وراثت، انشورنش و تکافل، سیونگ سرٹیفیکیٹ
    تاریخ: 5 مارچ، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 964

    سوال

    (۱) میری پھوپھی کا انتقال ہو چکا ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے دو بھائی، چار بہنیں اور شوہر حیات تھے۔ مرحومہ کی اپنے شوہر سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ پھو پھی کے والدین، دادا، دادی اور نانی ان کی وفات سے پہلے فوت ہو گئے۔ مرحومہ پھو پھی کی میراث کی شرعی تقسیم کیا ہوگی ؟

    (۲) پھو پھی کی وفات کے دو دن بعد ان کے شوہر کا بھی انتقال ہو گیا۔ شوہر نے تین شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی ( پاکستانی) کو طلاق دے کر نکاح سے آزاد کر دیا تھا، پھر دوسری شادی میری پھوپھی سے کی تھی اور تیسری شادی ایک مصری عورت سے کی۔ مرحوم کے لواحقین میں تیسری بیوی ، پہلی مطلقہ بیوی سے دو بیٹیاں اور مصری بیوی سے دو بیٹے ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی اولاد نہیں تھی۔ مرحوم سے پہلے ان کے والدین، دادا، دادی اور نانی کا انتقال ہو گیا تھا۔

    پھوپھی اور ان کا شوہر دونوں پہلے سعودی عرب میں مقیم تھے۔ لیکن پاکستان آنے کے بعد پندرہ سال ہوئے کہ یہ دونوں کراچی میں رہ رہے تھے۔کراچی میں آباد ہونے کے بعد پھوپھا بیمار رہے، کام وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ اپنی موت سے کچھ عرصہ پہلے انہوں نے بتایا کہ ان کی باقی دو بیویوں سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں لیکن وہ ان سے کبھی نہیں ملے اور نہ ہی انہیں ان اولادوں اور ان کی ماؤں کی رہائش اور ٹھکانے کے بارے میں کوئی یقینی خبر معلوم ہے۔کیونکہ پھوپھا ان دونوں بیویوں اور ان کی اولادوں سے سالوں پہلے لاتعلق ہو گئے تھے۔ پھوپھا کی موت کے بعد ان کے بچوں اور سابقہ بیویوں کے بارے میں کافی تلاش و تفتیش کے باوجود کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ تمام کو ششوں کے باوجود ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے ، نیز مصر میں بھی اس کا پتہ لگانا مشکل ہے کیونکہ پھو پھا نے کبھی ان کے بارے میں بھی کوئی معلومات شیئر نہیں کیں۔ ایسی صورتحال میں پھوپھا کے حصے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اگر پھوپھا کا اپنی بیوی کی وراثت میں حصہ بنتا ہے تو اس حصے کا کیا جائے؟

    (۳) پھو بھی سعودی عرب میں برسوں تک ہسپتال میں بطور نرس کام کرتی رہی۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے تین دکانیں خریدیں۔ ایک اپنے نام پر ، دوسری اپنے شوہر کے نام پر ، جبکہ تیسری دکان کی پاور آف اٹارنی اپنی ایک چھوٹی بہن کے نام پر بنوا رکھی تھی۔ البتہ ان تینوں دکانوں کی ملکیتی فائلز زندگی بھر پھو پھی کے پاس رہیں۔ اور جو دکان ان کے نام تھی اس کا کرایہ وفات تک پھوپھی لیتی رہی اور ان کی وفات کے بعد وہی کرایہ دار دکان پر قابض ہو چکا ہے اور کوئی کرایہ ادا نہیں کر رہا۔ اسی طرح شوہر کے نام پر خریدی گئی دکان پر بلڈر نے ان دونوں کی وفات کے بعد قبضہ کر لیا، دراصل یہ دکان پھو پھی نے بک کرائی تھی اور اس کی تعمیر اور دیگر اخراجات کی مکمل پیمنٹ پھو پھی نے کر دی تھی اور تعمیر کے بعد قبضہ لینے سے پہلے ہی پھو پھی اور ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا۔ البتہ باقی ایک دکان کا کرایہ وہی بہن لے رہی ہے جس کے نام پر پاور آف اٹارنی ہے۔ ان تینوں دکانوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ موجودہ وقت میں ساری فائلیں اسی چھوٹی بہن کے پاس ہیں۔

