سوال
مشہور زمانہ کمپنی Amazon” “ایک پروڈکٹ" Mystery box"نامی فروخت کرتی ہے جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
A mystery box is a package you order but doesn’t know what to expect until it’s arrived. You can guess from the category, but you can’t be certain.
Generally, mystery boxes contain liquidated and returned packages. They’re a way to sell old products in order to make room for new packages.
Lucky buyers get products worth more than the amount they paid. In most cases, the items can be underwhelming.
A mystery box cannot be returned. Additionally, you do not get traditional customer service.
The service is completely legit. You don’t have to worry about any illegality.
سائل:علامہ سلمان صاحب :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت مطہرہ نے عقدِ بیع کے درست ہونے کے لیے جو شرائط مقرر کیے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مبیع (Subject matter) مجھول نہ ہو، معلوم اور متعین ہو۔اگر مبیع مجھول ہوگی تو یہ بیع فاسد ہوگی۔
مجلۃ الاحکام میں ہے: يَلْزَمُ أَنْ يَكُونَ الْمَبِيعُ مَعْلُومًا عِنْدَ الْمُشْتَرِي ترجمہ: مبیع کے لیے یہ لازم ہے کہ مشتری اس کی معرفت رکھتا ہو۔(مجلۃ الاحکام،جلد:1،صفحہ:41،مادہ:200،نورمحمد آرام باغ ،کراتشی)
اسی میں ہے:بَيْعُ الْمَجْهُولِ فَاسِدٌ ترجمہ: مجھول چیز کی بیع فاسد ہے۔(مجلۃ الاحکام،جلد:1،صفحہ:41،مادہ:203،نورمحمد آرام باغ ،کراتشی)
اور صورتِ مستفسرہ میں بھی مسٹری باکس میں موجود اشیاء کی صرف “Category”معلوم ہوتی ہے ،اس کے اندر موجود اشیاء کی مالیت وغیرہ کے بارے میں خریدار کو معلوم نہیں ہوتا ۔
لیکن یہاں بیع فاسد ہونے کی جو وجہ فقہائے کرام نے تحریر کی ہے وہ یہ ہے کہ جہالت ایسی ہو جو جھگڑے کی طرف لے جائے۔جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: فَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مَجْهُولًا جَهَالَةً مُفْضِيَةً إلَى الْمُنَازَعَةِ فَسَدَ الْبَيْعُ،وَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا جَهَالَةً لَا تُفْضِي إلَى الْمُنَازَعَةِ لَا يَفْسُدْ؛ لِأَنَّ الْجَهَالَةَ إذَا كَانَتْ مُفْضِيَةً إلَى الْمُنَازَعَةِ كَانَتْ مَانِعَةً مِنْ التَّسْلِيمِ وَالتَّسَلُّمِ فَلَا يَحْصُلُ مَقْصُودُ الْبَيْعِ، وَإِذَا لَمْ تَكُنْ مُفْضِيَةً إلَى الْمُنَازَعَةِ لَا تَمْنَعُ مِنْ ذَلِكَ؛ فَيَحْصُلُ الْمَقْصُودُ ترجمہ:پس اگر مبیع اور ثمن میں سےکسی ایک میں ایسی جہالت ہوجو جھگڑے کی طرف لے جائے پس وہ بیع فاسد ہوگی۔ اور اگر جہالت ایسی نہ ہو جو جھگڑے کی طرف لے جائے تو بیع فاسد نہ ہوگی ۔اس لیے کہ جہالت جب جھگڑے کی طرف لے جائے تو یہ تسلیم وتسلم کے مانع ہوگی تو مقصود حاصل نہ ہوگا اور جب یہ جھگڑے کی طرف نہیں لے جائے گی تو پھر تسلیم و تسلم مانع نہ ہوگا، پس مقصود حاصل ہوجائےگا۔(بدائع الصنائع،جلد:5،صفحہ:156،دارالکتب العلمیۃ،بیروت)
