھا جائے تو سیکیورٹی ڈپازٹ کی حیثیت رہن کی ہونی چاہئے کیونکہ رہن کی تعریف یہ ہے کہ مالدار چیز کو کسی حق مالی کے عوض روکنا تاکہ اس چیز کے ذریعے وہ حق وصول کرنا ممکن ہو۔اور یہاں بھی سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم اسی لیے روکی جاتی ہے تاکہ اگر کرائے دار کرایہ ادا نہ کرسکے یا گھر کو کوئی نقصان پہنچادےتو اس ڈپازٹ کی رقم سے نقصان کی تلافی کی جاسکے ۔

    تنویر الابصار میں ہے: ‌حَبْسُ ‌شَيْءٍ مَالِيٍّ بِحَقٍّ يُمْكِنُ اسْتِيفَاؤُهُ مِنْهُ۔ترجمہ:مالدار چیز کوحق مالی کے عوض روکنا جس چیز کے ذریعے اس حق کی وصولی ممکن ہو۔(رد المحتار علی الدر المختار ،جلد:6،صفحہ:478،477دارا لفکر بیروت)

    لیکن راہن کے لیے مرہونہ چیز سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں پھر اگر راہن کی اجازت کے بغیر ہو تو مطلقا جائز نہیں اور اگر راہن کی اجازت سے ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں یا تو یہ اجازت رہن میں شرط ہوگی یعنی مرہونہ شے مرتہن اس شرط کے ساتھ لے کہ وہ اس کو استعمال کرے گا پس یہ صورت ناجائز ہےکیونکہ اگر وہ اس سے نفع اٹھائے گا تو یہ ربا کی صورت ہوجائے گی وہ اس طرح کہ وہ اپنے حق کو تو پورا پورا وصول کرے گا اور جو اس نے اس مرہونہ چیز سےمشروط فائدہ اٹھایا وہ بغیر عوض کے ہوجائیگااور یہی ربا ہے۔

    اور دوسری صورت یہ ہے کہ رہن میں شرط نہ ہو یعنی عقد ِ رہن ہوجانے کے بعدراہن نے اجازت دی ہے کہ مرتہن نفع اٹھائے یہ صورت جائز ہےمگر ہمارے دور میں نفع اٹھانے کا عرف مشروط کی حد تک پہنچ چکا ہے لہذااب کسی صورت میں بھی رہن رکھی ہوئی چیز سے نفع اٹھانا جائز نہ ہوگا۔

    چناچہ فتاوٰ ی شامی میں ہے: لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بِوَجْهٍ مِنْ الْوُجُوهِ وَإِنْ أَذِنَ لَهُ الرَّاهِنُ، لِأَنَّهُ أَذِنَ لَهُ فِي الرِّبَا لِأَنَّهُ يَسْتَوْفِي دَيْنَهُ كَامِلًا فَتَبْقَى لَهُ الْمَنْفَعَةُ فَضْلًا فَيَكُونُ رِبًا ترجمہ:مرتہن کے لیے حلال نہٰیں کہ مرہونہ شے سے کسی بھی طرح کچھ بھی نفع حاصل کرے اگرچہ راہن کی اجازت سے ہو۔اس لیے کہ اس نے سود کی اجازت دی کیونکہ وہ اپنا حق پورا وصول کرے گا پس جو نفع حاصل کیا وہ زائد ہوجائے گا اور یہی سودہے۔

    پھر علامہ شامی جواہر الفتاوی کی بنسبت فرماتے ہیں : إذَا كَانَ مَشْرُوطًا صَارَ قَرْضًا فِيهِ مَنْفَعَةٌ وَهُوَ رِبًا وَإِلَّا فَلَا بَأْسَ۔ ترجمہ:جب یہ مشروط ہو تو قرض میں منفعت ہوجائے گی اور یہی سود ہے اور اگر مشروط نہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔

    پھر مزید علامہ شامی علامہ طحطاوی کے حوالے سے لکھتے ہیں : قُلْتُ وَالْغَالِبُ مِنْ أَحْوَالِ النَّاسِ أَنَّهُمْ إنَّمَا يُرِيدُونَ عِنْدَ الدَّفْعِ الِانْتِفَاعَ، وَلَوْلَاهُ لَمَا أَعْطَاهُ الدَّرَاهِمَ وَهَذَا بِمَنْزِلَةِ الشَّرْطِ، لِأَنَّ الْمَعْرُوفَ كَالْمَشْرُوطِ ترجمہ:میں کہتا ہوں اور لوگوں کے احوال میں غالب یہی ہے کہ وہ (دراہم)دیتے ہوئے نفع اٹھانے کا ارادہ کرتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ دراھم ہرگز نہ دیں اور یہ شرط کے بمنزلہ ہے اس لیے کہ معروف مشروط کی طرح ہوتا ہے۔

    اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: اقول: ولاشک ان ھذا بعینہ حال اھل الزمان یعرفہ منھم کل من اختبر ومعلوم ان احکام الفقہ انما تبنی علی الکثیر الشائع ولاتذکر حال شذت و ندرت فیہ الجواز کما نص علیہ المحقق حیث اطلق فی فتح القدیر وغیرہ من العلماء الکرام فالحکم فی زماننا ھو اطلاق المنع لایرتاب فیہ من لہ المام بالعلم، والکلام ھٰھنا وان کان طویلا فجملۃ القول ماذکرنا واﷲ تعالٰی اعلم۔ترجمہ: میں کہتاہوں کہ بیشک بعینہٖ یہی حال ہمارے زمانہ والوں کا ہے جس کو ہرباخبرشخص جانتا ہے، اور یہ بات معلوم ہے کہ فقہی احکام کی بنیاد کثرت سے واقع ہونے والے مروّج حال پرہوتی ہے اوراس حال کاتذکرہ نہیں کیاجاتا جس میں جواز شاذونادرہو۔ جیساکہ اس پرمحقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اوردیگر علماء کرام نے نص فرمائی ہے۔ چنانچہ ہمارے زمانہ میں مرہون سے نفع حاصل کرنے کی مطلقاً ممانعت کاحکم ہے، اوراس میں علم سے کچھ بھی تعلق رکھنے والے شخص کو شک نہیں ہوگا۔ یہاں گفتگو اگرچہ طویل ہے مگراجمالی بات وہی ہے جوہم نے ذکرکردی۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد:25،صفحہ:217،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    لیکن جب سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم کرائے دار کی صریح یا عرفی اجازت سے مکان مالک استعمال کر لیتا ہے تو اب یہ رقم کی حیثیت رہن کی نہ رہی بلکہ قرض ہوگئی کیونکہ جب مرتہن رہن کا استعمال راہن کی اجازت سے کرے تو پھر وہ رہن نہیں رہتی بلکہ جس عقد کے لیے تصرف کر رہا ہے وہ عقد منعقد ہوجاتا ہے چناچہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے: إن آجر المرتهن من أجنبي بأمر الراهن يخرج من الرهن، وتكون الأجرة للراهن ترجمہ: اگرمرتہن نے راہن کے حکم پر مرہون شےکسی کو اجارہ داری پر دی تو وہ رہن سے نکل جائے گی اوراُجرت راہن کے لئے ہوگی۔(فتاوی ہندیہ،جلد:5،صفحہ:464،دارالفکر بیروت)

    اسی طرح اعلیٰ حضرت امام اہلسنت الشا ہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: اوراگرباذن راہن واقع ہوں تو یہ تصرفات اگرچہ جائزونافذہوں گے مگروہ رہن زائل ہوجائے گا اورمرتہن مذکورمرتہن نہ رہے گا۔(فتاوٰ ی رضویہ ،جلد:25،صفحہ:220،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اور اصطلاحِ شرع میں قرض کی تعریف ہے: مَا تُعْطِيهِ مِنْ مِثْلِيٍّ لِتَتَقَاضَاهُ ترجمہ:جو تو مثلی چیزوں میں سے کسی کو دےتاکہ تو اس کا تقاضا کرسکے۔(رد المحتار علی الدرالمختار،جلد: 5،صفحہ:161،دارالفکر بیروت)اور یہاں بھی معاہدہ ختم ہونے کے بعدسیکیورٹی ڈپازٹ کی مثل رقم کا تقاضا کیا جاتا ہے۔

