لے پالک کا ملکیت سے حصہ
    تاریخ: 3 فروری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 732

    سوال

    میری زوجہ کو ان کے کزن نے 3سال کی عمر میں ان کی حقیقی والدہ سے گود لیا تھا 20 سال تک انہوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ میری اہلیہ کی پرورش، تعلیم و تربیت کی، 24 نومبر کو رضا الہی سے میر ی اہلیہ کو گود لینے والی والدہ کا انتقال ہو گیا انتقال سے قبل یہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ایک قریبی دوست سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ’’فلاں مکان اور کچھ کیش ان کی لے پالک بیٹی کو دے دیا جائے جس کا ادراک میرے انتقال کے بعد ہوگا‘‘ اس بات کا نہ تو کوئی تحریری ثبوت موجود ہے اور نہ ہی ان صاحب کے علاوہ کوئی اور گواہ موجود ہے نیز انتقال شدہ خاتون کے اپنے بہن بھائی بھی زندہ ہیں مندر جہ ذیل میں حکم شرح کے مطابق بیان فرمائیں:

    (1)کیا میری اہلیہ کا وہ مکان اور کیش قبول کرنا جائز ہے؟

    (2) اس مکان اور کیش کی تقسیم انتقال شدہ خاتون جو کہ میری اہلیہ کو گود لے کر پالنے والی خاتون تھیں انکے بہن بھائی اور سگے رشتےداروں کے درمیان ہونی چاہئے ؟

    نوٹ:سائل کے مطابق الفاظ وصیت یہی ہیں یعنی ’’فلاں مکان اور کچھ کیش ان کی لے پالک بیٹی کو دے دیا جائے جس کا ادراک میرے انتقال کے بعد ہوگا‘‘

    سائل :حمزہ خان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مرحومہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ فلاں مکان اور کچھ کیش ان کی لے پالک بیٹی کو دے دی جائے ،سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ الفاظ :اس خواہش کا اظہار کیا یہ خود اسکی شخص(جس کو وصیت کی گئی ہے) کے الفاظ ہیں کہ اس نے وصیت کو خواہش سے تعبیر کیا ہے،جب کہ خودمرحومہ(وصیت کرنے والی) کے یہ الفاظ ہیں: فلاں مکان اور کچھ کیش ان کی لے پالک بیٹی کو دے دی جائے، تو ان کے مطابق کل مال کے تہائی میں وصیت نافذ ہوجائے گی اور باقی مال ورثاء میں شریعت کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    تفصیل مسئلہ:

    میت کے ترکہ میں سے سب سے پہلا حق تجہیز وتکفین کا ہے اسکے بعد دوسرا حق یہ ہے کہ میت پر اگر قرض ہے تو اسکا قرضہ ادا کیا جائے گا ، میت کے ترکہ میں تیسرا حق وصیت کا ہے اگر میت نے اگر وصیت کی ہے تو کل مال کی تہائی میں نافذ ہوتی ہے اور اسکے بعد چوتھا حق میت کے ورثاء کے درمیاں باقی مال کی تقسیم کا ہے،لھٰذا صورت مذکورہ کے مطابق مرحومہ نے جو مکان لے پالک کو دینے کی جو وصیت کی تھی ،اگر وہ مرحومہ کے کل ترکہ کے ایک تہائی یا اس سے کم ہو،تو وہ مکان مرحومہ کی وصیت کے مطابق اس کی لے پالک بیٹی کو دے دی جائے گی بصورت دیگر اگر مذکورہ مکان کی مالیت مرحومہ کے ترکہ کے ایک تہائی سے زائد ہو تو اگر تمام ورثاء بالغ ہوں اور وہ سب راضی ہوں انکی اجازت پر موقوف ہوگی اگر وہ اجازت دیں تو کل مال میں نافذ ہوگی ورنہ مرحومہ کی وصیت ایک تہائی میں نافذ کی جائے گی، اور پھرزائد حصہ مرحومہ کے ترکہ میں شامل ہو گا،جو حصص شرعیہ کے مطابق مرحومہ کے تمام ورثاءمیں تقسیم کیا جائے گا ۔

    دلائل و جزئیات:

    السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ: ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سے اسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(السراجی فی المیراث،ص :11،مکتبہ المدینہ)

    فتاوٰی ہندیہ میں ہے:ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته،ترجمہ: اسی طرح غیر وارث (یعنی اجنبی) کے لیے وصیت درست ہے بغیر ورثاء کی اجازت کے، جیسا کہ کتاب 'التبيين' میں ہے۔ اور (وصیت) تہائی مال سے زیادہ کی جائز نہیں جب تک کہ ورثاء اسکی اجازت نہ دیں، اور وہ (ورثاء) عاقل بالغ ہوں، ان کی زندگی میں (یعنی وصیت کرنے والے کی زندگی میں) دی گئی اجازت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا(كتاب الوصايا، الباب الأول في تفسيرها وشرط جوازها وحكمها ومن تجوز له الوصية ومن لا تجوز وما يكون رجوعا عنها، جلد:6،ص:90 ، مکتبہ رشيدية)

    فتاوی شامی میں ہے:(وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه»إلا أن تجيز ورثته بعد موته( ترجمہ: اور اجنبی کے لیے یعنی غیر وارث کے لیے وصیت تہائی مال میں جائز ہے، جب کوئی مانع نہ ہو اور اگر وارث اس کو (یا اس سے زیادہ کو) جائز نہ سمجھے تو تہائی سے زیادہ (وصیت) جائز نہیں۔ البتہ اگر وارث مرنے کے بعد اجازت دے دیں تو (تہائی سے زائد وصیت بھی) جائز ہو جاتی ہے (كتاب الوصايا، جلد:6، ص:650،مکتبہ سعید)

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمّد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:4محرم 1446/30جون 2025