    (۴) مرحومہ پھو پھی نے ایک جوبلی لائف انشورنس پالیسی خریدی تھی۔ اس میں انہوں نے اپنی بڑی بہن اور اپنے شوہر کو بینیفشری کے طور پر نامزد کیا تھا۔ اس کے بارے میں شرعا کیا حکم ہے؟ اور اس پالیسی میں موجو در قم کا حق دار کون ہے؟ کیا بینیفشری کے طور پر نامز د افراد ہی حق دار ہیں ؟

    (۵) پھو پھی نے منافع حاصل کرنے کیلئے بہت سے بہبود سیونگ سرٹیفکیٹ اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ خریدے۔ پھو پھی نے اپنے بھائی اور بہنوں کو ڈیفنس سیونگ اور بہبود سیونگ سرٹیفکٹس کے فائدے میں نامز د کیا، لیکن صرف حفاظتی وجہ ہے۔ ان سرٹیفیکٹس کے بارے میں کیا حکم ہے اور ان کا حق دار کون ہے ؟

    سائل: محمد خرم فہیم


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    (۱) اگر سائل اپنے بیان میں سچا ہے اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 16 حصے کئے جائیں گےجن میں سے مرحومہ پھوپھی کے 2 بھائیوں میں سے ہر ایک کو 2حصے، ان کی 4 بہنوں میں سے ہر ایک کو 1حصے تقسیم ہوگا، باقی رہے پھوپھا کے 8 حصے تو اگر ان کے وارثین نہ ملیں تو لقطہ شمار ہوکر شرعی فقراء پر صدقہ ہونگے (تفصیل آگے آرہی ہے)۔

    ترکے کی حسابی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ ترکے کی کل رقم کو مبلغ یعنی 16 سے تقسیم Divide کریں جو جواب آئے اسے محفوظ کرلیں اور اسے ہر ایک وارث کے حصے پر ضرب Multiplyدے دیں، حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    یاد رہے کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً: دکان، مکان، پلاٹ، زمین، زیورات، بینک اکاؤنٹ وغیرہ) میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت لگا کر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہے اور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔

    المسئلۃ بھذہ الصورۃ:

    2×8=16

    میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت مرحومہ پھوپھی

    شوہر 2بھائی 4 بہنیں

    نصف عصـــــــــــــــــــــــبہ

    1×8 1×8=8

    8 2/4 1/4

    (۲) اوّلاً پھوپھا کی پاکستانی مطلقہ بیوی سے دو بیٹوں کا پتہ نادرا کے FRC (Family Registration Certificate) کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے، لہذااس کے ذریعے انہیں تلاش کرکے ان کا حصہ ادا کریں۔ لیکن اگر اس کے ذریعے بھی معلوم نہ ہوسکے ، تو ان بیٹیوں اور مصری بیوی اور اس سے دو بیٹوں کو اپنے مورِث (پھوپھا) سے حصہ وراثت نہ ملے گا، کیونکہ گم شدہ شخص اپنا مال کے اعتبار سے تو زندہ شمار ہوتا ہے کہ اسے مردہ شمار کرکے وارثوں کو مال تقسیم نہیں ہوتا، لیکن یہی گم شدہ شخص دوسروں کے مال کے اعتبار سے مردہ شمار ہوتا ہے، یعنی اسے دوسرے کی وراثت سے حصہ نہیں ملے گا۔ اور یہی صورت یہاں درپیش ہے، لہذا پاکستانی بیٹیاں اور مصری بیوی اور مصری بیٹے اپنے مورِث (پھوپھا) سے حصہ وراثت نہ پائیں گے اور ان کا حصہ شرعاً لقطہ کے حکم میں شمار ہوگا، یعنی اسے شرعی فقیر پر صدقہ کیا جائے گا۔