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم ابتداءً رہن ہے اور انتہاءً قرض ہے۔

    مذکورہ بالا تمہید کے بعد جو صورتِ حال سوال میں ذکر کی گئی اس کے مطابق سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم خاص ان جیسے لوگوں کے لیے حاجت اصلیہ ہے کیونکہ حاجت اصلیہ کی تعریف یہ ہے کہ جو چیز انسان سے ہلاکت کو دور کرے اور اس رقم کو ڈپازٹ کروا کر رہائش جیسی ضرورت حاصل کرکے یہ لوگ خود سے ہلاکت کو دور کرتے ہیں۔اگرچہ یہ رقم قرض ہونے کی وجہ سے بظاہر حاجت اصلیہ سے زائد نظر آتی ہے لیکن یہ اس شخص کے لیے ہے کہ جس کے پاس رہائش کے لیے کوئی دوسرا مکان ہو یا وہ اس سیکیورٹی ڈپازٹ کے بغیر بھی اپنا گزارا کرسکتا ہو لیکن یہاں صورتِ حال ایسی ہے کہ یہ رقم گویا کہ انہیں رہائش فراہم کر رہی ہے تو پھر یہ ان کے لیے حاجت اصلیہ ہونی چاہئیے جیسے اہل علم کے لیے دینی کتب حاجت اصلیہ ہوتی ہیں اور دیگر لوگوں کےلیے نہیں نیز معاملہ صرف زکوٰۃ دینے تک محدودنہیں بلکہ اس رقم کی وجہ سے زکوٰۃ کی مد میں ملنے والی مدد سے بھی وہ محروم ہوجائیں گے۔اور یہ لوگوں کو مشقت میں ڈالنا ہے ۔

    مزید یہ کہ اس رقم کا استعمال صرف اور صرف رہائش اختیار کرنے کے لیے ہی ہوتا ہے اور رہائش کےعلاوہ کسی اور جگہ اس کااستعمال چاہتے ہوئے بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اگر وہ کریں گے تو پھر رہائش جیسی ضرورت سے محروم ہوجائیں گے۔ایک طریقے سے دیکھا جائے تو ان کے پاس اس رقم کی ملکیت تام ہی نہیں رہی یعنی وه رقم ملك ميں تو ہے لیکن قبضہ میں نہیں ۔ وہ اس طرح کہ مکان کی تبدیلی کے وقت یہ رقم ایک مکان مالک سے نکل کر دوسرے مکان مالک کے پاس چلی جاتی ہے گویا کہ ان کے ہاتھ میں باقی ہی نہیں رہتی جبکہ کوئی شخص غنی اس وقت ہوتا ہے جب وہ حاجت اصلیہ کے علاوہ نصاب کا مالک ملکِ تام کے ساتھ ہوجائے ۔

    چناچہ فتاوی ھندیہ میں ہے: منها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد ترجمہ:زکوۃ واجب ہونے کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ (نصاب کی ملکیت) ملک تام کے ساتھ ہو اور ملک ِتام یہ ہے کہ جس میں ملکیت اور قبضہ دونوں جمع ہوں۔(فتاوی ھندیہ،جلد:1،صفحہ:172،دار الفکر بیروت)

    لہذا ایسی صورتِ حال میں فقہ کے قاعدے المَشَقَّةُ تَجْلِبُ التَّيْسِيرَ (یعنی مشقت آسانی لاتی ہے)پرعمل کرتے ہوئے سیکیورٹی ڈپازٹ کو ایسے لوگوں کے لیے حاجت اصلیہ قرار دیا جائے اور ان کی مشکلات کو حل کیا جائے ۔نیز ایسا شخص جس کے پاس سیکیورٹی ڈپازٹ کے علاوہ بھی کوئی رقم یا زیور یا کوئی بھی سامان (جو حاجت اصلیہ سے زائد ہو) وغیرہ ہو توپھر اس کے لیے یہ ڈپازٹ کی رقم حاجت اصلیہ نہیں ہوگی۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمداحمد امین نوری قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 06ذی القعدہ4144 ھ/26مئی 2023 ء