سوال
1:ہم لوگ مختلف پھلوںمثلًا کینوں وغیرہ کی فصل مختلف وجوہات کی بنا پرپکنے سے پہلے پوری کی پوری لے لیتے ہیں،لازمی طور پر اس میں مقدار( Quantity) طے نہیں کی جاتی ۔کیا اس طرح کا عقد جائز ہے ؟
2: آلوکی فصل جس کا ابھی بیچ لگا ہےاسے ہم نے خرید لیا ہے ۔دسمبر میں جب آلو تیار ہوجائےگا تو ہم لوگ اسے لے لیں گے اور اس میں ہم نےمقدار( Quantity)بھی متعین(fixed) کی ہے ،بائع کی فصل اگر خراب ہو جاتی ہے یا کم نکلتی ہے تو وہ ہماری طے شدہ مقدار ( Quantity)پوری کر کے دے گا،چاہے کہیں سے بھی دے ؟ کیا یہ صورت جائز ہے۔
سائل:نوید : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پہلے سوال کا جواب : ہمارے نزدیک فی زمانہ جن علاقہ جات میں اس طرح کی بیع کرنے پر لوگوں کا تعامل جاری ہے،وہاں ضرورت کے پیشِ نظر( بیع سلم کے ساتھ دلالۃً ملحق کرتے ہوئے) بیع کی یہ صورت جائز ہے ۔
تفصیلی جواب ملاحظہ ہو :
پھلوں سبزیوں کی بیع کی ابتداء دو صورتیں ہیں:(1)پھلوں سبزیوں کی مطلق بیع۔(2)پھلوں ،سبزیوں کی بیع اس طور پر کرنا کہ مشتری ابھی نہیں لے گا بلکہ کچھ عرصہ مذکورہ چیزیں بیل ،بوٹوں،درختوں کے ساتھ لگی رہیں گے۔
پہلی صورت کا تفصیلی جائزہ
مطلق بیع کی چار صورتیں ہیں :
1:۔عقد کرتے وقت ان میں سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہوا،مثلاً ابھی بیج بویا گیا ہے۔یا پھر بیج تو پہلے سے بو دیا گیا تھا لیکن ابھی تک بیل یا پودوں پر پھل ، سبزیاں ظاہر نہیں ہوئی ۔
2:۔بعض پھل نکلے ہیں ، بعض کا نکلنا باقی ہے ۔
ظاہرِ مذ ہب میں عقد کی مذکورہ دونوں صورتیں ناجائزہیں ،البتہ جو پھل نکلے اگر معدود ہوں تو پھر جائز ہے جب تک کہ درخت پر چھوڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو اور اختلاط سے بھی محفوظ ہوں۔
3:۔ بوقتِ عقد تمام کے تمام پھل نکل چکے تھے ۔یہ صورت بالاتفاق جائز ہے، تاہم اس میں ضروری ہے کہ درخت پر چھوڑنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔
4:۔اکثر پھل نکل چکےہیں اور کچھ باقی ہیں ۔یہ صورت ظاہرِ مذہب میں پہلی دو کی طرح ہے ،یعنی ناجائز ہے۔
البتہ امام محمد کی روایت کے مطابق یہ تیسری صورت کی طرح ہے یعنی جائز ہے۔جیسا کہ فتح القدیر کاکلام اسی جانب اشارہ دے رہا ہے،اور علامہ سیدی ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نے اسی کو اختیار کیا ،نیزاعلی حضرت علیہ الرحمہ نے بھی جد الممتار میں اس کو ذکر کیا ہے ،ان شاء اللہ عنقریب آئے گا۔
در مختار مع تنویر الابصار:وَمَنْ بَاعَ ثَمَرَةً بَارِزَةً ( أَمَّا قَبْلَ الظُّهُورِ فَلَا يَصِحُّ اتِّفَاقًا) ظَهَرَ صَلَاحُهَا أَوْ لَا صَحَّ فِي الْأَصَحِّ وَلَوْ بَرَزَ بَعْضُهَا دُونَ بَعْضٍ لَا يَصِحُّ فِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ وَصَحَّحَهُ السَّرَخْسِيُّ وَأَفْتَى الْحَلْوَانِيُّ بِالْجَوَازِ لَوْ الْخَارِجُ أَكْثَرَ زَيْلَعِيّ وَيَقْطَعُهَا الْمُشْتَرِي فِي الْحَالِ جَبْرًا عَلَيْهِ وَإِنْ شَرَطَ تَرْكَهَا عَلَى الْأَشْجَارِ فَسَدَ:ترجمہ:جس شخص نے نمودار پھل بیچا خواہ پھل پکا ہو یا کچا تو اصح قول کے مطابق بیع صحیح ہے ۔