    (۳) مرحوم پھوپھی کی جائیداد (تین دکانوں) کے حوالے سے شرعی حکم یہ ہے کہ پہلی دکان، جو کہ پھوپھی کے نام پر رجسٹرڈ تھی اور جس کا کرایہ وہ اپنی وفات تک وصول کرتی رہیں، وہ ان کا یقینی ترکہ (مالِ وراثت) ہے اور ان کی وفات کے بعد کرایہ دار کا کرایہ ادا نہ کرنا اور قابض ہو جانا ناجائز و غصب ہے۔ تمام ورثاء کو اختیار حاصل ہے کہ قانونی چارہ جوئی کرکے دکان کا قبضہ واپس لیں اور بقایا کرایہ ترکہ میں شامل کریں۔

    دوسری دکان، جس کی تمام ادائیگی مرحومہ پھوپھی نے کی تھی، لیکن کاغذات میں دکان شوہر کے نام پر تھی۔ اگر پھوپھی نے اپنے اس عمل سے شوہر کو مالک بنانے (تملیک) کا ارادہ کیا تھا، تو یہ دکان شوہر کے ترکہ میں شامل ہوگی۔ البتہ، اگر تملیک کا ارادہ نہیں تھا ، تو یہ دکان پھوپھی کے ترکہ میں شامل ہوگی۔ چونکہ تملیک کی دلیل شرعی موجود نہیں اور ظاہر حال کا تقاضامالک نہ بنانا ہے، لہذا یہ دوکان بھی پھوپھی کاترکہ شمار ہوگی۔ اور بلڈر کا دکان پر قبضہ کرنا غصب و ناجائز ہے، اور ورثاء کو چاہیے کہ قانونی کارروائی کرکے قبضہ واپس لیں۔

    تیسری دکان، جو بہن کے نام پر صرف پاور آف اٹارنی کے ذریعے دی گئی تھی جبکہ ملکیتی فائلیں پھوپھی کے پاس تھیں، وفات کے بعد پاور آف اٹارنی باطل ہو چکی ہے، کیونکہ پاور آف اٹرنی (مختار نامہ) کا مقصد صرف بیچنے کی وکالت دینا ہے اور محض یہ وکالت وکیل کیلئے ملکیت ثابت نہیں کرتی اور مؤکل کے انتقال سے وکالت باطل ہوجاتی ہے، ، لہٰذا یہ دکان بھی پھوپھی کا ترکہ ہے۔ بہن کا اس دکان کا کرایہ وصول کرنا شرعاً درست نہیں اور اسے وفات کے بعد سے اب تک کا تمام کرایہ ترکہ میں شامل کرنا لازم ہے۔

    (۴) کسی بھی کمپنی کی لائف انشورنس لینا جائز نہیں، نہ ہی اس کا نفع حلال ہے۔ کیونکہ انشورنس میں دی جانے والی رقم قرض ہوتی ہے کہ اس کی واپسی کا مطالبہ کمپنی سے کیا جا سکتا ہے اور قرض پر نفع چاہے صراحۃً مشروط ہو یا دلالۃً سود قرار پاتا ہے۔

    اس کے برعکس تکافل پالیسی لینا بھی جائز ہے اور اس سے حاصل شدہ فوائد بھی حلال ہیں، کہ اس میں دی جانے والی رقم قرض کے بجائے مخصوص فلاحی کاموں کے فنڈ کیلئے چندہ ہوتی ہے۔ پس کوئی بھی پالیسی ہولڈر اپنی اس رقم کی واپسی کا مطالبہ ازروئے قرض کے نہیں کر سکتا۔ پھر چونکہ پالیسی ہولڈر بھی اس مخصوص فلاحی کاموں کے فنڈ میں ایک فرد شمار ہوتا ہے، لہذا اس چندے سے اس کو بھی فائدہ پہنچتا ہے، یہ سود ہرگز نہیں بلکہ الاحسان بالاحسان کے قبیل سے ہے، کہ جس طرح پالیسی ہولڈر نے تکافل کمپنی کے وقف پول میں چندہ دیا تو وہ اس کی طرف سے احسان اور نیکی تھی، اسی طرح تکافل کمپنی نے بحیثیت وکیل وقف پول کے چندے سے پالیسی ہولڈر کو اس احسان کے بدلے میں فائدہ پہنچایا۔ نیز اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے تمام انشورنس کمپنی پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی تکافل وِنڈو کھولیں ۔

