سوال
محترم میری زوجہ کو ان کے کزن نے 3دن کی عمر میں انکی حقیقی والدہ سے گود لیا تھا،پھر انہوں نے انکی تربیت اور پرورش کر کے پالا اور اس کے بعد انکی میرے ساتھ شادی ہوگئی ،اب میرا سوال یہ ہے میری اہلیہ اپنے گود لینے والے والد سے اصل والد کے طور پر ملنا چاہتی ہے،اس سے ہمارے گھر میں نا چاقی رہتی ہے،کیونکہ میرا کہنا ہے کہ وہ انکے اسل والد نہیں ،در حقیقت وہ نا محرم ہیں چنانچہ اس حوالے سے آپ ہماری مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں رہنمائی فرمائیں:
۱:کیا میری اہلیہ کا اپنے گود لینے والے والد کو اصل والد سمجھنا جائز ہے؟
۲:کیا میری اہلیہ کا میرے منع کرنے کے باوجود اپنے گود لینے والے والد سے گھر جاکر ملنا ،ماہانہ جیب خرچ لینا اورتحفہ وصول کرنا جائز ہے؟ جب کہ یہ بات مجھے معیوب لگتی ہے اس لئےکہ وہ اسکا اصل باپ نہیں کیا اسے اس وجہ سےکفارہ ادا کرنا ہوگا؟
۳:میری ساس کا میری اہلیہ کو یہ کہنا کہ میں کہہ رہی ہوں میرے ساتھ چلو،میں بڑی یا حمزہ (تمہارا شوہر)بڑا،اس کایہ کہنا کیسا اور کیا ان دونوں کو اسکا کفارہ ادا کرنا پڑے گا؟
۴: میری اہلیہ پر اپنے شوہر کا مقام بامقابلہ انکے بھائی،گود لینےوالے والد یا حقیقی والدکے کیا ہے؟
نوٹ:گود لینے والے والد کا لے پالک سے کوئی رضاعی رشتہ نہیں۔
سائل: حمزہ خان
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
۱:لے پالک بچوں کی حیثیت حقیقی اولاد والی نہیں ہے ، صرف کسی بچے کو گود لینے یا منہ بولا بیٹا یا بیٹی بنانے سے وہ شرعاً حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں بن جاتی، اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد کے شرعی احکام نافذ ہوتے ہیں،لہٰذا گود لینے والے شخص کو حقیقی باپ کا درجہ دیناجائز نہیں۔
۲ :اگر گود لینے والا مرد اس بچے کے لیے شرعاً نامحرم ہو اور اس کا اس سے کوئی رضاعی رشتہ بھی نہ ہو، تو بچی جب بلوغت کو پہنچے تو پردے کا مکمل اہتمام کرنا لازم ہوتا ہے، کیونکہ صرف گود لینے سے محرمیت قائم نہیں ہوتی،مگرچونکہ لے پالک کی اس کے منہ بولے والد نے پرورش کی اور مکمل خرچہ اٹھایا پھر شادی بھی کرادی ،اور یہ تمام کا م باعث اجر و ثواب ہیں ،اب اگر وہ اسے اس کا حال احوال دریافت کرنے کی وجہ سے ملتا ہے اور اسے شفقت کی بناء پر خرچہ دیتا ہےاسی طرح تحفہ بھی دے دیتا ہے، اگر کسی فتنہ کا اندیشہ نہیں تو اس کا منہ بولے والد سے ملنا( باپردہ ہوکر)خرچہ لینا اور تحفہ قبول کرنا جائز ہے۔مگر اہلیہ کو چاہیے کہ یہ سب کام اپنے شوہر کی اجازت سے اور اس کو عتماد میں لیکر کرے تاکہ شریعت پر بھی عمل ہوجائے اس طرح کہ شوہر کی نافرمانی سے بچ جائے جو کہ بہت بڑا گناہ ہے اور میاں بیوی کا رشتہ بھی خراب نہ ہو جس سے ان کے گھر ،زندگی اور بچوں پر اثر پڑے۔
۳:شادی کے بعد عورت مرد کے تابع ہوتی ہے ،اس وجہ سے مرد کی فرمانبرداری اس پر لازم ہوتی ہے،صورت مسئولہ کے مطابق ساس کو چاہیے کہ بیٹی کو اگر اپنے ساتھ لیکر جانا چاہتی ہے تو اسکے شوہر کی اجازت سے لیکر جائے تاکہ میاں بیوی کے آپسی تعلقات خراب نہ ہو ، مگرشوہر کو بھی چاہیے کہ اپنی بیوی کو اسکی والدہ کیساتھ ہفتے میں ایک بار بخوشی جانے کی اجازت دےدے۔
۴: اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے الگ الگ حقوق بیان فرمائیں ہیں ،شوہر پر بیوی کےاپنے حقوق ہیں اور والدین (حقیقی)کے اپنے حقوق ہیں،ہر ایک کے حقوق اپنی جگہ پر ادا کرنا لازمی ہے ،مگر شادی کے بعد بیوی پر شوہر کی اطاعت کرنا کا لازمی ہوتی ہے اس لئے کہ نکاح اور شادی کے بعد بیوی شوہر کے تابع ہوتی ہے اس پر شوہر کا حکم دیگر تمام احکام پر فوقیت رکھتا ہے(جب کہ وہ حکم خلاف شرع نہ ہو)۔مگر اس کے حقیقی والدین کا ادب و احترام بھی ضروری ہے ، اس لیئے بیوی کو چاہیے کہ اپنے والدین کو بھی ناراض نہ کرے اور شوہر کی بھی بات مانیں ، تاکہ دونوں سے تعلقات قائم رہیں ۔جب کہ گود لینے والا والد جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا لے پالک کا غیر محرم ہے۔
دلائل وجزئیات:
مَا جَعَلَ اللّٰهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهٖۚ-وَ مَا جَعَلَ اَزْوَاجَكُمُ الّٰٓـِٔیْ تُظٰهِرُوْنَ مِنْهُنَّ اُمَّهٰتِكُمْۚ-وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ( 4)۔اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْۤا اٰبَآءَهُمْ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْكُمْؕ-وَ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیْمَاۤ اَخْطَاْتُمْ بِهٖۙ-وَ لٰـكِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُكُمْؕ-وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا ترجمہ:الله نے کسی آدمی کے اندر دو دل نہ بنائے اور اس نے تمہاری ان بیویوں کو تمہاری حقیقی مائیں نہیں بنادیا جنہیں تم ماں جیسی کہہ دو اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہاراحقیقی بیٹا بنایا، یہ تمہارے اپنے منہ کا کہنا ہے اور الله حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔انہیں ان کے حقیقی باپ ہی کا کہہ کر پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ کا علم نہ ہوتو وہ دین میں تمہارے بھائی اور تمہارے دوست ہیں اور تم پر اس میں کچھ گناہ نہیں جو لاعلمی میں غلطی ہوئی لیکن اس میں گناہ ہے جس کا تمہارے دلوں نے ارادہ کیا اور الله بخشنے والا مہربان ہے۔ (احزاب:4،5)
قرآن مجید میں اس حوالے آیت مقدسہ ہے ’’اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوْنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ وَّ بِمَاۤ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِهِمْؕ :ترجمہ :مرد افسر ہیں عورتوں پر اس لیے کہ اللہ نے ان میں ایک کو دوسرے پر فضیلت دی اور اس لیے کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے، (النساء:34)
فتاوی شامی میں ہے، لا تخرج إلا لحق لها أو عليها أو لزيارة أبويها كل جمعة مرة أو المحارم كل سنة، ولكونها قابلةً أو غاسلةً لا فيما عدا ذلك۔ ترجمہ: وہ (عورت) صرف اس صورت میں باہر نکل سکتی ہے جب اس کا کوئی حق ہو یا اس پر کوئی حق ہو، یا ہر جمعہ کو ایک بار اپنے والدین(حقیقی) کی ملاقات کے لیے، یا ہر سال ایک بار محرم رشتہ داروں سے ملنے کے لیے؛ اور اگر وہ دائی (قابِلہ) یا غسل دینے والی ہو تو ان کاموں کے لیے، ورنہ ان کے علاوہ کسی اور مقصد کے لیے باہر نہ نکلے۔(ردالمحتار،جلد:3،ص:، 145، دار الفکر بیروت )
حاشیہ ابن عابدین میں ہے: ولیس لها أن تخرج بلا إذنه أصلًا ۔ترجمہ:عورت کیلیے اسکے شوہر کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلنا جائزنہیں۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار، ج:3، ص:146، ایچ ایم سعید)
بیوی پر شوہر کے حقوق بیان کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ’’امور متعلقہ زن و شوہر میں مطلق اس کی اطاعت والدین پر بھی مقدم ہے اس کے ناموس کی بشدت حفاظت اس کے مال کی حفاظت ہر بات میں اس کی خیرخواہی ہر وقت امور جائزہ میں اس کی رضا کا طالب رہنا اسے اپنا مولی جاننا نام لے کر پکارنا کسی سے اس کی بے جا شکایت نہ کرنا خدا توفیق دے تو بجا سے بھی احتراز بچنا اس کی اجازت کے آٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور محارم کے یہاں نا جانا وہ ناراض ہو تو اس کی خوشامد کرکے منانا اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں یہاں تک کہ تم راضی ہو یعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہو جاؤ۔(فتاوی رضویہ، جلد 24،صفحہ 371: رضا فائونڈیشن لاہور)
الترمذي. ترجمہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں کسی کو یہ حکم کرسکتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو میں یقیناً عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ (مشکاۃ المصابیح، باب عشرۃ النساء ،2:جلد ص:281 ،قدیمی )
واللہ اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمّد عیسیٰ
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23ذالحجہ1446 ھ/20جون2025