بہرحال نمودار ہونے سے پہلے بیچا توبالاتفاق جائز نہیں۔اورا گر کچھ پھل نمودار ہوئے اور کچھ نہیں ہوئے تو ظاہر مذہب میں بیع صحیح نہیں،(جبکہ )امام سرخسی نے اس کو صحیح قرار دیا، اور امام حلوانی نے اس کے جواز کا فتوی دیا بشرطیکہ نکلنے والا زیادہ ہوں۔ اور بیع کے بعد مشتری پھلوں کو فی الفور کاٹ لے گا اس سلسلہ میں اس پر جبر کیا جائے گا ۔اور اگر اس نے پھلوں کو درختوں پر چھوڑنے کی شرط لگائی ہو تو بیع فاسد ہوگی۔(الدر المختار جلد 4 صفحہ 555 دار الفكر-بيروت)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ جد الممتار میں مصنف کا قول (ان کان بحال لاینتفع بہ )کے تحت فرماتے ہیں:و الحاصل :ان الثمار امالم یظھر منھاشیء او ظھر اقلھا او اکثرھا او کلھا، علی الاولین لایجوز البیع مطلقاً، ای :بیع ثمار الشجرۃ کلھا ماظھر وما لم یظھر ؛لانہ بیع المعدوم ،امابیع ما ظھر ولو معدوداً، فلا مانع منہ اذالم یشرط الترک وامن الاختلاط ، وعلی الرابع یجوز عندنا مطلقاً،و ان لم یبد صلاحھا و تتناہ الا بشرط الترک فحرام ، و معلوم ان المعروف کالمشروط ، فان لاشرط و لا عرف فاذن البائع بالترک جاز و طاب ، اماالثالث فکالاولین فی المذہب، وکالرابع فی روایۃ عن محمد ، بل عن الکل ،
حاصلِ کلام: (1)اگر(عقدکے وقت)پھلوں میں سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہوا ،یا (2)بہت قلیل مقدار میں ظاہر ہوا،یا(3)اکثر پھل ظاہر ہو گیا، (4)سارے کا سارا پھل ظاہر ہو گیا۔پہلی دو صورتیں مطلقا جائز نہیں،یعنی درختوں کے سارے پھلوں کی جو ظاہر ہوئے یا نہ ہوئے جائز نہیں،اس لیے کہ یہ معدوم کی بیع ہے ،بہرحال جو ظاہر ہوئے اگر وہ معدود ہوں تو پھر جائز ہے جب تک کہ درخت پر چھوڑنے کی شرط نہ لگائی ہو اور اختلاط سے محفوظ ہوں ۔چوتھی صورت ہمارے نزدیک مطلقا جائز ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ معروف مشروط کی طرح ہے ،پس اگر شرط ہو نہ عرف ہو اور بائع کا (پھل درخت پر )چھوڑنے کی اجازت دینا جائز ہے اور(ماحصل) نفع حلال ہے۔اور تیسری صورت ظاہرِ مذہب میں پہلی دو کی مثل ہے(یعنی ناجائز ہے)۔اور امام محمد کی ایک روایت کے مطابق وہ(تیسری )چوتھی کی طرح ہے (یعنی جائز ہے)،بلکہ سب(صورتوں) کے بارے میں(جواز کی روایت) ہے۔(جدالممتارعلی ردالمحتار،جلد6،صفحہ 155دار اہل السنۃ)
محقق علی الاطلاق علامہ کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ جواز و عدم جواز کی صورتیں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : لَا خِلَافَ فِي عَدَمِ جَوَازِ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ، وَلَا فِي عَدَمِ جَوَازِهِ بَعْدَ الظُّهُورِ قَبْلَ بُدُوِّ الصَّلَاحِ بِشَرْطِ التَّرْكِ، وَلَا فِي جَوَازِهِ قَبْلَ بُدُوِّ الصَّلَاحِ بِشَرْطِ الْقَطْعِ فِيمَا يُنْتَفَعُ بِهِ، وَلَا فِي الْجَوَازِ بَعْد بُدُوِّ الصَّلَاحِ، لَكِنَّ بُدُوَّ الصَّلَاحِ عِنْدَنَا أَنْ تَأْمَنَ الْعَاهَةَ وَالْفَسَادَ. وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ هُوَ ظُهُورُ النُّضْجِ وَبُدُوُّ الْحَلَاوَةِ،
