سوال
میری دوست کے شوہر کا 10سال پہلے انتقال ہوگیا ہے اور تب سے اس کاایک شادی شدہ کزن اس سے کہہ رہا تھا کہ تم مجھ سے نکاح کرلو لیکن یہ انکار کر رہی تھی کیونکہ اسے اپنی اولاد کے سبب کسی سے نکاح نہیں کرنا تھا کہہ تھی کہ انکی زندگی خراب ہوجائے گی لیکن وہ مسلسل اصرار کرتا رہا کہ میں تمھیں خوش رکھوں گا اور تمھارا خرچہ اٹھاؤں گا وغیرہ وغیرہ اور آپ جانتے ہیں کہ اس حالت میں لڑکی کو ایک مخلص سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لہذا اس کے اتنے اصرار پر اس نے نکاح کے لئے حامی بھر لی اور نکاح اس طرح کیا کہ یہ دونوں لڑکا لڑکی تھے اور ایک شخص تھا جس کو یہ قاری کہہ رہے تھے اس نے پانچ ہزار مہر کے عوض نکاح پڑھوادیا ۔میں نے اپنی دوست سے پوچھا کہ کیا کوئی گواہ وغیرہ تھے تو اس نے کہا کہ نہ لڑکے کی طرف سےکوئی گواہ تھا اور نہ لڑکی کی طرف سے گواہ تھا بلکہ وہاں ہم کل تین لوگ تھےمیں ،میرا کزن اور وہ شخص جس نے نکاح پڑھایا تو میں نے اس سے کہا کہ ایسے نکاح نہیں ہوتا کیا میری یہ بات درست ہے کیا انکا نکاح نہیں ہوا؟ سائل:بنت حوا: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ذکر کیا گیا تو ایسی صورت میں نکاح فاسد ہو اااور درست نہ ہوا اسلیے کہ نکاح کی درستگی کے لیے دو گواہوں کا ہونا شرط ہے جو کہ یہاں مفقود ہے لہذا نکاح منعقد نہ ہوااور ان دونوں مرد اور عورت پر یہ لازم ہیں کہ وہ فوراً علیحدہ ہوجائیں ۔
البنایۃ شرح ہدایہ میں ہے: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين، أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف ترجمہ:مسلمانوں کا نکاح منعقدنہیں ہوتا مگر دو گواہوں کی موجودگی میں جو آزاد ہوں ،عاقل ہوں ،بالغ ہوں ،دونوں مرد ہوں یا ایک مرد اور دو عورتیں ہوں عادل ہوں یا غیر عادل ہوں یا تہمت کے جرم میں ان پر حدنافذ کی گئی ہو۔(البنایۃ شرح ہدایہ ،جلد:5،ص:12،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمۃاسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: بے حضور د وگواہ نکاح فاسد ہے، حدیث میں فرمایاـ: الزوانی اللاتی ان ینکحن انفسھن بغیر بینۃ ترجمہ: زنا کار ہیں جو اپنی جانوں کو نکاح میں دیتی ہیں بغیر گواہوں کے۔(فتاوی رضویہ ،جلد :11،ص:219)
بہار شریعت میں ہے:نکاحِ فاسد کا حکم یہ ہے کہ اُن میں ہر ایک پر فسخ کر دینا واجب ہے۔ اس کی بھی ضرورت نہیں کہ دوسرے کے سامنے فسخ کرے اور اگر خود فسخ نہ کریں تو قاضی پرواجب ہے کہ تفریق کر دے (بہارشریعت،جلد:2،ص:72،مکتبۃ المدینۃ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد احمد امین قادری نوری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10ربیع النور 1441 ھ/28اکتوبر 2020 ء