قرآنی آیات پروفائل پہ لکھنا کیسا

    qurani ayat profile pe likhna kaisa

    تاریخ: 15 جون، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1459

    سوال

    آج کل سوشل میڈیا پر عام لڑکے اپنی پروفائل پر کونٹینٹ کے طور پرشعر یا جملے کے بجائے کوئی قرآنی آیت لکھ دیتے ہیں جیساکہ کسی نے اپنی پروفائل پر تصویر اپلوڈ کی اور یہ آیت لکھ دی، وصورکم فاحسن صورکم۔ یونہی لاتحزن ان اللہ معنا۔اسکے علاوہ دیگر آیات مختلف مضامین کی ہوتی ہیں ۔شرعی اعتبار سے بتائیے کہ انکا یہ عمل جائز ہے یا ناجائز؟ گناہ ہوگا یا نہ ہوگا؟

    سائل:حمزہ: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پروفائل کی تصاویر پر بطورِ کونٹینٹ آیات لکھنا مناسب نہیں ، ایسا کرنے کی صورت میں گناہ کا اندیشہ ہے کیونکہ اس مقام میں آیات لکھنا اس لئے نہیں کہ اسکی تلاوت کی جائے یا اس سے تبرک حاصل کیا جائے بلکہ مقصود محض یہ ہے کہ اپنی تصاویر کو ان آیات کے ذریعےمزین کیا جائے یا ان آیات کے ذریعے تصویر کے مطابق کوئی عنوان قائم کیا جائے (جیسا کہ بعض اوقات اشعار وغیرہ کا سہارا بھی لیا جاتا ہے )اور یہ سراسر خلافِ مقصد و مقصودِ قرآن ہےکہ قرآن مجید کا مقصود و مطلوب اسکی تلاوت اور اس پر عمل کرنا اورضمناً تبرک حاصل کرنا ہے۔کتب فقہ میں بصراحت مذکور کہ الامور بمقاصدھا۔ ترجمہ: کہ معاملات اپنے مقاصد کے ساتھ ہوتے ہیں۔ نیز قرآنی آیات کو یوں بطورِ تزیین یا تعبیرِ عنوان کے طور پر لکھنے میں بے ادبی کا عنصر بھی نمایاں ہے ، جس سے مسلمانوں کو لازما ً احتراز چاہیے۔

    قرآن مجید و دیگر مقدس کلمات کو خلاف مقصود استعمال کرنا منع ہے جیساکہ ہندیہ میں ہے: إذا قدم واحد من العظماء إلى مجلس فسبح أو صلى على النبي صلى الله عليه وآله وأصحابه إعلاما بقدومه حتى ينفرج له الناس أو يقوموا له يأثم هكذا في الوجيز للكردري۔ ترجمہ: جب کوئی معظم شخص کسی مسجد میں آیا اور کسی نے سبحان اللہ کہا یا نبی کریم ﷺ پریا انکی آل و اصحاب پر درود پڑھا اور مقصد اس شخص کے آنے کا اعلان ہو تالہ لوگ اسکا راستہ کشادہ کردیں یا اسکے لئے کھڑے ہوجائیں تو وہ شخص گنہ گار ہوگا ، وجیز کردی میں یونہی منقول ہے۔(ہندیہ،کتاب الکراھیة، الباب الرابع في الصلاة والتسبیح ۔۔۔الخ جلد 5 ص 315 دار الکتب العلمیہ)

    شامی میں ہے: إذا قال الداخل: يا الله مثلا ليعلم الجلاس بمجيئه ليهيئوا له محلا، ويوقروه وإذا قال الحارس: لا إله إلا الله ونحوه ليعلم باستيقاظه، فلم يكن المقصود الذكر ۔ ترجمہ:جب آنے والامثلاً'' یا اللہ'' کہے تاکہ بیٹھے ہوئے لوگوں کو اسکی آمدکا علم ہوجائے اور وہ اسکی لئے جگہ تیار کریں اور اسکی تعظیم کریں یا جب چوکیدار لاالٰہ الا اللہ یا اسکی مثل کہے تاکہ لوگ جان لیں کہ جاگ رہاہے تو یہاں مقصود ذکر نہیں (اس لئے منع ہے)۔(شامی، جلد 06، ص 431)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: جمادی الثانی 1445ھ/ 20 ستمبر 2023 ء