ترجمہ:پھلوں کے ظاہر ہونے سے پہلےان کی بیع کے عدمِ جواز میں کوئی اختلاف نہیں ،اور ظاہر ہونے کے بعد صلاح سے پہلے ترک کی شرط کے ساتھ بیع کے عدم جواز میں بھی کوئی اختلاف نہیں،اور صلاح ظاہر ہونے سے پہلےقابل ِ انتفاع پھلوں کی بیع کاٹ لینے کی شرط کے ساتھ جائز ہے اس میں کسی کا اختلاف نہیں،اور نہ ہی صلاح ظاہر ہو جانے کے بعد جواز میں کوئی کلام ہے۔لیکن ہمارے نزدیک ظہورِ صلاح کا معنی یہ ہے کہ پھل قدرتی آفات اور فسادسے محفوظ رہیں ۔امام شافعی علیہ الرحمہ کے نزدیک اس کا معنی یہ ہے کہ پھل پک جائیں اوران میں مٹھاس آجائے۔(فتح القدیر،جلد:6،صفحہ:288،دارالفکر بیروت)
فی زمانہ لوگوں کی عادت بن چکی ہے کہ وہ پھلوں سبزیوں کی بیع اسی طور پر کرتے ہیں ،ان سے عادت چھڑائی نہیں جا سکتی اور اس کے جواز کے جو حیلے بیان کیےگئے ہیں تاجروں کے لیے عمل کی حد تک وہ مشکل ہیں ،سو فی زمانہ ہمارے مستند مفتیان ِکرام کا مؤقف یہ ہے کہ مواضعِ ضرورت میں اس طرح کی بیع عمومِ بلوی کے پیشِ نظر جائز ہے ۔اس لیے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ضرورت کے تحت معدوم چیز کی بیع کو سلم کےطور پر جائز فرمایا ہے،اور اسی طرح کی ضرورت یہاں پر بھی متحقق ہے تو اس کو بھی بیع سلم کے ساتھ بہ طریق ِ دلالۃ النص ملحق کرنا چاہیے ۔جبکہ اس کے برعکس قول ( یعنی عدم جواز )کو اگر برقرا ر رکھا جائے تو اس طرح کی بیوع میں کئی طرح کےمفاسد لازم آتے ہیں جنھیں دور کرنا انتہائی مشکل ہے ،سو اس ضرورت اور دفعِ ضرر کی بنا پر ہمارے نزدیک بیع کی مذکورہ چاروں صورتیں جائز ہیں:
(1) سب پھل نکل آئے۔یہ صورت بالاتفاق جائز ہے ،جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزر چکا۔
(2) اکثرپھل نکل آئے ۔اس صورت کا حکم بھی درج بالا عبارات میں واضح ہو چکا کہ یہ عموم بلوی کی بنا پر جائز ہے۔
(3)بعض پھل نکلے اور بعض کا نکلنا باقی ہے ۔اس صورت میں جو پھل نکل آئے انہیں اصل قرار دیا جائے اور جن کا نکلنا باقی ہے انہیں تابع قرار دیا جائے ،امام مالک ،امام حلوانی اور بعض دیگر فقہا کے نزدیک یہ بیع جائز ہے نیزامام محمد سے بھی اس صورت میں ایک جواز کی روایت مروی ہے،اگرچہ ظاہرالروایہ کے خلاف ہے ۔
امام سرخسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:إذَا صَارَ بَعْضُ الثِّمَارِ مُنْتَفَعًا بِهِ وَلَمْ يَخْرُجْ الْبَعْضُ بَعْدُ أَوْ لَمْ يَصِرْ مُنْتَفَعًا بِهِ وَلَمْ يَخْرُجْ الْبَعْضُ أَوْ لَمْ يَصِرْ مُنْتَفَعًا بِهِ كَالتِّينِ وَنَحْوِهِ فَاشْتَرَى الْكُلَّ فَظَاهِرُ الْمَذْهَبِ أَنَّ هَذَا الْعَقْدَ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا خِلَافًا لِمَالِكٍ قَالَ: - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ شَيْخُنَا الْإِمَامُ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ يُفْتِي بِجَوَازِ هَذَا الْبَيْعِ فِي الثِّمَارِ وَالْبَاذِنْجَانِ وَالْبِطِّيخِ وَغَيْرِ ذَلِكَ وَهَكَذَا حُكِيَ عَنْ الشَّيْخِ الْإِمَامِ أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ قَالَ: أَجْعَلُ الْمَوْجُودَ أَصْلًا فِي الْعَقْدِ وَمَا يَحْدُثُ بَعْدَ ذَلِكَ تَبَعًا قَالَ: أَسْتَحْسِنُ فِيهِ لِتَعَامُلِ النَّاسِ فَإِنَّهُمْ تَعَامَلُوا بِبَيْعِ ثِمَارِ الْكَرْمِ بِهَذِهِ الصِّفَةِ وَلَهُمْ فِي ذَلِكَ عَادَةٌ ظَاهِرَةٌ وَفِي نَزْعِ النَّاسِ عَنْ عَادَتِهِمْ حَرَجٌ بَيِّنٌ قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِوَايَةً فِي هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَهُوَ فِي بَيْعِ الْوَرْدِ عَلَى الْأَشْجَارِ فَإِنَّ الْوَرْدَ متلاحق ثُمَّ جَوَّزَ الْبَيْعَ فِي الْكُلِّ مُطْلَقًا بِهَذَا الطَّرِيقِ ترجمہ:جب بعض پھل قابلِ انتفاع ہوں اور بعض ابھی پیدا نہ ہوئے ہوں ،یا بعض قابلِ انتفاع نہ ہوں اور بعض ابھی پیدا نہ ہوئے ہوں یا لائقِ نفع نہ ہوں جیسے تنکے وغیرہ تو مشتری نے سب کو خریدلیا تو ظاہر مذہب یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ عقد جائز نہیں،برخلاف امام مالک کے،امام سرخسی فرماتے ہیں: ہمارے امام شمس الائمہ پھلوں اوربینگن اورخربوزہ وغیرہ میں اس بیع کے جواز کا فتوٰی دیاکرتے تھے،اور اسی طرح شیخ امام ابو بکر محمد بن فضل سے حکایت ہے کہ آپ فرماتے ہیں : میں (عقد کے وقت) جو موجود ہو ں اسے عقد میں اصل اور جو (عقد کے بعد)پیدا ہوں انہیں عقد میں بالتبع بنا تا ہوں۔امام سرخسی فرماتے ہیں :میں اسے تعامل ناس کی وجہ سے (اس بیع کو)استحسانا جائز سمجھتا ہوں،کیونکہ اسی طریقے پر انگوروں کی بیع کا لوگوں میں تعامل ہے ۔اور اس میں انکی عادت ظاہر ہے اور لوگوں سے انکی عادتیں چھڑانے میں حرج واضح ہے ۔ آپ فرماتے ہیں:اور میں نے اس بارے میں امام محمد سے ایک روایت دیکھی ہے اور وہ پودوں پر لگے گلاب کی بیع کا مسئلہ ہے اس لیے کہ گلاب کے پھول بعد میں بھی آتے ہیں ۔ پھر انھوں نے تمام(پھلوں میں) میں بیع کواسی طریقے پر مطلقا جائز قرار دے دیا۔ (المبسوط للسرخسی جلد12صفحہ196 ،دارالمعرفہ بیروت)
علامہ سید ابن عابدین عابدین شامی المتوفی 1252ھ علیہ الرحمہ نے تقریبًا 190 برس قبل اپنے دور کی بابت فرمایا: قُلْتُ: لَكِنْ لَا يَخْفَى تَحَقُّقُ الضَّرُورَةِ فِي زَمَانِنَا وَلَا سِيَّمَا فِي مِثْلِ دِمَشْقَ الشَّامِ كَثِيرَةِ الْأَشْجَارِ وَالثِّمَارِ فَإِنَّهُ لِغَلَبَةِ الْجَهْلِ عَلَى النَّاسِ لَا يُمْكِنُ إلْزَامُهُمْ بِالتَّخَلُّصِ بِأَحَدِ الطُّرُقِ الْمَذْكُورَةِ، وَإِنْ أَمْكَنَ ذَلِكَ بِالنِّسْبَةِ إلَى بَعْضِ أَفْرَادِ النَّاسِ لَا يُمْكِنُ بِالنِّسْبَةِ إلَى عَامَّتِهِمْ وَفِي نَزْعِهِمْ عَنْ عَادَتِهِمْ حَرَجٌ كَمَا عَلِمْت، وَيَلْزَمُ تَحْرِيمُ أَكْلِ الثِّمَارِ فِي هَذِهِ الْبُلْدَانِ إذْ لَا تُبَاعُ إلَّا كَذَلِكَ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إنَّمَا رَخَّصَ فِي السَّلَمِ لِلضَّرُورَةِ مَعَ أَنَّهُ بَيْعُ الْمَعْدُومِ، فَحَيْثُ تَحَقَّقَتْ الضَّرُورَةُ هُنَا أَيْضًا أَمْكَنَ إلْحَاقُهُ بِالسَّلَمِ بِطَرِيقِ الدَّلَالَةِ، فَلَمْ يَكُنْ مُصَادِمًا لِلنَّصِّ، فَلِذَا جَعَلُوهُ مِنْ الِاسْتِحْسَانِ؛ لِأَنَّ الْقِيَاسَ عَدَمُ الْجَوَازِ، وَظَاهِرُ كَلَامِ الْفَتْحِ الْمَيْلُ إلَى الْجَوَازِ وَلِذَا أَوْرَدَ لَهُ الرِّوَايَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ بَلْ تَقَدَّمَ أَنَّ الْحَلْوَانِيَّ رَوَاهُ عَنْ أَصْحَابِنَا وَمَا ضَاقَ الْأَمْرُ إلَّا اتَّسَعَ وَلَا يَخْفَى أَنَّ هَذَا مُسَوِّغٌ لِلْعُدُولِ عَنْ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ ترجمہ :میں کہتاہوں کہ ہمارے زمانہ میں اس ضرورت کا تحقق مخفی نہیں خصوصًا دمشق کے علاقہ میں جو کثیر باغات اور پھلوں کا علاقہ ہے،پس لوگوں پر جہالت کے غلبے کی وجہ سے ان کو مذکورہ طریقوں میں سے کسی ایک پر پابند کرنا اگرچہ بعض لوگوں کو ممکن ہے لیکن عوام کے لئے یہ ممکن نہیں جبکہ ان کو عادت چھڑانے پر حرج لاحق ہوگاجیسا کہ آپ کو معلوم ہوچکا ہے، اور ان شہروں میں پھلوں کے کھانےکی حرمت لازم آئے کیوں کہ وہاں یہی رواج ہے حالانکہ حضورعلیہ الصلٰوۃ والسلام نے ضرورت کے تحت معدوم چیز کی بیع کو بیع سلم کےطور پر (جائز فرما کر)رخصت دی ۔ تو جب یہاں بھی یہ ضرورت متحقق ہے تو اس کو بھی بیع سلم کے ساتھ بطریقہ دلالۃ النص ملحق کرنا ممکن ہے تو اس طرح یہ نص سے متصادم نہ ہوگا۔ اسی لیے فقہائے کرام نے استحسانًا اس کواختیارفرمایا، اور فتح القدیر کا ظاہر کلام جواز کی طرف مائل ہے اسی لئے انھوں نے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے یہاں روایت نقل فرمائی بلکہ پہلے گزراکہ امام حلوانی نے یہ بات ہمارے اصحاب سے نقل فرمائی اور جب معاملہ میں تنگی آتی ہے تو وسعت ہی لاتی ہے۔تو مخفی نہ رہا کہ ظاہرروایت سے عدول کا یہ جواز ہے ۔(رد المحتار کتاب البیوع جلد 4 صفحہ556 دار الفكر بيروت)
اسی طرح علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمہ نشر العرف میں لکھتے ہیں :مسئلۃبیع الثمار علی الاشجار عند وجود بعضھا دون بعض فقد اجازہ بعض علماٗنا للعرف قال فی الذخیریۃ البرھانیۃ فی فصل السادس من البیع واذا اشتری ثمار بستان وبعضھاقد خرج وبعضھا لم یخرج فھل یجوز ھذا البیع ظاھراالمذھب لا یجوز وکان شمس الائمۃ الحلوانی یفتی بجوازہ فی الثمار والبازنجان والبطیخ وغیر ذالک ۔۔۔۔۔۔حکی عن الشیخ الامام الجلیل ابی بکر محمد بن فضل انہ کان یفتی بجوازہ ترجمہ:درختوں پر لگے پھلوں کی بیع ایسے وقت میں کہ جب بعض موجود ہوں اور بعض نہ ہوں ،اسے بعض علما نے عرف کی وجہ سے جائز قرار دیا ہے۔