    لہذا اگر مرحومہ نے جوبلی لائف انشورنس سے تکافل پالیسی خریدی تھی اور اس میں وکالہ مع الوقف ماڈل اختیار کیا تھا جو کہ اکثر یہی اختیار کیا جاتا ہے تو اس میں جس بھی فرد کو بینیفشری کے طور پر نامزد کیا اس کے فوائد کے حقدار وہی افراد ہوں گے اور ان کے یہ فوائد حاصل کرنا شرعا حلال ہوں گے۔ لیکن اگر اس کمپنی سے سودی انشورنس خریدی تھی تو جتنی رقم جمع کروائی تھی محض اتنی رقم تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی، کہ اس رقم میں مورِث(جسکی وراثت تقسیم ہونی ہے) کی ملکیت ثابت تھی، اضافی نفع چونکہ سود ہے لہذا بلا نیت ثواب فقراء میں تقسیم ہوگا۔

    (۵) سیونگ سرٹیفیکیٹ پر ملنے والے منافع ناجائز و حرام و خالص سود ہیں ۔لہذا جتنی رقم کے یہ سرٹیفیکیٹ ہیں وہ رقم تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی، اضافی منافع کی رقم بلا نیت ثواب فقراء میں تقسیم ہوگی۔

    دلائل و جزئیات:

    وراثت میں شوہر کے حصے کے متعلق ارشادباری تعالی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ.ترجمہ: اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : 11)

    بہن بھائیوں کے حصے کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِؕ.ترجمہ: اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر۔(النساء: 176)

    صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’ اگر کوئی شخص گم ہو جائے اور اس کی زندگی یا موت کا کچھ علم نہ ہو، تو وہ شخص اپنے مال کے اعتبار سے زندہ متصور ہو گا یعنی اس کے مال میں وراثت جاری نہ ہوگی، مگر دوسرے کے مال کے اعتبار سے مردہ شمار ہو گا یعنی کسی سے اس کو وراثت نہ ملے گی‘‘۔ (بهار شریعت، 3/1181، مكتبة المدينۃ کراچی)

    علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں: " فإن لم يجئ صاحبها فليتصدق بها والصدقة إنما تكون على الفقير كالصدقة المفروضة".ترجمہ: اگر مالک نہ آئے تو اس (لقطہ) کو صدقہ کر دیا جائے اور صدقہ صرف فقیر پر ہی کیا جاتا ہے، جیسے فرض صدقہ فقیر پر کیا جاتا ہے۔ (البحر الرائق، کتاب اللقطۃ، 5/170، دار الکتاب الاسلامی)

    انشورنس اور سیونگ سرٹیفیکیٹ سود ہیں اور سود کی حرمت میں اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:اَلَّذِیۡنَ یَاۡکُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا کَمَا یَقُوۡمُ الَّذِیۡ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الْبَیۡعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ وَاَحَلَّ اللہُ الْبَیۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا.ترجمہ:وہ جو سود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے،مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیا ہو، یہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع کو اور حرام کیاسود۔( البقرۃ:275)

    صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے:"« لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُؤْكِلَهُ، وَكَاتِبَهُ، وَشَاهِدَيْهِ» ، وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ »".ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےسود کھانے والے،کھلانے والے ،اس کی کتابت کرنے والےاور اس پر گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور فرمایایہ سب لوگ (گناہ میں) برابر ہیں۔(صحیح مسلم،کتاب البیوع، باب الربا، باب لعن آکل الربا وموکلہ، 3/1219، رقم الحدیث:1598، دار احیاء التراث العربی)

    قرض کی تعریف کے بارے میں علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"عَقْدٌ مَخْصُوصٌ يَرِدُ عَلَى دَفْعِ مَالٍ مِثْلِيٍّ لِآخَرَ لِيَرُدَّ مِثْلَهُ".ترجمہ:مخصوص عقد جو دوسرےکومثلی مال دینے پر وارد ہو،تاکہ وہ بعد میں اس کی مثل واپس کرے۔(تنویر الابصار مع در مختار،5/161،دار الفکر)

