سوال
بلال عبد الرؤف اور ارشد ریاض Sanitaryکے کام میں شرکت کرنا چاہ رہے ہیں۔دکان ارشد ریاض کی ہے اور Renovationکی ذمہ داری بھی اسی کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر دکان سے کوئی چیز غائب ہوگئی تو اس کی ذمہ داری بھی انہیکی ہے۔اور دکان پر بیٹھنے کی ٹائمنگ اور سامان کی خریداری دونوں کی رضامندی سے طے ہوگا ۔بلال عبد الرؤف %95 Investmentکرینگے اور 5%ارشد ریاض کی ہوگی اور Investmentکی ابتداء 5سے 10لاکھ تک ہوگی اور ضرورت پڑنے پرباہمی مشورے سے 20لاکھ تک جاسکتے ہیں اور دونوں کا پروفٹ ریشو اس طرح ہے کہ 60%ارشد ریاض کا اور 40%بلال عبدالرؤف کا ہوگا ۔اورہر مہینے کے آخر میں پروفٹ کو اصل مال سے الگ کرلیا جائے گا۔بلال عبدالرؤف جب بھی پارٹنرشپ ختم کرنا چاہیں گے تو ارشد ریاض 4سے 6مہینے میں ان کی Investmentواپس کرینگے ۔برائے مہربانی اس ایگریمنٹ کا حکم شرع بتا کر عبداللہ ماجور ہوں ۔
سائل:بلال عبدالرؤف،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
سوال میں مذکورشرکت(Partnership)کا یہ ایگریمنٹ شرعی اصطلاح(Terminology)میں شرکۃالعنان بالمال کہلاتا ہے۔ اور شرکۃالعنان بالمال کی صحیح ہونے کی شرائط کے پائے جانے کی وجہ سے آپ کایہ ایگریمنٹ شرعا درست ہے۔لیکن اس میں ایک بات مزید شامل کرلیں کہ خدانخواستہ اگر نقصان ہوجائے تو دونوں شریک اس میں Investmentکے ریشو کے اعتبار سے شریک ہونگے اورآخری شق میں یہ ترمیم کرلیں کہ جب شرکت ختم کرینگے تو دکان میں موجود تمام مال کوInvestmentکے ریشو سےآپس میں تقسیم کرلیا جائے گا۔ ہاں اگر ارشد ریاض آپ کی رضامندی سے آپ کے حصے کی رقم چند مہینے میں ادا کر نا چاہیں تو وہ رقم ان کے پاس بطور قرض ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے :الشَّرِكَةُ بِالْأَمْوَالِ: فَهُوَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي رَأْسِ مَالٍ، فَيَقُولَانِ اشْتَرَكْنَا فِيهِ، عَلَى أَنْ نَشْتَرِيَ وَنَبِيعَ مَعًافَهُوَ بَيْنَنَا عَلَى شَرْطِ كَذَا،مِنْهَا: أَهْلِيَّةُ الْوَكَالَةِ؛ لِأَنَّ الْوَكَالَةَ لَازِمَةٌ فِي ۔وَمِنْهَا : أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ مَعْلُومَ الْقَدْرِ، فَإِنْ كَانَ مَجْهُولًا تَفْسُدُ الشَّرِكَةُ ۔ وَمِنْهَا : أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ جُزْءًا شَائِعًا فِي الْجُمْلَةِ، لَا مُعَيَّنًا، فَإِنْ عَيَّنَا عَشَرَةً، أَوْ مِائَةً، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ كَانَتْ الشَّرِكَةُ فَاسِدَةً ۔ومِنْهَا: أَنْ يَكُونَ رَأْسُ الْمَالِ مِنْ الْأَثْمَانِ الْمُطْلَقَةِ ۔وَمِنْهَا : أَنْ يَكُونَ رَأْسُ مَالِ الشَّرِكَةِ عَيْنًا حَاضِرًا لَا دَيْنًافَإِنْ كَانَ لَا تَجُوزُ عِنَانًا،۔۔ وَإِنَّمَا يُشْتَرَطُ الْحُضُورُ عِنْدَ الشِّرَاءِ لَا عِنْدَ الْعَقْدِ۔ترجمہ:شرکت بالاموال یہ ہے کہ دو آدمی متعین رقم ملاکر یہ کہیں کہ ہم اس سے خرید وفروخت کرینگے تو جو نفع ہو وہ ہمارے درمیان اتنا،اتناہوگا ۔اور اس کی شرائط یہ ہیں :
1:دونوں شریک شرعی طور پر وکالت کے اہل ہوں اس لیے کہ وکالت کااہل ہوناشرکت کی تمام اقسام کے لیے ضروری ہے ۔
2:دونوں کے لیے نفع کی مقدار معلوم ہو اور اگر نفع کی مقدار معلوم نہ ہو تو شرکت فاسد ہوجائے گی ۔
3:منافع کی تقسیم فیصد کے اعتبار سے ہو ،معین عدد نہ ہو جیسے دس،سو وغیرہ کیونکہ اس سے شرکت فاسد ہوجائے گی ۔
4:شرکت میں انویسٹمنٹ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ اثمان مطلقہ (یعنی سونا ،چاندی اور مختلف کرنسیز وغیرہ) ہو۔
5:جس رقم سے انویسٹمنٹ کی جارہی ہے وہ نقدہو ادھار نہ ہو کیونکہ ادھار ہو تو جائز نہ ہوگی۔ البتہ ایگریمنٹ کے وقت موجودہونا ضروری نہیں البتہ خرید تے وقت موجود ہونا ضروری ہے ۔( بدائع الصنائع،باب انواع الشرکۃ ،ج:6،ص:56،طبع:دارالکتب العلمیۃ)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:23محرم الحرام 1440 ھ/05اکتوبر 2018 ء