ذخیریہ برہانیہ کی چھٹی فصل میں (امام)نے کہا کہ جب کسی نے باغ کے پھلوں کو اس حالت پر خریدا کہ بعض ظاہر ہو چکے تھے اور بعض نہیں تو کیایہ بیع جائز ہے ؟لکھتے ہیں :ظاہر مذہب کے مطابق یہ بیع جائز نہیں۔شمس الائمہ امام حلوانی پھل ،بینگن اور تربوز کے علاوہ دیگر اشیاء میں بیع کے جواز کا فتوی دیا کرتے تھے۔۔۔۔۔۔اسی طرح شیخ الامام الجلیل ابو بکر بن فضل کے بارے حکایت کی گئی کہ وہ اس کے جواز کا فتوی دیا کرتے تھے۔(رسائل ابن عابدین الشامی جلد 2 صفحہ 139)
(4)کچھ بھی ظاہر نہیں ہوا،جیسا کہ ہمارے ہاں یہ صورت کثرت سے رائج ہے کہ بیع اس وقت کی جاتی ہے جب باغ کے درختوں پر فقط بور ہوتا ہے تو اس صورت میں اس بیع کو حکمی طور پر بیع سلم مان کر جائز قرار دیا جائے گا ۔
2:۔ترک کی شرط کے ساتھ بیع کرنا،یعنی پھلوں ،سبزیوں کو اس شرط کے ساتھ خریدنا کہ پھلوں ،سبزیوں کو ابھی اتارے گا نہیں۔
اگر پھلوں،سبزیوں کی افزائش جاری ہے یعنی ان میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے تو تمام (ائمہ اربعہ وصاحبین )کے نزدیک ترک کی شرط کے ساتھ انہیں خریدنا جائز نہیں ۔اور اگر پھلوں ،سبزیوں کی افزائش تو رک چکی ہے مگر ابھی پکنا باقی ہے تو اس صورت میں شیخین قیاس کے پیشِ نظر اس بیع کو جائز قرار نہیں دیتے ۔جبکہ امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک استحسان کی بنا پر یہ بیع جائز ہے ،اور یہی ائمہ ثلاثہ کا مؤقف ہے۔امام طحاوی علیہ الرحمہ نے عمومِ بلوی کی وجہ سےاسی کو اختیار کیا ہے ۔
محقق علی الاطلاق علامہ کمال ابن ہمام علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : فَإِنْ بَاعَهُ بِشَرْطِ التَّرْكِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَنَاهَى عِظَمُهُ فَالْبَيْعُ فَاسِدٌ عِنْدَ الْكُلِّ، وَإِنْ كَانَ قَدْ تَنَاهَى عِظَمُهُ فَهُوَ فَاسِدٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ، وَهُوَ الْقِيَاسُ. وَيَجُوزُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ اسْتِحْسَانًا، وَهُوَ قَوْلُ الْأَئِمَّةِ الثَّلَاثَةِ، وَاخْتَارَهُ الطَّحَاوِيُّ لِعُمُومِ الْبَلْوَى. وَفِي الْمُنْتَقَى: ذَكَرَ أَبُو يُوسُفَ مَعَ مُحَمَّدٍ وَجْهَ قَوْلِهِمَا فِي الصُّورَتَيْنِ أَنَّهُ شَرْطٌ لَا يَقْتَضِيهِ الْعَقْدُ وَهُوَ شَغْلُ مِلْكِ الْغَيْرِ أَوْ هُوَ صَفْقَةٌ فِي صَفْقَةٍ) ؛ لِأَنَّهُ إنْ شَرَطَ بِلَا أُجْرَةٍ فَشَرْطُ إعَارَةٍ فِي الْبَيْعِ أَوْ بِأُجْرَةٍ فَشَرْطُ إجَارَةٍ فِيهِ، وَمِثْلُ هَذَا بَيْعُ الزَّرْعِ بِشَرْطِ التَّرْكِ. وَجْهُ قَوْلِ مُحَمَّدٍ فِي الْمُتَنَاهِي الِاسْتِحْسَانُ بِالتَّعَامُلِ؛ لِأَنَّهُمْ تَعَارَفُوا التَّعَامُلَ۔ترجمہ:پس اگراس نے ترک کی شرط کے ساتھ اس کو بیچا ،تو اگر اس کی افزائش ختم نہیں ہوئی تو سب کے نزدیک بیع فاسد ہے،اور اگر اس کی افزائش ختم ہو گئی امام ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک بیع فاسد ہے اور یہی قیاس کا تقاضا ہے۔