اور صورتِ مسئولہ میں کمپنی جب Mystery box فروخت کرتی ہے تو یہ بات کسٹمر اور کمپنی کے مابین معروف ہوتی ہے کہ اس باکس میں چیزوں کی categoryتو پتہ ہے لیکن مالیت مجہول ہے اور ایسی جہالت کے ساتھ بیع پر لوگوں کا عرف ہے۔نیز کوئی کسٹمر اس پر کمپنی سے جھگڑا بھی نہیں کرتا ۔لہذا mystery box کی جہالت ایسی نہیں کہ جو جھگڑے کی طرف لے جائے اور جس کے سبب تسلیم و تسلم دشوار ہو۔اور جب معاملہ ایسا ہے تو یہ بیع فاسد نہ ہوگی بلکہ درست ہوگی ۔
جیسا کہ اجارے کے ایک مسئلے کی بابت تنویر الابصارمع در مختار میں ہے:استاجر ارضا ولم يذكر انه يزرعها او ای شيء يزرعها) فسدت الا ان يعمم ترجمہ:زمین کرائے پر لی اور یہ بیان نہیں کیا کہ اس میں کھیتی اگائے گا یا کون سی کھیتی اگائے گا،تواجارہ فاسد ہو جائے،مگر جب اس میں عموم بیان کر دے۔(تنویر الابصار مع در مختار،کتاب الاجارہ،ج9،ص102،مطبوعہ پشاور)
اس کے تحت جد االممتار میں ہے:اقول:وجه الفساد كما اشار اليه الشارح فيما سلف وبينه المحشي:هو الجهالة المفضية الى المنازعة في عقد المعاوضة،فان من الزرع ما ينفع الارض ومنه ما يضرها)،فحيث كان العرف عدم النزاع والاتفاق على ان للمستاجر ان يزرع ما شاء كما في بلادنا، فانهم ربما لا يذكرون ما يزرع ولا يعممون وانما يرسلون ارسالا، ثم لا يقع التنازع في ذلك قط ويعتقدون جميعا ان الزراع بالخيار، فالذی يظهر للعبد الضعيف: انه لا حاجة الى بيان ولا تعميم حيث الحال هكذا ويصح العقد ابتداء، لان المعروف كالمشروط، فالاطلاق كالتعميمترجمہ:میں کہتا ہوں کہ فساد کی وجہ جس کی طرف پہلے شارح نے اشارہ کیا ہے اور اسے محشی نے بھی بیان کیا ہے،وہ ایسی جہالت ہے، جو عقدِ معاوضہ میں جھگڑے کی طرف لے جائے ،کیونکہ بعض کھیتیاں زمین کےلئے مفید ہوتی ہیں اور بعض نقصان دہ۔پس جہاں جھگڑا نہ ہونے کا عرف ہو اور عقدِ اجارہ کرنے والے اس بات پہ متفق ہوں کہ زمین کرائے پہ لینے والاجو کھیتی چاہے ،اگائے جیسا کہ ہمارے بلاد میں ہے کہ بسا اوقات وہ کھیتی کی تفصیل بیان نہیں کرتے ، نہ ہی تعمیم بیان کرتے ہیں بلکہ ویسے ہی زمین دے دیتے ہیں، اس کے باوجود کبھی جھگڑا واقع نہیں ہوتا اور وہ دونوں متفق ہوتے ہیں کہ مستاجرکو اختیار ہو گا(جو کھیتی چاہے، اگائے)تو اس بندہ ضعیف پر یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ اجارے میں کھیتی کی تفصیل اور اس طرح عموم بیان کرنے کی حاجت نہیں اور ابتداءً عقد درست ہو گا،کیونکہ معروف چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔(جدالممتار،ج6،ص286،مطبوعہ،مکتبۃالمدینہ) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمداحمد امین نوری قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 27جمادی الاولی4144 ھ/22دسمبر2022 ء