    انشورنش اور اور سیونگ سرٹیفیکیٹ میں قرض کی بنیاد پر سہولیات دی جاتی ہیں اور قرض پرمشروط نفع سود ہوتا ہے۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"كل قرض جر منفعة فهو ربا".ترجمہ:ہر وہ قرض، جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے ۔ (کنز العمال ،حرف الدال،الکتاب الثانی،الباب الثانی،فصل فی لواحق کتاب الدین،6/238،رقم:15516،مؤسسۃ الرسالۃ)(نصب الرایۃ،کتاب الحوالۃ،4/6،مؤسسۃ الریان)

    قرض پر مشروط و غیر مشروط نفع کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"(وَأَمَّا) الَّذِي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ: فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فِيهِ جَرُّ مَنْفَعَةٍ، فَإِنْ كَانَ لَمْ يَجُزْ، نَحْوُ مَا إذَا أَقْرَضَهُ دَرَاهِمَ غَلَّةٍ، عَلَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِ صِحَاحًا، أَوْ أَقْرَضَهُ وَشَرَطَ شَرْطًا لَهُ فِيهِ مَنْفَعَةٌ؛ لِمَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «نَهَى عَنْ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا» ؛ وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا؛ لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ، وَالتَّحَرُّزُ عَنْ حَقِيقَةِ الرِّبَا، وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ . هَذَا إذَا كَانَتْ الزِّيَادَةُ مَشْرُوطَةً فِي الْقَرْضِ، فَأَمَّا إذَا كَانَتْ غَيْرَ مَشْرُوطَةٍ فِيهِ وَلَكِنَّ الْمُسْتَقْرِضَ أَعْطَاهُ أَجْوَدَهُمَا؛ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ؛ لِأَنَّ الرِّبَا اسْمٌ لِزِيَادَةٍ مَشْرُوطَةٍ فِي الْعَقْدِ، وَلَمْ تُوجَدْ، بَلْ هَذَا مِنْ بَابِ حُسْنِ الْقَضَاءِ، وَأَنَّهُ أَمْرٌ مَنْدُوبٌ إلَيْهِ قَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلَامُ : «خِيَارُ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً»".ترجمہ: جس شرط کا تعلق خود قرض سے ہے وہ یہ ہے کہ اس سے کوئی فائدہ لینا مقصود نہ ہو وگرنہ قرض کا لین دین جائز نہ ہوگا۔مثلاً وہ اس کو اس شرط پر قرض دے کہ ناقص در اہم قرض دے کہ وہ اس کو اچھے دراہم لوٹائے گا یا وہ اس کو قرض دے اور ساتھ ایسی شرط عائد کردے کہ جس سے قرض دینے والے کو فائدہ پہنچتا ہو۔اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ روایت ہے کہ آپ نے ایسے قرض سے نے منع فرمایاہے جو نفع کو کھینچے۔ مال قرض میں مشروط اضافہ سود کے مشابہ ہے، کوینکہ یہ ایسا اضافہ ہے کہ جس کے مقابل کوئی بدل نہیں ہے، اور حقیقی ربا(سود) اور شبہ ربا دونوں سے اجتناب واجب ہے ۔یہ تو اس صورت کا حکم ہے کہ جب اضا فہ قرض کے معاملے میں شرط رکھا گیا ہو،اگر شرط تو نہ رکھا لیکن قرض لینے والا مقروض خود ہی اس کو عمدہ دراہم دے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ربا تو اس اضافے کو کہتے ہیں جو معاملہ قرض میں مشروط ہو،اور یہ یہاں نہیں پایا گیا، بلکہ یہ تو حسنِ قضاء کے باب سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہےکہ ’’لوگوں میں بہترین وہ ہیں جو قرض کی ادائیگی میں سب سے اچھے ہیں۔(بدائع الصنائع، كتاب القرض، فصل في الشروط،7/395،دار الکتب العلمیۃ)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:” اگر قرض دینے میں یہ شرط ہوئی تھی ، تو بے شک سود و حرامِ قطعی و گناہِ کبیرہ ہے ۔ ایسا قرض دینے والا ملعون اور لینے والا بھی اسی کے مثل ملعون ہے “۔(فتاوی رضویہ ،17/278، رضا فاؤنڈیشن لاھور )