اور اما م محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک استحسانا جائز ہے اور یہی ائمہ ثلاثہ کا قول ہے ،امام طحاوی نے عموم بلوی کی وجہ سے اسی کواختیار کیا ہے ۔منتقی میں ہے:امام ابو یوسف نے امام محمد کے ساتھ دونوں کے قول کی وجہ دو صورتوں میں ذکر کی،پہلی یہ کہ یہ ایسی شرط ہے جس کا عقد تقاضا نہیں کرتا ،اور وہ ملکِ غیر میں (اس کے مال) کا مشغول ہونا ہے یا یہ ایک سودے میں دوسرا سودہ کرنا ہے،اس لیے کہ اگر یہ شرط بلا اجرت ہے تو بیع میں اعارہ کی شرط ہوئی،اور اگر(یہ شرط) اجرت کے ساتھ ہے تو بیع میں اجارہ کی شرط ہوئی ،اور اسی کی مثل ترک کی شرط کے ساتھ کھیتی کی بیع ہے۔متناہی کی صورت میں امام محمد کے (جواز کے)قول وجہ استحسان بالتعامل ہے۔اس لیے کہ لوگوں نے تعامل کو عرف بنا رکھا ہے۔(فتح القدیر،جلد:6،صفحہ:288،دارالفکر بیروت)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ لا بشرطِ شئی کے ساتھ بیع کے جوازکا قول کرتے ہوئے لکھتے ہیں :قلت:یجوز البیع لابشرط شیء،یجوز حٍ الترک باذن البائع کما سیاتی شرحاً، فامکن کونہ منتفعابہ فی المآل ،ھذا ھو الذی تعتمدہ صحۃالبیع ،الا تری انہ یصح بیع مھرۃ ساعۃالولادۃ،مع انھ لاترکب الابعد زمانٍ!، ترجمہ میں نے کہا کہ لابشرطِ شئی کے ساتھ بیع جائز ہے ،بائع کی طرف سے اس وقت پھلوں کو درخت پر چھوڑا بائع کی اجازت سے جائز ہو گا ۔جیسے کہ عنقریب اس کی شرح آئے گی ۔پس ممکن ہے کہ آئندہ دنوں میں اس کا قابلِ انتفاع ہونا ۔اور یہ ایسی چیز ہے جس کا صحتِ بیع میں اعتبار کیا گیا ہے ۔کیا نہیں دیکھتے کہ گھوڑی کے بچھرے کی بیع ولادت کے وقت جائز ہے حالانکہ وہ کچھ عرصہ تک تیار ہو گا۔(جدالممتارعلی ردالمحتار،جلد6،صفحہ 155دار اہل السنۃ)
مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ عالمگیری کے حوالےسے لکھتے ہیں : اور اگر یہ شرط کرلی ہے کہ جب تک طیار نہیں ہونگے درخت پر رہیں گے تو بیع فاسد ہے اور اگر بلا شرط خریدے ہیں مگر بائع نے بعدِ بیع اجازت دی کہ طیار ہونے تک درخت پر رہنے دو تو اب کوئی حرج نہیں۔(بہار شریعت حصہ 11صفحہ706 مکتبۃ المدینہ)
البتہ اگر بائع درختوں پودوں یا بیلوں پر، پھل سبزیاں چھوڑے رکھنے پرراضی نہ ہو(عام طور پر ایسا ہوتا نہیں،تاہم یہ ایک امکانی صورت ضرور ہے) تو پھر اس کے دو طرح کے حیلے ہیں:
(1)سبزیوں کا عقد ہو تو،بیلوں کو بھی عقد میں شامل کر کے خرید لے ، اور زمین کو مخصوص مدت تک کرائے پر لے لے،یوں بیع ہو جانے کے بعد پھلوں سبزیوں کو درخت اور بیلوں کے ساتھ چھوڑنا جائز ہو جائے گا۔
(2)یا مساقاۃ (باغ یا درخت کسی کو اس لیے دینا کہ اس کی خدمت کرے اور جو کچھ اس سے پیداوار ہوگی اس کا ایک حصہ کام کرنے والے کو اور ایک حصہ مالک کو دیا جائے گا اس کو مساقاۃ کہتے ہیں)کرلے۔
