سوال
ایک شخص نے اپنے پاس کچھ رقم جمع کی کہ اللہ کے نام پر خرچ کرونگا ،پھر وہ خود بیمار ہوگیا تو کیا اپنے علاج پر یہ رقم جمع کرسکتا ہے یا نہیں؟
سائل: محمد ادریس : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں اس کے لئے جائز ہے کہ یہ رقم اپنے علاج پر صرف کرے کیونکہ اس طرح جمع کی جانے والی رقم نفلی صدقہ ہے ، اس رقم کو اللہ کے نام پر خرچ کرنا اس پر لازم و واجب نہیں ہے۔حدیث پاک میں ضرورت کے وقت مال جمع کرنے کی اجازت دی گئی ہے:عَنْ أَبِيْ أُمَامَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِوَسَلَّمَ :''یا اِبْنَ آدَمَ إِنَّکَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَیر لَّکَ، وَإِنْ تُمْسِکْہُ شَرٌّ لَّکَ، وَلَا تُلَامُ عَلٰی کَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْلُ، وَالْید الْعُلْیا خَیر مِّنَ الْید السُّفْلٰی''۔ترجمہ:حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انسان! اگر تم بچا مال خرچ کردو توتمہارے لئے اچھا ہے اور اگر اُسے روک رکھو تو تمہارے لئے بُرا ہے اور بقدرِ ضرورت اپنے پاس رکھ لو تو تم پر ملامت نہیں اور دینے میں اپنے عیال سے ابتدا کرو اور اُوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔
حکیم الامت مفتی احمد یا خان نعیمی اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں : اس میں دو حکم بیان ہوگئے ایک یہ کہ جو مال اس وقت تو زائد ہے کل ضرورت پیش آئے گی اسے جمع رکھ لو آج نفلی صدقہ دے کر کل خود بھیک نہ مانگو، دوسرے یہ کہ خیرات پہلے اپنے عزیز غریبوں کو دو پھر اجنبیوں کو کیونکہ عزیزوں کو دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔ (مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،ج3ص70،71)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحيح : ابو الحسنين مفتي وسيم اختر المدني
تاريخ اجراء:27 محرم الحرام 1441 ھ/27 ستمبر 2019 ء