    ناجائز طریقے سے حاصل شدہ مال کے متعلق علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"لِأَنَّ سَبِيلَ الْكَسْبِ الْخَبِيثِ التَّصَدُّقُ إذَا تَعَذَّرَ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ ".ترجمہ:جو مال ناجائز طریقے سے حاصل ہو اس مال سے خلاصی کا طریقہ صدقہ ہے جبکہ اسکے مالک کو لوٹانا متعذر ہو۔(ردالمحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/385،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’جس جس شخص کی نسبت معلوم ہو کہ فلاں سے اتنا مال سود یا رشوت یا غصب یا چوری میں اس کے باپ نے لیا تھا اس پر فرض ہے کہ ترکہ سے اتنا اتنا مال ان لوگوں یا ان کے وارثوں کو واپس دے اگرچہ وہ مال بعینہ جدا نہ معلوم ہو جو ان نا جائز طریقوں سے لیا ، اور جس مال کی نسبت بعینہ معلوم ہو کہ یہ خاص وہی مال حرام ہے توفرض ہے کہ اسے مال غیر وغصب سمجھے اگرچہ وہ لوگ معلوم نہ ہوں جن سے لیا تھا پھر بحالت علم ان مستحقوں یا ان کے وارثوں کو دے ورنہ ان کی نیت سے فقراء پر تصدق کرے‘‘۔(فتاوی رضویہ،23/535، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    تکافل اور انشورنس میں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی مدّ ظلہ العالی لکھتے ہیں:’’ تکا فل اورمروجہ انشورنس میں کئی وجوہ (پہلو) سے فرق ہے: (۱) تکافل محض عقدِ تبر ع(احسان) ہے ۔ (ا قول: ا سکا مطلب یہ ہواکہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کے لیے فنڈ (چندہ)ہوگی، قرض ہر گز نہیں ہو گی اور اگر تکافل کمپنی کو ھبہ(گفٹ) کی جائے ۔ تو یہ رقم اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گی اوراب اُس رقم کی مالک تکافل کمپنی ہو گئی اور یہ شخص اس رقم کے حوالے سے کسی قسم کا دعوٰی نہیں کر سکتا اگرچہ کمپنی اس کو فائدہ دے یانہ دے ۔یہ الگ بات ہے کہ کمپنی لوگوں کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے ان کو فائدہ پہنچانا ضروری سمجھتی ہے وگرنہ ان کے فنڈ میں کوئی اپنی رقم کیوں جمع کروائے گالیکن یہ فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس شخص نے تکافل کمپنی کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔اس کو یوں سمجھوکہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا) جبکہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے (ا قول : ا سکا مطلب یہ ہوا کہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے کمپنی پرقرض ہی ہے )اور شر عاَدو نوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔ (۲) تکافل میں دی جانے والی رقم ’’ وقف فنڈ‘‘کی ملکیت میں جاتی ہے کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی جبکہ مروجہ انشورنس میں ا س رقم کی مالک کمپنی ہوتی ہے۔ (۳) تکافل کا اصل مقصد تعاون علی البر والتقوی ہے، کوئی کاروبار نہیں اس لئے تکافل کے کاغذات میں ایسے الفاظ سے گریز کیاجاتاہے جن سے عقد معاوضہ یا کارو بار کا تاثر ملتاہو جیسے کہ بزنس یاکنٹریکٹ کے الفاظ جبکہ انشورنس کا اصل مقصد تجارت اور کا روبار ہے ۔ (۴) تکافل میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے جبکہ انشور نس میں کمپنی اصیل اور مالک ہے۔ (۵)تکافل نظام میں باقاعدہ شر عی بورڈہوتا ہے۔شریعہ بور ڈ کی نگرانی میں فنڈکو شر یعت کے مطابق جائز کا روبار میں لگایا جاتا ہے۔چنانچہ تکافل رولز ۲۰۰۵ء کی رو سے ہر کمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے ،جس میں کم سے کم تین ممبر ہوں جن کا عالمِ دین اور خریدوفروخت کے شرعی مسائل پر عبورحاصل ہونا ضروری ہے جبکہ انشو رنس میں اس طرح کی کسی قسم کی کو ئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح کی کو ئی پابندی ہے۔جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہا ں سر مایہ کاری ہوتی ہے اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کارو بار شر عا جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں ۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 جمادی الآخری 1447ھ/12 دسمبر 2025ء