علامہ علا ؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ در مختارمیں لکھتے ہیں :وَالْحِيلَةُ أَنْ يَأْخُذَ الشَّجَرَةَ مُعَامَلَةً عَلَى أَنَّ لَهُ جُزْءًا مِنْ أَلْفِ جُزْءٍ وأَنْ يَشْتَرِيَ أُصُولَ الرَّطْبَةِ كَالْبَاذِنْجَانِ وَأَشْجَارِ الْبِطِّيخِ وَالْخِيَارِ لِيَكُونَ الْحَادِثُ لِلْمُشْتَرِي وَفِي الزَّرْعِ وَالْحَشِيشِ يَشْتَرِي الْمَوْجُودَ بِبَعْضِ الثَّمَنِ وَيَسْتَأْجِرُ الْأَرْضَ مُدَّةً مَعْلُومَةً يَعْلَمُ فِيهَا الْإِدْرَاكَ بِبَاقِي الثَّمَنِ، وَفِي الْأَشْجَارِ الْمَوْجُودَ، وَيُحِلُّ لَهُ الْبَائِعُ مَا يُوجَدُ، فَإِنْ خَافَ أَنْ يَرْجِعَ يَقُولُ عَلَى أَنِّي مَتَى رَجَعْتُ فِي الْإِذْنِ تَكُونُ مَأْذُونًا فِي التَّرْكِ شُمُنِّيٌّ مُلَخَّصًاترجمہ:اور اس میں حیلہ یہ ہے کہ (1)مشتری بائع سے درخت بطور معاملہ(مساقاۃ) لے کرہزار میں سے ایک جزء بائع کا کردے اور (2)یہ کہ بینگن ، تربوز اور ککڑی کی جڑیں خریدلے تاکہ نئے پیداہونے والے پھل مشتری کی ملک ہوں اور (3)موجود کھیتی اور گھاس،بعض ثمن کے بدلے خریدلے اور باقی ثمن کے بدلے زمین کو مدت معینہ کے لئے کرایہ پر لے لے جس مدت میں کھیتی کا پکنا معلوم ہو۔۔(الدر المختار جلد 4 صفحہ 557 دار الفكر-بيروت)
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے بھی اس کے جواز کے حیلے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے :اس کے جواز کا حیلہ یہ ہے کہ مثلا کھیتی دو مہینہ میں پکتی سمجھے تو کھیتی فی الحال خرید لے اوراس کے باقی رکھنے کی شرط نہ کرے اور اسی وقت معًا وہ زمین جس میں کھیتی ہے اپنے کسی کام کے لئے دومہینہ تک ایک معینہ کرایہ پر لے لے خریداری میں اس اجرت کاحساب دل میں سمجھ لے مثلا بیس روپے قیمت کا کھیت ہے اور روپیہ مہینہ زمین کا کرایہ ہوگا اور دومہینہ کو کرایہ لینا ہوا تو اٹھارہ روپے کوکھیت خریدے اور دوروپے کو زمین کرایہ پرلے۔(فتاوی رضویہ جلد17صفحہ175رضا فاؤنڈیشن لاہور )
دوسرے سوال کا جواب:
اصطلاحِ شریعت میں یہ عقد عقدِ سلم کہلاتا ہےجو کہ درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے :
مبیع کی جنس،نوع ، صفت ،مقدار کو اس طرح بیان کیا جائے کہ کسی قسم کا کوئی ابہام نہ رہے ، نیز ادئیگی کا وقت معین کر دیا جائے مثلا آپ کہیں کہ میں اس صفت کے یہ آلو اتنی مقدار میں خریدے جو کہ دسمبر کی ان تاریخوں میں لوں گا۔
یوں ہی ثمن کی بھی تعیین کی جائے مثلاً پانچ لاکھ پاکستانی روپوں میں خریدتا ہوں۔ نیز اسی مجلس میں ثمن ادا کردیا جائے ورنہ عقد فاسد ہوجائے گا ۔
وہ چیز جس میں بیع سلم کی جا رہی ہے وہ اس قسم کی ہو کہ روزِ عقد سے ختم ِمیعاد تک ہر وقت بازار میں دستیاب ہو ،اگر ایسا نہ ہو عقد ناجائز ہوگا۔تفصیل کے لیے بہار شریعت کے حصہ 11میں بیع سلم کابیان مطالعہ فرمائیں! واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــہ:محمد یونس انس القادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 جمادی الاول1442ھ/17دسمبر2020ء