رمضان کے ایام کی تنخواہ کا حکم

    ramzan ke ayyam ki tankhwah ka hukm

    تاریخ: 17 جولائی، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1636

    سوال

    میں ایک مسجد کا ٹرسٹی ہوں مسجد کے اخراجات مسجد سے متصل دوکانوں کے کرایہ سے چلتے ہیں، مسجد سے متصل دارالعلوم ہے جس میں درسِ نظامی کی تعلیم دی جاتی ہے جس کا دورانیہ دس ماہ ہوتا ہے جبکہ اساتذہ کو 12 ماہ کی تنخواہ دی جاتی ہے ان دو ماہ اساتذہ سے کوئی کام نہیں لیا جاتا ۔ کیا فرماتے ہیں علماء اس بارے میں کہ اگر یہ دو ماہ کی تنخواہ اور ساتھ بونس بھی دیا جاتا ہے اسکی کیا شرعی حیثیت ہوگی۔

    سائل:عبداللہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بلاشبہ تمام مدارس کا یہی عرف ہے کہ اساتذہ کو ان ایام کی تنخواہ دی جاتی ہے اگر چہ معاہدے میں اسکی شرط نہ ہو کہ المعروف کالمشروط ہوتا ہے ۔ سو جب یہ عرفا وعقلا رائج و معہود ہے تو بے شک اساتذہ و مدرسین ان تعطیلاتِ معہودہ کے ایام کی تنخواہ کے مستحق ٹھہریں گے جیساکہ دیگر ایام جو دورانِ تعلیم آتے ہیں مثلاً جمعہ/ اتوار عیدین وغیرہ ان کی تنخواہ کے مستحق ہوتے ہیں۔تو کوئی وجہِ تخصیص نہیں کہ اِن ایام(جمعہ ، عیدین وغیرہ) کی اجرت کے مستحق ہوں اور اُن ایام (رمضان اور اس سے متصل مہینوں کے ایام )کی اجرت کے مستحق نہ ہوں۔

    البتہ بونس کا مسئلہ مدرسے کے عرف پر موقوف ہے کہ بعض مدارس بونس دیتے ہیں اور بعض نہیں دیتے لہذا اگر وہاں سابقہ سالوں سے بونس دیا جارہا ہے تو اب بونس بھی لازم ہوگا۔

    علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: حیث کانت بطالة معروفة فى يوم الثلاثاء و الجمعة و فى رمضان و العيدين يحل الأخذ۔ ترجمہ: جہاں کہیں منگل جمعہ ، رمضان اور عیدین کی تعطیلات مروج و معروف ہیں ان ایام کی تنخواہ مدرس کو لینا جائز ہے۔(شامی جلد 4 ص 372)

    الاشباہ والنظائر میں ہے: البطالة فى المدارس كايام الاعياد و يوم عاشوراء و شهر رمضان فى درس الفقه لم أرها صريحة في كلامهم.والمسئالۃ على وجهين ان مشروطة لم يسقط من المعلوم شيیٔ والا فینبغی ان یلحق ببطالة القاضى ففى المحيط أنه يأخذ فى يوم البطالة و قيل لا و فى المنية يستحق فى الاصح ، و اختاره فى منظومة ابن وهبان و قال انه الاظهر اھ ملخصا۔ترجمہ: عید کے دنوں ، عاشورہ اور ماہ رمضان جیسی مدارس میں فقہی تعلیم کی تعطیلات تو میں نے فقہاء کے کلام میں اسکی تصریح نہیں دیکھی۔بہرحال مسئلہ دووجہوں پر ہے ، اگر معاہدہ میں مشروط ہیں تو مشاہرہ بالکل ساقط نہ ہو گا ورنہ قاضی کی تعطیلات کے موافق ہونا مناسب ہے ، پس محیط میں ہے کہ مدرس ایام تعطیلات کا مشاہرہ حاصل کرے گا اور بعض نے کہا حاصل نہیں کرے گا اور منیہ میں ہے اصح یہ ہے کہ وہ مستحق ہو گا اور ابن وہبان کے منظومہ میں اسی کو اختیار فرمایا اور انہوں نے فرمایا کہ یہی اظہر ہے ۔ (الاشباہ والنظائر، جلد 1 ص 81)

    اسکے تحت سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: اقول ھذہ الترجیحات حیث لم یشترط فکیف اذا شرط ھذا لیس محل نزاع و قد علمت ان المعروف کالمشروط۔ ترجمہ: میں کہتا ہوں یہ ترجیحات مشروط نہ ہونے کی صورت میں ہے، مشروط ہو تو کیسے مستحق نہ ہو گا حالانکہ محل نزاع یہی صورت ہے اور تو معلوم کر چکا کہ معروف چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔( فتاویٰ رضویہ ج 19 ص 438)

    سیدی اعلٰی حضرت ، عظیم البرکت فرماتے ہیں: تعطیلات معہودہ میں مثل تعطیل ماہ مبارک رمضان و عیدین وغیرہا کی تنخواہ مدرسین کو بے شک دی جاۓ گی" فان المعھود عرفا کالمشروط مطلقاً" ۔( فتاویٰ رضویہ ج 19 ص 437)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں : جو تعطیلیں عام طور پر مسلمانوں میں رائج و معہود ہیں مثلاً جمعہ یا جمعرات ماہ رمضان المبارک اور عید و بقرعید وغیرہ مدرس ان تعطیلات کی تنخواہ پانے کا مستحق ہوتا ہے۔( بہار شریعت ج 10 ص 545 )

    خلاصہ یہ ہے کہ ان اساتذہ و مدرسین ان ایامِ تعطیلات کی تنخواہ پانے کے مستحق ہیں لہذا انتظامیہ پر لازم ہے کہ ان ایام کی تنخواہ دیں اور اپنے عرف کے مطابق بونس بھی دیں ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:02 رمضان المبارک 1445ھ/ 12 مارچ 2024 ء