سوال
ساس کا بہو پر کیا حق ہے، کیابہو پر ساس کی خدمت کرنا لازم ہے،خصوصا جب کہ وہ خود بہو کا مشکل وقت میں خیال نہیں رکھتی اور کیا شوہر اپنی بیوی کو ماں کی خدمت کرنے پر مجبور کرسکتا ہے ؟
\سائل: حناء ناز
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی اعتبار سے بہو پر اپنے شوہر کے والدین یعنی ساس اور سسر کی خدمت لازم نہیں ہے، اور نہ ہی شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی بیوی کو اپنے والدین کی خدمت پر مجبور کرے۔ اگر شوہر ایسا کرتا ہے تو یہ اس کے لیے شرعاً ناپسندیدہ اور ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ شریعت کی رو سے والدین کی خدمت خود بیٹے کی ذمہ داری ہے نہ کہ بہو کی۔
مگر اخلاق کا تقاضا یہ ہے کہ بہو اپنے ساس اور سسر کی خدمت کرے اور ساس اور سسر اس کا اپنی بیٹی کی طرح خیال رکھیں ،جب بہو ساس اور سسر کو اپنے والدین کی طرح اور ساس ، سسر اپنی بہو کو اپنی بیٹی سمجھیں گے اس وقت گھر کے حالات نہیں بگڑیں گے ،گھر کا ماحول کے اس وقت خراب ہوتا ہے جب ساس ،سسر بہو کو اپنے درمیان اجنبی اور اپنے سے الگ کسی اور کی بیٹی سمجھتے ہیں اور اسی طرح کاذہن لیکر بہو بھی آتی ہے جب کہ میاں بیوی کا رشتہ ہو یا سسرالی رشتہ ہو وہ ایثار ، ہم دردی اور اعتدال سے چلتا ہے،کسی ایک فریق کی جانب سے بھی کوتاہی برتی گئی تورشتہ آگے نہیں چل پائے گا ۔
دلائل و جزئیات:
فتاوی ھندیہ میں ہے: ویجبر الولد الموسر علٰی نفقۃ الأبوین المعسرین مسلمین کانا أو ذمیین، قدرا علی الکسب أو لم یقدرا۔ (إلی قولہ) وإذا اختلطت الذکور والإناث فنفقۃ الأبوین علیھما علی السویۃ فی ظاھر الروایۃ، وبہ أخذ الفقیہ أبو اللیث وبہ یفتٰی، کذا فی الوجیز الکردری۔ ترجمہ:صاحبِ استطاعت (مالدار) بیٹے کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ اپنے نادار والدین (چاہے وہ مسلمان ہوں یا ذمی یعنی غیر مسلم رعایا) کا خرچ برداشت کرے، چاہے والدین کمانے کی قدرت رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں۔(آگے فرمایا:) اور جب بیٹے اور بیٹیاں (یعنی اولاد) مخلوط ہوں (یعنی سب موجود ہوں)، تو والدین کا خرچ سب پر برابر برابر واجب ہے، یہی ظاہر الروایہ ے، اور فقیہ ابو اللیث نے بھی اسی پر فتویٰ دیا ہے، اور اسی پر فتویٰ دیا جاتا ہے، جیسا کہ الوجیز الکردری میں ہے۔"(کتاب الطلاق ،جلد 1، صفحہ544 ،مکتبہ ارالفکر بیروت )
اس سے واضح ہوگیا کہ شوہر کے والدین کی ذمہ داری خود اس کے اوپر لازم ہے ناکہ بیوی پر۔
بیوی کے شوہر کے حقوق بیان کرتے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :امور متعلقہ زن شوی میں مطلقا اسکی اطاعت ان امور مین اطاعت والدین پر بھی مقدم ہےاس کے ناموس کی بشدت حفاظت اس کے مان کی حفاظت ،ہر بات میں اس کی خیر خواہی ہر وقت امور جائز میں اسکی رضا کا طالب رہنا اسے اپنامولیٰ جاننا، نام لے نہ پکارنا ،کسی سے اسکی بیجا شکایت نہ کرنا اور خدا توفیق دے تو بجا بھی احترام کرنا ،بے اسکی اجازت کے اٹھویں دن سے پہلے والدین یا سال بھر سے پہلے اور محارم کے یہان جاناں وہ ناراض ہوتو اسکی انتھائی خوشامد کرکے اسے منانااپنے ہاتھ اسکے ہاتھ میں رکھ کر کہنا کہ یہ میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں پہے یہان تک کہ تم راضی ہویعنی میں تمہاری مملوکہ ہوں جو چاہو کرو مگر راضی ہوجاو۔ (فتاوی رضویہ ،جلد:24،ص:271)
اعلیٰحضرت علیہ الرحمۃ کے کلام سے ی بھی یہ معلوم کے بیوی پر صرف اس کے شوہر کےذاتی حقوق مکمل کرنا لازم ہیں ۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبدالخالق بن محمّد عیسیٰ
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:16 ذوالحجہ 1446 ھ/16 جون2025